کیا پاکستانی اور افغان طالبان مل کر کھیل رہے ہیں؟

سینئر صحافی طلعت حسین نے کہا ہے کہ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے گرنے سے پہلے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ پاکستان کی سرحد کے دودری طرف دشمن قوتیں ہمارے خلاف فتنہ پروری کرتی ہیں، اور کابل اور دہلی کی خفیہ تنظیمیں بیرونی قوتوں کے ساتھ مل کر ہمیں سکھ کا سانس نہیں لینے دیتیں۔ لیکن اب جبکہ سرحد پار اقتدار پاکستان دوست افغان طالبان کے ہاتھ آ چکا ہے، سرحد پار سے پاکستان مخالف کارروائیوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گیا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں طلعت حسین کہتے ہیں کہ افغانستان میں اقتدار طالبان کے پاس آ جانے کے باوجود ہمیں آج بھی انہی مسائل کا سامنا ہے جن کا سامنا ہمیں پہلے تھا۔ وہی فتنہ، فساد، وہی کارروائیاں، وہی طالبان اور انکے ویسے ہی کام دیکھے جا رہے ہیں۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ دہشت گردی جاری ہے، حتمی امن کا دور دور تک نشان نظر نہیں آتا۔ کیا عجب ماجرہ ہے، کیا حیرت انگیز کامیابی ہے۔ جمہوری حکومت ہمیں کچھ بتاتی نہیں اور کالعدم تنظیمیں سارا کچا چٹھا کھول کر سامنے رکھ دیتی ہیں۔ بہرحال تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ پچھلے ماہ ہونے والی جنگ بندی کے بعد خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ ریاست اس گروپ کے ساتھ معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کر لے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہو پایا اور عارضی جنگ بندی کا معاہدہ بھی ختم ہو چکا ہے جس کے بعد تحریک طالبان نے دوبارہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
طلعت کے بقول ہماری دو دہائیوں کی قربانیوں، وسائل کے استعمال، پریشانی اور خون خرابے کے باوجود دہشت گردی کے چیلنجز بظاہر جوں کے توں موجود ہیں۔ طالبان کی جانب سے عارضی فائر بندی معاہدہ ختم ہونے کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کا آغاز ہو چکا ہے جس کی تازہ مثالیں ٹانک پولیو ٹیم پر حملوں کی ہیں جن کے نتیجے میں پولیس کی حفاظتی ٹیموں کے لوگ مارے گے ہیں۔ ٹانک حملوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تحریک طالبان نے انکی ذمہ داری لی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے جنگ بندی معاہدہ ختم کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے خود کو تحریک طالبان افغانستان کا باقاعدہ حصہ قرار دیا تھا حکومت پاکستان کی جانب سے اس تنظیم کے ساتھ خفیہ بات چیت کے نتیجے میں جس ایک ماہ کی جنگ بندی کا چرچا تھا اب وہ ختم ہو چکی ہے۔ کمال امر یہ ہے کہ اس خاتمے کا اعلان بھی اسی طالبان کی جانب سے پریس ریلیز کی صورت میں کیا گیا جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت اور طالبان کے مابین کیا طے ہوا تھا، ملاقاتیں کہاں اور ہوئیں، پھر کتنی کمیٹیاں بنیں، دونوں فریقین کی ذمہ داریاں اور وعدے کیا تھے، اس گروپ کے کتنے لوگوں کو رہا کیا جانا تھا، اگلے مراحل میں کیا ہونا تھا، افغانستان میں طالبان اس تمام معاملے میں کیا کردار ادا کر رہے تھے، وغیرہ وغیرہ۔
طلعت کہتے ہیں کہ اصولاً یہ تمام معاملات حکومت کے نمائندگان کو قوم کے سامنے خود سے رکھنا چاہیے تھے۔ کہنے کو ہمارا نظام جمہوری ہے جس میں شفافیت کا عنصر غالب ہونا چاہیے اور دوسری طرف ایک کالعدم تنظیم ہے جس کو اسرار و رموز کی دنیا میں رہ کر چھپ چھپاتے کام کرنا چاہیے۔ یہاں پر گنتی الٹی ہے۔
جمہوری حکومت ہمیں کچھ بتاتی نہیں اور کالعدم تنظیمیں کچا چٹھا کھول کر سامنے رکھ دیتی ہیں۔ بہرحال اس جنگ بندی کے بعد خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ ہم اس گروپ کے ساتھ معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کر پائیں گے۔ مگر پچھلے سالوں کی دوسری امیدوں کی طرح یہ امید بھی دم توڑ گئی۔ اب یہ گروپ دوبارہ پاکستان کے خلاف اعلانیہ کارروائیاں کر رہا ہے۔ ہمیں بہرحال علم نہیں ہے کہ حکومت کی پالیسی اس سلسلے میں کیا ہے۔ قوم کو ابھی بھی جنگ بندی کے درمیان دیے گئے سرکاری بیانات کے خمار میں مبتلا رکھا ہوا ہے۔ تب قوم کو یہ بتایا گیا تھا کہ بات چیت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ تحریک طالبان کے بھٹکے ہوئے لوگوں کو آئین کی تعلیم دے کر ملک کا وفادار بنانا ہی ہماری پالیسی کا مقصد ہے۔ اس وقت ہم نے طالبان کی تعریف میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
ہم نے ان کے تدبر، پاکستان دوستی کی قسمیں کھائی تھیں اور کہا تھا کہ کیسے انہوں نے مشکل حالات میں ہمارا ساتھ دیا اور تحریک طالبان کو پاکستان کے خلاف محاذ بنانے سے روک دیا۔ اب جنگ بندی ختم ہو گئی ہے اور طالبان دوبارہ متحرک ہو گے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ وہ ریاست جو ماضی میں طالبان کو فتنہ قرار دے کر اسکی سرکوبی کرتی رہی ہے، اس ریاست نے اسی فتنے سے مذاکرات کا فیصلہ کیوں کیا جس سے ریاست کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک قدم آگے اور اردو قدم پیچھے چلنے کا یہ سلسلہ نجانے کب ختم ہو گا۔
