کیا نعیم بخاری کی نوکری خطرے میں پڑ گئی ہے؟

میرٹ کے برخلاف محض کپتان سے قربت کی وجہ سے پی ٹی وی کا چیئرمین لگنے والے 65 سالہ معروف وکیل اور میزبان نعیم بخاری نے پی ٹی وی میں چند کلیدی عہدوں پر فائز افسران کو فارغ کرکے اپنے لئے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کر لیا ہے.
نعیم بخاری نے اپنی تقرری کے فوری بعد بھاری تنخواہیں لینے والے ٹیلی ویژن کے بڑے افسران کو فارغ کر دیا تھا. اب نعیم بخاری کے تقرر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کردی گئی ہے جس کے باعث ان کی اپنی نوکری خطرے میں پڑ گئی ہے. جسٹس شمس محمود مرزا نے شہری عثمان غنی کی درخواست پر کیس کی ابتدائی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کو درخواست کے ساتھ دستاویزات منسلک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ آگاہ کیا جائے کہ پی ٹی وی، پبلک سیکٹر کمپنی ہے یا کارپوریشن ہے، اس کے بعد عدالت درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ کرے گی۔ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت، وفاقی سیکریٹری اطلاعات، سیکریٹری داخلہ اور چیئرمین پی ٹی وی نعیم بخاری کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے ذاتی پسند کی بنا پر نعیم بخاری کو چیئرمین پی ٹی وی مقرر کیا، وہ اس عہدے کی کوالی فکیشن پر پورا نہیں اترتے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین کی تعیناتی کے حوالے سے کسی قسم کا اشتہار نہیں دیا گیا جبکہ نعیم بخاری کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرر کمپنی ایکٹ 2017 کے سیکشن 166 کی بھی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ نعیم بخاری کی بطور چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن تقرر کو کالعدم قرار دے۔
خیال رہے کہ پاناما پیپرز لیک کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ و وزیر اعظم عمران خان کی قانونی ٹیم کی سربراہی کرنے والے نامور وکیل نعیم بخاری کو 23 نومبر 2020 کو سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔یہ تقرر بظاہر جلد بازی میں کیا گیا ہے کیونکہ وفاقی کابینہ نے تقرر سے ایک ہفتے قبل اپنے اجلاس میں ان کے تقرر کے لیے ایک سمری پر غور کیا تھا لیکن انہوں نے ان کی پی ٹی وی چیئرمین کی حیثیت سے شمولیت کی توثیق نہیں کی تھی۔وزارت اطلاعات نے پی ٹی وی کے تین آزاد ڈائریکٹرز کے تقرر کے لیے سمری پیش کی تھی جس میں نعیم بخاری، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سید وسیم رضا اور ممتاز مصنف اصغر ندیم سید کو اصولی اُمیدوار نامزد کرنے کی سفارش کی گئی تھی، نعیم بخاری اور اصغر ندیم سید کی عمر 65 برس سے زیادہ ہے اور اسی وجہ سے اس وزارت نے ان کی عمر کے بارے میں وفاقی کابینہ سے نرمی طلب کی تھی۔تاہم ڈائریکٹرز اور پی ٹی وی کے چیئرمین کے تقرر کے لیے سمری دوبارہ جاری کرنے سے متعلق کابینہ کے مشاہدات کے برخلاف وزارت اطلاعات نے بذات خود نعیم بخاری کی بطور چیئرمین نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ برس ستمبر میں پی ٹی وی کے چیئرمین ارشد خان اور بورڈ کے اراکین زوہیر اے خلیق، پروفیسر اعجازالحسن، سید محمد علی بخاری، میاں یوسف صلاح الدین، راشد علی خان اور فرمان اللہ جان جان کی تقرریوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
نعیم بخاری پی ٹی وی میں اپنے متازعہ اقدامات کی وجہ سے بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر منظور کی معطلی سے ادارے میں نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے جس کی وجہ نعیم بخاری کو قرار دیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ عامر منظور نے نے ادارے کے چیئرمین نعیم بخاری کی جانب سے معطل کے جانے سے قبل 7 پروفیشنلز کی برطرفی کی مخالفت کی تھی۔ رواں برس یکم جنوری کو نعیمم بخاری کے ایما پر پی ٹی وی بورڈ نے مقرر کردہ حدود سے زیادہ اختیارات استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے عامر منظور کو معطل کردیا تھا۔بورڈ نے برطرفی کے لیے ایک یارڈ اسٹک وضع کیا جس کے مطابق کانٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے زیادہ سے زیادہ تنخواہ 3 لاکھ 50 ہزار روپے رکھی گئی تھی۔اس کے بعد پی ٹی وی بورڈ نے پروفیشنلز اورکانٹریکٹ پر کام کرنے والے ان ملازمین کی خدمات کو برخاست کردیا، جو ماہانہ ساڑھے 3 لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ لے رہے تھے۔ اس اجلاس کے منٹس کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر عامر منظور اس پر اختلاف کرنے والے واحد فرد تھے تاہم بورڈ نے فیصلہ کیا کہ چیف مارکیٹنگ، سٹریٹجی اینڈ کانٹینٹ خاور اظہر، سابق کرکٹر راشد لطیف، چیئرمین ہیومن ریسورس افسر محمد طاہر مشتاق، چیف آف نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز قطرینہ حسین، چیف ٹینکالوجی افسر ناصر اے نقوی، ایگزیکٹو پروڈیوسر کرنٹ افیئرز اینڈ انوٹینمنٹ خرم انور، ہیڈ آف اسٹریٹجی اینڈ کارپوریٹ کمیونکیشن عاصم بیگ اور جنرل منیجر کرنل (ر) محمد ندیم نیازی کو برطرف کیا جائے۔
ان کی برطرفی کے لیٹر 7 دسمبر 2020 کو ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ پرسونل اور چیئرمین کے دستخطوں کے ساتھ جاری کیے کئے گے تھے۔
ایک اور درخواست میں پی ٹی وی بورڈ کے اراکین نعیم بخاری، قائم مقام ایم ڈی شاہیرہ شاہد، کرنل (ر) حسن عماد محمدی، اسد احمد جسپال، اصغر ندیم سید اور سید وسیم عابد کی تعیناتیوں کو چیلنج کیا جاچکا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ پی ٹی وی بورڈ کے اراکین بشمول چیئرمین کی تعیناتی سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے مختلف فیصلوں کی خلاف ورزی میں کی گئی جس میں اس طرح کی تعیناتیوں کے لیے گائیڈلائنز وضع کی گئی تھیں۔درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ کی ہدایت کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ اسامی کا پریس میں اشتہار نہیں دیا گیا اور خالی عہدے کے لیے درخواستیں وصول کرنے کے بغیر تعیناتی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس کے منٹس میں کوئی قابل فہم وجہ بتائے بغیر 65 سالہ نعیم بخاری کے لیے عمر کی حد میں نرمی کردی تھی حالانکہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں تھے.
