کیا نور مقدم کے قاتل کو سزا خواتین کے حقوق کا تحفظ کر سکے گی؟

صنف نازک کے وحشیانہ قتل پر ٹرائل کورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزائے موت کی سزا پانے والے سفاک مجرم ظاہر جعفر کو سزا تو یقینی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ظاہر جعفر کو سزائے موت پاکستان میں خواتین کے حقوق کا تحفظ کر سکے گی۔آج سے دو برس قبل پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک 27 سالہ خاتون کے قتل کی خبر نے میڈیا پر تہلکہ مچا دیا تھا، اس کے بعد کافی عرصے تک قتل کی واردات سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی رہی اور پاکستان کے چند بڑے شہروں میں اس ہولناک واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔
یہ خاتون پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم تھیں۔ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور کے ایک گھر میں ظاہر جعفر نامی شخص نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا، اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے جنہوں نے قتل کی اس واردات کا نوٹس لیا تھا۔طویل عدالتی کارروائی کے بعد بالآخر 24 فروری 2022 کو عدالت نے ظاہر جعفر کو قتل کا الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی، اس کے علاوہ ریپ کا الزام ثابت ہونے پر 25 سال قید بامشقت، اغواء کے جرم میں 10 سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔ظاہر جعفر نے اسلام آباد کی مقامی عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔
اس اپیل کی سماعتیں بھی وقفوں وقفوں سے جاری رہیں اور لگ بھگ 11 ماہ بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنا محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کر دی اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سزا میں اضافہ کرتے ہوئے ریپ کے جرم میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 25 برس قید کی سزا کو سزائے موت میں بدل دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ظاہر جعفر نے 16 اپریل 2023 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور اب یہ کیس سپریم کورٹ میں ہے۔
نور مقدم کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے قتل کے بعد سول سوسائٹی اور حکومت کے محکمے غیرمعمولی طور پر متحرک نظر آئے لیکن وفاقی دارالحکومت میں اس کے بعد بھی خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے۔رواں برس 21 فروری کو بھی اسلام آباد کے شالیمار پولیس سٹیشن میں ایک ایسی ایف آئی آر درج ہوئی تھی جس میں ایک لڑکی کو ملازمت کے بہانے بلا کر دو افراد کی جانب سے ریپ کیے جانے کا واقعہ درج ہوا تھا۔جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں اس وقت اسلام آباد کے ایک سکول کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی خبر سامنے آ رہی ہے، مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس واقعے میں ملوث چار میں سے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ دو افراد کی جنسی زیادتی کا واقعہ بھی بدھ (19 مئی 2023) کو رپورٹ ہوا ہے۔ اس واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج ہوا ہے۔انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’نچلی عدالتوں سے مجرم کے خلاف فیصلے آنا خوش آئند ہے لیکن یہ فیصلے مؤثر مثال اس وقت بنیں گے جب مجرم کو باقاعدہ سزا دی جائے۔فرزانہ باری پاکستان میں خواتین کے تحفظ سے متعلق بہت زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس کیس میں مجرم کو سزا ملتی ہے تو لوگوں میں یہاں کے عدالتی نظام پر اعتماد بڑھے گا کہ ایک امیر آدمی کو بھی اس کے جرم کی سزا دی جا سکتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ بار کی نائب صدر ربیعہ باجوہ ایڈووکیٹ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم کا خاندان اخلاقی طور پر مضبوط ہے اور اس نے کمپرومائز نہیں کیا، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں خاندان مضبوط تھے، اس لیے متاثرہ خاندان کو دباؤ میں لانا آسان نہ ہوا ہو اگر بالفرض اس کیس میں فریقین کے درمیان کوئی سمجھوتا ہو بھی جاتا تو بھی اس قتل کے شواہد اس قدر واضح ہیں کہ سزا سے مجرم کا بچنا آسان نہیں۔

Back to top button