کیا پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے ہاتھوں یرغمال بن جائے گی؟

پاکستانی سیاسی تاریخ میں فوجی آمروں کے ٹاؤٹ کا کردار ادا کرنے والی اعلیٰ عدلیہ بُری طرح بے نقاب ہو جانے کے باوجود پارلیمنٹ پر بالادستی جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جس سپریم ادارے یعنی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے آئین سے سپریم کورٹ اور اس کے اختیارات وجود میں آئے ہیں اسی کی قانونی طاقت کو جوڈیشل ریویو یا عدالتی نظر ثانی کی آڑ میں کمزور کرنا جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔
اپنے اس موقف کا اظہار کرتے ہوئے مختلف ممالک میں بطور سفیر خدمات انجام دینے والے عاقل ندیم کہتے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ کا آئین کی پاسداری کے حوالے سے کردار کافی متنازع اور شرمناک رہا ہے، عدلیہ نے ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے نت نئے جواز گھڑ کر فوجی حکمرانوں کے اقتدار پر غاصبانہ قبضوں کو قانونی چھتری مہیا کی، اس نے سیاسی قیادت کو حکومت اور سیاست سے باہر کرنے کیلئے یا تو تختہ دار پر لٹکایا یا پھر انہیں توہین عدالت کے نام نہاد مقدموں میں وزارت عظمیٰ سے ہٹایا، اور یا زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا۔
اس کے برعکس عدالت عظمیٰ نے کبھی بھی کسی آئین شکن فوجی آمر کا احتساب نہیں کیا بلکہ اس نے تو ایک فوجی آمر کی بغاوت کو نہ صرف جائز قرار دے دیا بلکہ اسے آئین میں ترامیم کی اجازت بھی دے دی۔
اپنے تازہ تجزیے میں عاقل ندیم کہتے ہیں کہ آج بھی صورتحال کوئی زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ پاکستانی وکلا کی تنظیمیں اور نامی گرامی وکلا ان ہم خیال ججز کے فیصلوں پر کھلے عام تنقید کر رہے ہیں جن کے فیصلے بیج کے بیٹھنے سے پہلے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لئے اہم سیاسی کیسز میں مسلسل فل بینچ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر پھر بھی عدالت عظمیٰ ان سب قانونی اپیلوں کو نظر انداز کر رہی ہے، ججوں کی طرف سے سیاسی معاملات کے بارے میں ریمارکس مزید تشویش کا باعث بن رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے پر معزز چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کوئی ایکشن لینے کی بجائے یہ کہہ کہ معاملہ ٹھپ کردیا کہ شاید ان تک عدالت کا فیصلہ صحیح طریقہ سے نہیں پہنچایا گیا تھا۔
اس سے پہلے تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے قومی اسمبلی بحال کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ججوں کے خلاف شرمناک نعرے بازی کرتے ہوئے ان کی تصویروں پر جوتے برسائے اور بطور احتجاج پارلیمان سے استعفیٰ دے دیا، اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ کو پی ٹی آئی کی پارلیمان میں غیر حاضری میں کی گئی قانون سازی عوام کی اُمنگوں کی ترجمان نہیں دکھائی دیتی لیکن عوامی نمائندوں کی توہین کرتے ہوئے اہم قانون سازی کو ذاتی مفادات پر مبنی قانون سازی کہا جاتا ہے، عاقل ندیم کہتے ہیں کہ تقریبا سارے سول اداروں کے احتساب پر زور دینے والی عدالت عظمیٰ اپنے اخراجات کا حساب دینے سے گریزاں ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فیصلے کو اس نے رجسٹرار کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔
کیا پاکستانی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے کیے جانے والے اخراجات کا حساب دینا یا ان کا آڈٹ کرانا غیر آئینی فعل ہے یا عدالت عظمیٰ کی توہین ہے؟ عاقل ندیم کہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تو فوراً اپنے اخراجات کا حساب دے دیا اور ساتھ ہی تمام ججوں کے اثاثہ جات کی تفصیل بھی جاری کر دی۔ عدالت عظمیٰ کے ایک جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی رضاکارانہ طور پر خود ہی اپنے اثاثہ جات کی تفصیل عوام کے لیے کھول دی مگر عدالت عظمیٰ بحیثیت ادارہ باقی ججوں کے بارے میں ایسی تفصیل دینے سے کیوں گریزاں ہے جبکہ وہ سارے جج دیگر سول اداروں اور سیاست دانوں سے اثاثے ظاہر کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
عدلیہ کے اندر نئی تعیناتیوں کے طریقہ کار کے بارے میں بھی تقریبا اکثر قانونی تنظیموں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے سینئر ججوں نے بھی اس طریقہ کار میں غیر شفافیت کی طرف نشاندہی کی ہے مگر ان اہم تعیناتیوں میں بھی شفافیت متعارف نہیں کروائی جا رہی ہیں، پچھلی جوڈیشل کونسل کی میٹنگ کی ریکارڈنگ کو عام کرنے سے ججوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اور پانچ ججوں کی تعیناتی اب مہینوں سے کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے، کیا ان تعیناتیوں میں تاخیر ذاتی مفادات کی بنیاد پر نہیں ہے؟عاقل ندیم کہتے ہیں کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ پارلیمان اور عدالت عظمیٰ بظاہر آمنے سامنے آ گئے ہیں اور تصادم کے امکانات بڑھنے لگے ہیں۔
پارلیمان کی کمیٹی ججوں کی تعیناتی اور دیگر قانونی معاملات میں اپنے اختیارات بڑھانے کے بارے میں سوچ رہی ہے جو کہ یقینا ایک بڑے قانونی تصادم کی شکل میں سامنے آئے گا لیکن یہ تصادم کسی صورت ہمارے اداروں کی بقا کے لیے مناسب نہیں۔ اس تصادم کی صورت میں عدالت عظمیٰ بھی مزید تقسیم ہوگی اور شاید کچھ ججز واضح طور پر اپنے اختلافی خیالات کا اظہار کریں جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے بھارتی سپریم کورٹ کے ججوں نے چیف جسٹس کے خلاف ایک پریس کانفرنس میں اپنے اختلافی خیالات کا اظہار کیا۔
ایسے میں عدالت عظمیٰ کو چاہئے کہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرے اور غیر ضروری سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز کرے۔ ججوں کو سماعت کے دوران غیر مناسب سیاسی ریمارکس دینے سے بھی پرہیز کرنے کی ضرورت ہے اور کسی طرح سے بھی ان کو اپنا سیاسی جھکاؤ نہیں دکھائی دینا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ کو اپنے اختیارات کے استعمال میں آئینی اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور تمام ججوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔ ہم خیال ججوں کا تصور نہ صرف عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچائے گا بلکہ ادارے کے اندر شدید دراڑوں کا بھی سبب بنے گا۔
پارلیمان کی تضحیک یا اس سے غیرضروری تصادم سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جس ادارے کے بنائے ہوئے آئین سے عدالت عظمیٰ اور اس کے اختیارات وجود میں آئے ہیں اس کی قانونی طاقت کو قانونی نظرثانی کا حق استعمال کرتے ہوئے کمزور کرنا یا چیلنج کرنا جمہوریت اور آئینی حکمران کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
