کیا نواز شریف کو الیکشن نہیں لڑنے دیا جائے گا؟

عمران خان جیل میں ہیں، اور الیکشن کے کئی ماہ بعد تک جیل میں ہی رہیں گے، نہ وہ الیکشن لڑ سکیں گے اور نہ ان کی پارٹی کے اکثر راہ نما پارٹی ٹکٹ کے امیدوار ہوں گے . اس ملک کے کچھ ’خیر خواہ‘ اب بھی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ’نواز شریف جیل جائے گا، اسے انتخاب نہیں لڑنے دیا جائے گا، اسے وزیرِ اعظم نہیں بننے دیا جائے گا‘. بغضِ نواز میں ایسی بد دعائیں تو کی جا سکتی ہیں، مگر اسے معروضی تجزیہ کہنا زیادتی ہو گی کیوں کہ آثار کچھ اور بتا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار سید حماد غزنوی نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ یہ نواز شریف کی بیرونِ ملک سے چوتھی معروف واپسی ہو گی، پہلی دفعہ 2007 میں قریباً سات سالہ جلا وطنی کے بعد واپسی ہوئی مگر انہیں ایئر پورٹ سے ہی ملک بدر کر دیا گیا، اگلے سال وہ پھر پاکستان آئے اور انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت تو دے دی گئی مگر انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی، پھر 2018 میں طاقتوروں کی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، کلثوم نواز صاحبہ کو برطانیہ میں بسترِ مرگ پر چھوڑ کر جیل جانے کے لیے پاکستان آئے جہاں ہوائی اڈے پر ایک چاق چوبند رسالے نے انہیں ان کی بیٹی سمیت حراست میں لے لیا، اور اب وہ چار سالہ جلا وطنی کے بعد پرسوں پھر پاکستان واپس آ رہے ہیں۔ یعنی سادہ لفظوں میں، نواز شریف کا آنا جانا لگا ہی رہتا ہے، ویسے اگر کسی سے سنجیدگی سے سوال کیا جائے کہ آپ کے نزدیک وہ کیا وجوہ تھیں جن کے باعث نواز شریف کو جیل اور جلا وطنی بھگتنا پڑی، تو اس کا جواب کیا ہو گا؟ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ 1999 میں جب ملک جنرل عزیز کے مکمل تصرف میں آ چکا تھا تو اس کے بعد نواز شریف نے فضا میں ایک طیارہ اغوا کر لیا تھا؟ کیا کوئی اپنے پورے ہوش وحواس میں یہ سمجھتا ہے کہ پرویز مشرف نے نو سال تک اس ملک کو اس لیے اپنے پنجوں میں جکڑے رکھا کیوں کہ نواز شریف ہائی جیکر تھا؟ اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو ہم انتہائی اخلاص سے اس کی شفائے کاملہ کے لیے دعا گو ہیں‘. حماد غزنوی کہتے ہیں کہ 2018 میں کیا نواز شریف کے خلاف سازش اس لیے کی گئی کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی تھی؟ اس لیے کہ نواز شریف کرپٹ تھا؟ اس لیے کہ نواز شریف مودی کا یار تھا؟روزِ اول سے نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے اور پسِ دیوارِ زنداں دھکیلنے کی یہ وجوہات قوم کی اجتماعی ذہانت کی توہین کے مترادف رہی ہیں۔ خیر بعد میں تو سازشیوں نے خود اپنی سازش کا اعتراف کر لیا، ایک صاحب نے اپنے انٹرویو میں واشگاف لفظوں میں بتایا کہ ہم نے یہ حرکت عمران خان کے عشق میں کی تھی حالانکہ یہ بھی پورا سچ نہیں ہے، کیوں کہ سازش صرف نواز شریف کے خلاف نہیں ہوئی تھی، سازش تو سی پیک کے درجنوں منصوبوں کے خلاف ہوئی تھی، موٹر ویز اور کارخانوں کے خلاف ہوئی تھی، جمے جمائے پاکستان کے خلاف ہوئی تھی، یعنی کروڑوں پاکستانیوں کے خلاف ہوئی تھی۔ بہرحال، ربع صدی پر پھیلی ہوئی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ہدف نواز شریف، پاکستان واپس آ رہا ہے اور اس ملک کے کچھ ’خیر خواہ‘ اب بھی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ’نواز شریف جیل جائے گا، اسے انتخاب نہیں لڑنے دیا جائے گا، اسے وزیرِ اعظم نہیں بننے دیا جائے گا‘ وغیرہ وغیرہ۔ حماد غزنوی کے مطابق بغضِ نواز میں یہ بد دعائیں تو کی جا سکتی ہیں، مگر اسے معروضی تجزیہ کہنا زیادتی ہو گی۔قرائن کچھ اور بتا رہے ہیں، نواز شریف عرب دنیا کے طاقت ور لوگوں سے بڑے پروٹوکول کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہوئے وطن لوٹ رہے ہیں جب کہ سپریم کورٹ اور عساکر بھی نواز دشمنی سے آگے نکل چکے ہیں، ویسے بھی تاریخ بتاتی ہے کہ دو مرکزی سیاسی لیڈر ایک ہی وقت میںجیل یاترا پر نہیں جاتے، شیخ مجیب الرحمٰن جیل میں ہوں تو ذوالفقار بھٹو آزاد ہوتے ہیں، نواز شریف جیل میں ہوں تو عمران خان وزیرِ اعظم ہائوس میں ہوتے ہیں، اور آج عمران خان جیل میں ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کون جیتے گا؟ سنتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ سمجھے جانے کی وجہ سے عمران خان کو مقبولیت حاصل ہو چکی ہے اور وہ اگر کھمبے کو بھی ٹکٹ دیں گے تو وہ الیکشن جیت جائے گا۔ بلا شبہ، یہ سادہ دلی کی باتیں ہیں۔ حقیقت کچھ اس طرح سے ہے کہ بد قسمتی سے ’ابُو نو مئی‘ جیل میں ہیں، اور الیکشن کے کئی ماہ بعد تک جیل میں ہی رہیں گے، نہ وہ الیکشن لڑ سکیں گے اور نہ ان کی پارٹی کے اکثر راہ نما پارٹی ٹکٹ کے امیدوار ہوں گے، اور رہی بات ’کھمبوں‘ کی تو کاش ایسا ہو سکتا، مگر ایسا نہیں ہوتا، کھمبوں کی تاریں کٹ جاتی ہیں، کھمبے اُکھڑ جاتے ہیں، زمیں بوس ہو جاتے ہیں اور لوہاروںکا رزق بن جاتے ہیں۔ اس صورتِ احوال میں اب آپ ہی بتائیے کہ اگلا الیکشن کن جماعتوں کے درمیان ہو گا اور کون جیتے گا؟ حماد غزنوی کے مطابق خبر یہ ہے کہ فیصلہ سازوں کا اس نکتے پر اجماع ہو چکا ہے کہ اب خطے میں تجارت کے بغیر پاکستان کے معاشی مسئلے پر قابو پانا ناممکن ہو چکا ہے۔اس بات سے دو منظر یاد آ رہے ہیں۔ پہلا منظر یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے وزیرِ اعظم واجپائی 20فروری 1999 کو دوستی بس میں پاکستان آ رہے ہیں، واجپائی اپنے سرکاری پروگرام سے ہٹ کر مینارِ پاکستان جا رہے ہیں، پاکستان کی خوش حالی کے لیے دعا کر رہے ہیں، اور بین الاقوامی میڈیا اسے برصغیر میں امن کا آغاز قرار دے رہا ہے۔ اور پھر تین ماہ بعد کارگل ’جنگ‘ ہو رہی ہے۔ دوسرا منظر یوں ہے کہ نریندر مودی 25 دسمبر 2015 کو اچانک پاکستان آتے ہیں نواز شریف کو انکی سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہیں، ان کی پوتی کی شادی میں شرکت کرتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں۔یہ پاک و ہند کی تاریخ میں امن کے حوالے سے دو سب سے بڑے مواقع قرار دیے جا تے ہیں . بہرحال نواز شریف واپس آ رہے ہیں۔اور ان کی آمد پر دل میں ایک عجیب سی خواہش شدت پکڑتی جا رہی ہے، خواہش یہ ہے کہ بلوچستان سے ایک آدمِ خاکی اپنی ایک 2018 کی شہرہء آفاق ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرے ، یعنی…وتعز من تشا وتذل من تشا۔

Back to top button