کیا وزیراعظم ہاؤس کی جاسوسی سمارٹ فونز سے ہوئی؟

وزیراعظم ہاؤس آڈیو ریکارڈنگز سکینڈل کی تحقیقات کرنے والے انٹیلی جنس ذرائع یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہیں جاسوسی کے لیے شہباز شریف یا ان کے ملاقاتیوں کے سمارٹ فونز استعمال نہیں ہوئے کیونکہ اب ایسی جدید ریکارڈنگ ڈیوائسز آ چکی ہیں جو کسی بھی موبائیل فون کو ہیک کر کے اسے ریکارڈنگ ڈیوائس بنا دیتی ہیں۔ معاملے کی تحقیقات کرنے والے انٹیلی جینس افسران کا کہنا ہے کہ غیر محسوس انداز سے سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس حتیٰ کہ لیپ ٹاپس کو بھی آسانی سے ریکارڈنگ ڈیوائس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے چاہے، یہ ڈیوائسز بند ہی کیوں نہ ہوں، یا پھر یہ انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی کیوں نہ ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر لینڈ لائن کالز یا موبائل کالز کو محفوظ نہیں سمجھا جاتا لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اب واٹس ایپ ایپلی کیشن بھی ریکارڈنگ کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کیلئے سمارٹ فون میں ایک فائل کے ذریعے میلوں دور بیٹھے ہوئے ایک خفیہ سافٹ ویئر کو انسٹال کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام موبائل فون صارف کے علم میں لائے بغیر تب ہو جاتا ہے جب اس کے واٹس ایپ نمبر پر نامعلوم نمبر میسج بھیجا جاتا ہے اور وہ اس چیک کرتا ہے۔
وزیراعظم ہائوس سے لیک ہونے والی آڈیو ٹیپس کے سکینڈل کی وجہ سے انٹیلی جنس ایجنسیاں خود بھی تحقیقات کی زد میں آ گئی چونکہ وزیراعظم ہاؤس کو جاسوسی آلات سے محفوظ بنانا انٹیلی جنس بیورو کا کام ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس واردات میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرنے کے لئے انٹیلی جنس بیورو کے علاوہ آئی ایس آئی کو بھی ذمہ داری سونپ دی ہے، لیکن کچھ حکومتی شخصیات سمجھتی ہیں کہ اس واردات میں سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نیٹ ورک بھی شامل ہو سکتا ہے جس میں شامل بہت سارے لوگ اب بھی وزیر اعظم ہاؤس میں تعینات ہیں۔
اسی خدشے کے پیش نظر وزیراعظم ہائوس کے ہر سٹاف ممبر کی سکریننگ کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔ خفیہ ایجنسیاں اس وقت یہ پتہ لگا رہی ہیں کہ وزیراعظم ہائوس میں جاسوسی کے آلات کیسے نصب کیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ آفتاب سلطان کے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو بننے کے بعد سے روزانہ صبح وزیراعظم ہائوس اور وزیر اعظم آفس کی تلاشی لی جاتی ہے کہ کہیں کوئی جاسوسی ڈیوائس تو نصب نہیں کی گئی لیکن وزیراعظم، وزیراعظم آفس کے اسٹاف اور دیگر کے موبائل فونز کو جاسوس ڈیوائسز سے پاک کرنے کے حوالے سے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے میں اگر وزیراعظم ہاؤس کا کوئی سٹاف ممبر اپنے موبائل سمیت کسی میٹنگ میں چلا جاتا ہے تو وہاں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ نہایت آسان عمل ہے۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق آج کے دور میں جاسوسی کا خطرناک اور موئثر ترین آلہ سمارٹ فون ہے جو تقریباً سب کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمارٹ فونز کو ہیک کرتے وقت پروگرام بھی کیا جاتا ہے تاک کہ وہ جاسوسی کے عمل کے دوران کال ملائے جانے پر وائبریٹ نہ کریں، اور ان کی گھنٹی نہ بجے جس سے یہ پتہ لگے کہ ان پر کال کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد انہیں خود کار انداز سے کال اٹینڈ کرنے کیلئے پروگرام کیا جاتا ہے تا کہ بات چیت سنی جا سکے۔ خفیہ طریقے سے گفتگو سننے کے لیے ٹیکسٹ یا واٹس آپ میسج بھیجا جاتا ہے جو کھولتے ہی ٹارگٹ فون پر ضروری سافٹ ویئر ڈائون لوڈ کر دے گا۔ اسکے بعد ہیکر دنیا کے کسی بھی حصے سے اس موبائیل فون کو کنٹرول کر کے کسی دوسرے فون سے کمرے میں ہونے والی بات چیت سن سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پانچ طرح کی جاسوس ڈیوائس استعمال کی جا رہی ہیں۔جاسوسی کے لیے ٹرانسمیٹرز مخصوص کمرے میں نصب کر دیے جاتے ہیں جس کے بعد بات چیت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ خفیہ جاسوسی کیلئے، یہ ٹرانسمیٹرز کسی بھی چیز جیسا کہ گھڑی، کیلکیولیٹر، ایش ٹرے، میز کے نیچے وغیرہ نصب کیے جاتے ہیں۔ یہ ٹرانسمیٹرز ریمورٹ سے بھی چل سکتے ہیں، ان میں ریکارڈنگ کے فیچرز بھی ہوتے ہیں اور انکرپشن بھی۔ اسکے علاوہ ایسی سننے والی ڈیوائسز بھی ہوتی ہیں جو پاور لائنز یا بیٹری کے ذریعے پاور حاصل کر کے مستقل جاسوسی کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ انکو ایسی جگہوں پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں تک رسائی مشکل ہو۔
جاسوسی کا ایک اور نظام فکسڈ آپریشن سسٹم کہلاتا ہے جو دشمن اہداف کیخلاف مستقل بنیادوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیوائس کسی مخصوص جگہ پر نصب کر دی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ لیزر ٹیکنالوجی سسٹم بھی ہے جو کہ جاسوسی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے جس بھی کمرے کی جاسوسی کرنا ہو وہاں شیشے کی کھڑکی سے لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے آوازیں سنی جاتی ہیں۔ لیکن پردے وغیرہ کی رکاوٹ سے یہ سسٹم ناکارہ ہو جاتا ہے۔
انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ وائی فائی کنکشن کے معاملے میں بھی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ غیر محفوظ نیٹ ورکس کیساتھ کنیکٹ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی شخص یہ دیکھ پائے گا کہ آپ اپنے فون پر کیا کر رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ سمارٹ فون میں موجود کیمرے کو بھی آپ کی جاسوسی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا یے کہ سمارٹ فونز کو خفیہ طریقے سے ویڈیو ریکارڈ کرنے اور فوٹوز کھینچنے کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
