کیا پاکستان نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا؟


دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیے جانے کے باوجود پاکستان نے اسلام آباد کے سفارتخانے اور پشاور، کراچی اور کوئٹہ کے قونصل خانوں میں طالبان سفارتکاروں کی تعیناتیاں قبول کر لی ہیں جس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے بالواسطہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔
اسلام آباد کے سفارتی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی نئی حکومت نے پاکستان میں افغان سفارت خانے سمیت تینوں افغان قونصل خانوں میں جو چار سفارت کار تعینات کیے ہیں ان میں سے تین نے اپنے کام کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اسلام آباد میں افغان سفارتخانے اور دو دیگر قونصل خانوں میں طالبان حکومت کی جانب سے تعیناتیاں ’فرسٹ سیکریٹریز‘ کی حیثیت سے ہوئی ہیں۔
افغان وزارت خارجہ کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق طالبان حکومت نے سردار احمد شکیب کو اسلام آباد میں افغان سفارتخانے میں جبکہ حافظ محب اللہ شاکر، گل حسن ابو محمد اور عباس خان محمد کو بالترتیب پشاور، کوئٹہ اور کراچی کے افغان قونصل خانوں میں فرسٹ سیکریٹریز کی حیثیت سے تعینات کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا یے کہ یہ سفارت کار نہ صرف پاکستان پہنچ گئے ہیں بلکہ تین نے اپنے کام کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ لیکن اس نوٹیفیکشن کے بارے میں جب پاکستان اور طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمانوں سے پوچھا گیا تو دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس سوال کا جواب دینے سے بھی انکار کیا کہ کیا ان تعیناتیوں کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد نے افغان طالبان کی حکومت کو باقاعدہ طور۔پر تسلیم کرلیا ہے؟
اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ترجمان ہادی بحر نے اس معاملے پر کہا ہے کہ انہیں افغان وزارت خارجہ کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوا ہے جن میں چار سفارتکاروں کی تقرریوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ ’ان سفارت کاروں نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا ہے‘۔ یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کو تاحال پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے لیکن قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ملک کسی ملک کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، تب بھی سفارت کاروں کو اُس ملک میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
اس معاملے پر پاکستان کے سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی نے بتایا کہ اگر پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم نہ بھی کیا ہو تو بھی طالبان کی جانب سے یہ سفارت کار قبول کیے جا سکتے ہیں کیونکہ اُن کے بقول ’انٹرنیشنل لا میں کسی حکومت کے لیے دو طریقے ہیں، ایک کسی بھی سٹیٹ یا حکومت کو رسمی طور پر تسلیم کرنا ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اگر کسی کا ملک کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول ہے تو اس بنیاد پر اُن کے ساتھ ’انگیجمینٹ‘ ہوسکتی ہے۔‘
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفارت کار ایاز وزیر بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی حکومت کو تسلیم نہ بھی کیا ہو تو سفارت کار تعینات کر سکتے ہیں۔ ایاز وزیر کے مطابق کسی حکومت کو تسلیم کرنے کا ’ایک طریقہ کار ’ریکگنیشن ڈی فیکٹو‘ (Recognition de facto) اور دوسرا ’ریکگنیشن ڈی جور‘ (Recognition de jure) ہے، اور ڈی فیکٹو ریکگنیشن طالبان حکومت کے ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک کر رہے ہیں۔‘ ایاز وزیر کے مطابق اگر پاکستان میں طالبان حکومت نے کچھ سفارتکار تعینات کیے ہیں تو یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق نئے آنے والے سفارتکار سردار احمد شکیب نے 25 اکتوبر 2021 سے کام کا آغاز کر دیا ہے اور اس دن سفارت خانے میں ایک چھوٹی سی تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔ کوئٹہ میں افغان قونصل خانے کے ذرائع کے مطابق وہاں 26 اکتوبر کو گل حسن ابو محمد نے کام کا آغاز کیا اور وہاں بھی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پشاور میں افغان قونصل خانے کے ذرائع کے مطابق وہاں نئے سفارت کار حافظ محب اللہ شاکر کے لیے تقریب کا اہتمام 27 آکتوبر کو کیا گیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں افغان سفارت خانے اور پشاور، کوئٹہ اور کراچی کے افغان قونصل خانوں میں یہ سفارت کار ’فرسٹ سیکریٹریز‘ کی حیثیت میں تعینات ہوئے ہیں۔

Back to top button