ملک میں ایک بار پھر مفاہمتی کھچڑی کون پکا رہا ہے؟

پاکستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں کیلئے قابل قبول بنانے کیلئے جہاں ایک طرف الیکشن کمیشن متحرک ہو گیا ہے وہیں دوسری طرف نگراں حکومت نے بھی مفاہمتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کے مرزکی رہنما ششففقت محمود کے بعد نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب کہ اس سے ایک روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے بھی مرتضیٰ سولنگی سے ملاقات کی تھی اور یہ انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گرینڈ نیشنل ری کنسیلی ایشن ڈائیلاگ کا آئیڈیا وزیر اطلاعات کو پیش کیا۔شفقت محمود کے مطابق ان کی تجویزکی مرتضیٰ سولنگی نے بھی تائید کی۔
تاہم رابطہ کرنے پر مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ان کی کابینہ کے پاس گرینڈ قومی مفاہمتی مذاکرات کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، انہوں نے گزشتہ روز ہونے والی ملاقات سے متعلق پی ٹی آئی رہنما کی بات کی تردید نہیں کی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری کابینہ کا ایسا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، ہم نے اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔مرتضٰ سولنگی نے کہا کہ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بطور وفاقی وزیر نہیں بلکہ پرانے دوست ہونے کی حیثیت سے ملاقاتیں کیں، انہوں نے کہا کہ تمام ہی سیاسی جماعتوں میں ہمارے دیرینہ دوست موجود ہیں۔ نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری انتخابات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور انتخابی عمل کی نگرانی کرنا ہے۔ پرامن انتقال اقتدار نگران حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو یقین دلایا کہ نگران مکمل طور پر حکومت صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ ماحول میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اقتدار کی منتقلی اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد عموماً انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبادلے کیے جاتے ہیں اور اہم عہدوں پر من پسند افسران کو تعینات کیا جاتا ہے۔ من پسند افسران کی تعیناتی کے بعد کسی بھی فیصلے کے عملدرآمد میں آسانی ہوتی ہے، بعد ازاں اگلی حکومت سب سے پہلے گزشتہ حکومت کے تعینات کیے گئے افسران کا تبادلہ کرتی ہے، اس کے بعد ہی دیگر معاملات سرانجام دیتی ہے۔
پاکستان کی 15ویں قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے سے 3 دن قبل تحلیل ہو چکی ہے،اور اب ملک میں بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ دارای ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی اسی ذمہ داری سے عہدہ براہ ہونے اور عام انتخابات کو غیر جانبدار رکھنے کے لیے چاروں صوبوں کی نگران حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو تبدیل کیا جائے اور موجودہ پوسٹوں سے دوسرے مقامات پر ٹرانسفر کر دیا جائے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی، بے قاعدگی اور بے ضابطگی کے امکانات ختم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے سینئر افسروں کو موجودہ عہدوں سے ہٹا کر دوسرے مقامات پر ٹرانسفر کر دیا جائے۔اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کو مراسلے بھیج دیے ہیں اور ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو موجودہ مقامات سے ہٹا کر ان کی دوسرے علاقوں میں پوسٹنگز اور ٹرانسفرز کی جائیں تاکہ آئندہ انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے،انتخابات کی شفافیت کے لیے سینئر افسروں کے تبادلے ضروری ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ انتخابات میں تمام پارٹیوں اور امید واروں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے لیول پلینگ فیلڈ کو یقینی بنایا جائے گا، علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے سندھ میں ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کے تبادلوں پر پی پی پی کے اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سمجھنا چاہیے، الیکشن کے لیے صوبے میں نگران حکومت نے اختیارات سنبھال لیے ہیں، نگران حکومتیں الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے آئین اور قانون کا تقاضا پورا کر رہی ہیں۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق وفاقی بیورو کریسی میں بھی ردو بدل ہو گا، متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، کیئر ٹیکرز سے کہا گیا ہے کہ سیاسی تقرریاں ختم کی جائیں گی، اس ضمن میں سندھ اور بلوچستان کے چیف سیکریٹریز کو بدل دیا گیا ہے، باقی بھی تبدیل ہوں گے، فیڈرل بیورو کریسی میں ایک ماہ تک بڑے تبادلوں کی توقع کی جارہی ہے۔
