کیا ناول نگار قرۃ العین حیدر نے ایوب کی وجہ سے پاکستان چھوڑا؟


اردو ادب کی ورجینیا وولف کہلانے والی عہد ساز ناول نگار قرۃ العین حیدر کی موت کے بعد بھی یہ سوال تشنہ طلب ہے کہ 1961 میں انہوں نے پاکستان چھوڑ کر ہندوستان کی شہریت کیوں اختیار کر لی تھی۔ بعض تاریخ دان انکے اس فیصلے کو ایوب آمریت کے دوران نافذ کردہ سخت سنسر شپ سے منسوب کرتے ہیں اور بعض اسے ذاتی مجبوریوں پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن وجہ جو بھی ہو، قرۃ العین حیدر پاکستان چھوڑ کر اپنی جنم بھومی واپس چلی گئیں اور پھر وہیں دفن ہوئیں۔
اس حوالے سے قدرت اللہ شہاب اپنی مشہور زمانہ کتاب شہاب نامہ کے باب ‘صدر ایوب اور ادیب’ میں لکھتے ہیں کہ جب مارشل لاء نافذ ہوا تو اس کے ساتھ ہی اخبارات پر بڑی کڑی سنسر شپ لگ گئی اور افواہیں پھیلانا بھی جرم بن گیا تھا۔ مارشل لاء لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے پاس آئیں۔ بال بکھرے، چہرہ اداس، آنکھیں پریشان۔ آتے ہی بولیں کہ اب کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا کہ کس بات کا کیا ہوگا؟ اس پر عینی نے کہا کہ اب ادبی چانڈو خانوں میں بیٹھ کر لوز ٹاک کرنا بھی جرم ٹھہرے گا؟ میں نے کہا ہاں، گپ شپ بڑی آسانی سے افواہ کے زمرے میں آکر قابلِ گردن زنی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس پر عینی نے بڑے کرب سے پوچھا،،، تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی عائد ہے؟ قدرت اللہ شہاب کے بقول میں نے مارشل لاء کے ضابطے کے تحت بھونکنے کے خطرات و خدشات کی کچھ وضاحت کی تو عینی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ آنسو چھپانے کے لیے اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے کہا۔ ارے بھئی، روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو ایک عجیب نعمت ہے۔ شہاب لکھتے ہیں کہ میرا اندازہ ہے کہ قرۃالعین حیدر کے تحت الشعور نے اس روز اس لمحے پاکستان سے کوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
پاکستان کے ادبی حلقوں میں یہ تاثر بڑا پختہ ہے کہ قرة العین حیدر نے اپنے مشہور زمانہ ناول ’آگ کا دریا‘ پر ہونے والی تنقید سے تنگ آکر 1961 میں پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ محققین قرۃ العین حیدر کی انڈیا دوبارہ منتقلی کا جواز ان کے ناول پر ہونے والی تنقید کو ہی قرسر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی لکھی لائنز کو پیش کیاجا تا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ مہاجر خود کو یہاں محفوظ نہیں سمجھتے۔ وہ اس علاقے میں بس گئے ہیں لیکن پرانے وطن کو بار بار یاد کرتے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ قرۃ العین حیدر نے ہجرت کے روحانی کرب کی اچھی تصویر کھینچی ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہی روحانی کرب ان کو ہندوستان لے گیا۔
اردو ادب کی سب سے بڑی فکشن رائٹر قرار پانے والی قرۃ العین حیدر 20 جنوری 1927ء کو اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔اندر پرستھ کالج دہلی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے لکھنئو یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ پھر ازابیلا تھبرن کالج میں بھی تعلیم حاصل کی اور 1947ء میں تقسیم یند کے بعد پاکستان آ گئیں۔ اس کے بعد کچھ وقت وہ برطانیہ میں بھی رہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو سے لندن میں ان کی ملاقات بھی ہوئی۔ کہتے ہیں کہ نہرو نے انھیں ہندوستان لوٹ آنے کے لیے کہا تھا اور پھر 1960ء میں عینی واپس بھارت چلی گئیں۔ وہ نوئیڈا منتقل ہونے سے قبل 20 برس ممبئی میں رہیں۔ نوئیڈا میں ہی ان کا انتقال ہوا۔ وہ ساری عمر کنواری رہیں۔ اپنے مشہور ناول ‘آخرِ شب کے ہم سفر’ کے لیے 1989ء میں انہیں بھارت کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ انعام سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں 1985ء میں پدم شری اور 2005ء میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔
