کیا نواز شریف کے اقتدار کی راہ ہموار ہو چکی؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی آئندہ الیکشن میں شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئی ہے۔ حکمران اتحاد نے ایک مرتبہ پھر آئین کی شق 62 کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی عمر بھر کی نااہلی نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کی ہے جبکہ حکومت نے الیکشن ایکٹ کو جون کے آخر تک بک کا حصہ بنانے کی حکمت عملی بھی تیار کر لی ہے۔
خیال رہے کہ پارلیمنٹ کی اس سلسلے میں پہلی دو کوششیں اس وقت سپریم کورٹ نے ناکام بنادیں جب اس نے سپریم کورٹ ریویوججمنٹ اینڈ آرڈر بل 2023 اور چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے کے بل سماعت کے لیے منظور کیے۔ یہ دونوں قانون سازیاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی ختم کرنے کی کوشش قراردی گئی تھیں تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ سپریم کورٹ حالیہ قانون سازی کو کیسے دیکھتی ہے جو انتخابات کے لیے نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے کی گئی ہے۔
حکمران اتحاد کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئین کی شق 62 کے تحت کسی شخص کو عمر بھر کےلیے نا اہل قرار دینا ارکان پارلیمنٹ سے زیادتی ہے۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں قانون میں ابہام تھا اور اب پارلیمنٹ نے نااہلی کے لیے 5 سالہ مدت کا تعین کرکے اسے ختم کر دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا سپریم کورٹ نے اس قانون سازی کا نوٹس لیا ہے تو ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور اس کے پاس قانون سازی اور قانون میں موجود کسی بھی ابہام کو ختم کرنے کا اختیار ہے۔یہ عمل بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا موجودہ قانون سازی نوازشریف کی آئندہ انتخابات میں شرکت یقینی بنانے کےلیے کی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس سے صرف نوازشریف کو ہی فائدہ نہیں ہوگا۔ مستقبل میں بھی اگر کوئی لیڈر نااہل ہوتا ہے تو وہ بھی اس سے فائدہ اٹھائے گا اور یوں یہ کسی ایک شخص کےلیے ہونے والی قانون سازی نہیں ہے۔
خیال رہے کہ سینیٹ نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی مخالفت اور شدید احتجاج کے باوجود انتخابی ایکٹ ترمیمی بل 2023ء کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے بل کے تحت جہاں نااہلی کی مدت 5 سال کی گئی ہے وہیں صدر سے الیکشن کے انعقاد کی تاریخ دینے کا اختیار بھینسا لگایا ہے۔بل کے مطابق الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن نیا شیڈول اور عام انتخابات کی تاریخ کااعلان کرے گا جبکہ الیکشن پروگرام میں ترمیم بھی کر سکے گا۔بل کے ذریعے تاحیات نااہلی کا باب بھی بندکردیاگیا‘بل کے متن کے مطابق آئین میں جس جرم کی مدت سزا متعین نہیں، اس میں نااہلی پانچ برس سے زیادہ نہیں ہوگی‘متعلقہ شخص قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل ہو گا۔
دوسری طرف حکومت نے جون کے آخر تک الیکشن کمیشن ایکٹ میں ترمیم کی حکمت عمل بنالی۔الیکشن کمیشن ایکٹ اور سینیٹ کے ارکان کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق بلز جون کے آخر تک کتاب کا حصہ بننے کا امکان ہے۔فنانس بل کی منظوری کے فوری بعد یہ بل ماہ کے آخری ہفتے میں قومی اسمبلی کے سامنے رکھے جائیں گے۔
باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے بغیر کسی تاخیر کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیے گئے بلوں کے لیے صدارتی منظوری حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔یہ بل ان دنوں ایوان صدر کو منظوری کے لیے بھیجے جائیں گے جب صدر عارف علوی ملک سے باہر ہوں گے جیسا کہ وہ اگلے ہفتے کے آخر میں حج کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ اس طرح حکومت قانون سازی کرنے میں کامیاب ہو گی۔
واضح رہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے متعدد مواقع پر اپنے آئینی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے حکومتی کارروائیوں میں رکاوٹیں ڈالی ہیں جن میں منظوری کے بغیر بلوں کو مسترد کرنا، اپنے اعتراضات کو منسلک کرنا شامل ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ عارف علوی نے گزشتہ ماہ ایک بل کی منظوری دی تھی اور اس سے حکومت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا رویہ ترک کرنے کا اشارہ ملا ہے۔