آج بھی قرۃ العین حیدر کا شمار اردو ادب کے ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے اسلوب کے ذریعے افسانہ اور ناول نگاری کو ایک منفرد حیثیت بخشی۔ قرتۃ العین حیدر صرف ناول نگاری کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، میرے بھی صنم خانے، چاندنی بیگم اور کارِ جہاں دراز شامل ہیں۔ قرۃ العین حیدر کی تحریریں کئی دھایئوں بعد بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ادبی نقاد انہیں اردو کی ’ورجینیا وولف‘ بھی کہتے ہیں۔ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران 1959 انہوں نے اپنا شہرہ آفاق ناول آگ کا دریا لکھا۔ اس زمانے میں مختلف ادبی رسالوں اور اخبارات میں ناول آگ کا دریا کے موضوع اور اسلوب کے حوالے سے مزید عجیب و غریب تاویلیں کی گئیں۔ کسی نے لکھا کہ مصنفہ نظریہ تناسخ کی قائل ہیں۔ کسی نے کہا کہ مصنفہ بدھسٹ ہیں، ہندو ہیں، اسرائیل پرست ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کہا جاتا ہے کہ مصنفہ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے میں سراج رضوی نام کے ایک صاحب پیش پیش تھے، جنھوں نے 20اپریل 1960 کو جنگ اور مارننگ نیوز میں مضمون لکھا جس میں انھیں پاکستان اور اسلام دشمن قرار دے کر ناول پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن اس مذموم مہم کی گرد تب بیٹھ گئی جب خاتون ناول نگار کی طرف سے قانونی نوٹس ملنے پر سراج رضوی نے معافی مانگ لی۔
ایک اور روایت کے مطابق مصنفہ کو اس ناول کی اشاعت کے بعد پاکستان میں بے حد ستایا کیا گیا۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا اور بے چاری کو ہندوستان میں پناہ لینی پڑی۔ ہندوستان میں اب تک یہی بات مشہور ہے کہ پاکستان میں انکے ناول پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پھر یہ جھوٹی کہانی بھی گھڑی گئی کہ اس کتاب کی رائلٹی نے دونوں ممالک میں مصنفہ کو مالا مال کر دیا۔ لیکن عبرتناک حقیقت یہ ہے کہ دسمبر 1959سے لے کر آج تک مکتبہ جدید لاہور نے اس ناول کے قطعی فری ایڈیشن شائع کیے ہیں۔ جدید اردو ادب کی تاریخ میں یہ پہلا کثیر الاشاعت ناول ہے جس کی رائلٹی کا ایک پیسہ اس کے لکھنے والے کو آج تک نہیں ملا۔
قرۃ العین حیدر کی پاکستان سے انڈیا منتقلی کے حوالے سے یہ کہانی زیادہ مشہور ہے کہ آگ کا دریا ان کی انڈیا منتقلی کا سبب بنا۔ لیکن اس بارے میں قرۃ العین حیدر کا قلم اور زبان دونوں خاموش ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی پاکستان سے اپنی انڈیا منتقلی کے بارے میں کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا اور نا ہی اس سلسلے میں کوئی تحریر لکھی۔ انڈیا منتقلی سے قبل وہ انگلستان گئی تھیں۔ اپنی انگلستان روانگی کی کہانی وہ اپنی سوانح عمری کارِ جہاں دراز میں یوں لکھتی ہیں کہ ایک سہانی صبح نمبر 16 ڈی گارڈن پر شمس الدین مالی کیاریوں میں پانی دے رہے تھے۔ جب اپنے کمرے کے دریچے میں کھڑے کھڑے میں نے دفعتاً طے کیا کہ اماں کو علاج کے لیے انگلستان لے جانا چاہیے۔ اور اگر وہاں مستقلاً قیام کیا جائے تو مضائقہ نہیں۔ ان کی موت کو بھی کئی دھائیاں گزر گئے لیکن آج بھی ادبی حلقوں میں یہ بحث ہوتی ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بناء پر قرۃ العین حیدر کو پاکستان چھوڑنا پڑا اور دوبارہ انڈیا کی شہریت اختیار کرنی پڑی۔
معروف ادیب اور دانشور آصف فرخی اور ان کے خاندان کے قرۃ العین حیدر سے گہرے مراسم تھے۔ جب ان پوچھا گیا کہ آخر قرۃ العین حیدر کی دوبارہ انڈیا منتقلی کے اسباب کیا تھے تو ڈاکٹر صاحب نے اسے ایک سربستہ راز قرار دیا اور کا کہ خود عینی نے اس بارے میں کبھی لب کشائی نہیں کی۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان سے جب بھی اور جتنی ملاقاتیں ہوئیں، وہ پاکستان کا ذکر بڑی محبت سے کرتی تھیں۔
عینی کے ہم عصر بعض سینئر لکھاری نجی محافل میں بتایاکرتے تھے کہ یہ معاملہ صرف آگ کا دریا کا نہیں تھا۔ عینی خوش شکل تھی۔ غیر شادی شدہ تھی۔ نہ صرف رائٹرز گلڈ بلکہ جن محکموں میں انہوں نے ملازمت کی، کچھ افسران ان سے شادی کرنا چاہتے تھے یا ان سے رسم و راہ رکھنا چاہتے تھے۔ عینی دونوں صورتوں کے لیے تیار نہیں تھی۔ایک اور پہلو یہ تھا کہ عینی کے والد سنی العقیدہ تھے اور ان کی والدہ اہل تشیع۔ لہٰذا کس عقیدے والے کا رشتہ قبول کیا جائے؟ عینی ہمیشہ ایسے سوالوں سے اجتناب برتتی تھیں، جن میں ان کی شادی اور انڈیا منتقلی کا ذکر ہوتا تھا۔ عینی کی انڈیا منتقلی کی بڑی وجہ تو آگ کا دریا نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے پدرسری معاشرے میں جی رہی تھیں، جس میں خاتون کتنی ہی قابل کیوں نہ ہو، اسے صنف نازک اور اپنی ملکیت ہی تصور کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button