کیا پاکستان کرونا کے بڑے حملے کی زد میں آچکا ہے؟

14 مئی کو لاک ڈائون کے خاتمے کے دو ہفتے گزر جانے کے بعد کرونا وائرس کی عفریت نے ملک بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے طبی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگلے دو سے چار ہفتوں میں پاکستان میں کرونا کے مرض سے مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں جا سکتی ہے۔
عید پر شاپنگ اور غیر محتاط میل ملاپ کی وجہ سے حالیہ دو یفتوں میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد یومیہ ایک سو کے قریب پہنچ گئی ہے اور متاثرین کی تعداد میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس دگرگوں صورتحال کو دیکھتے ہوئے سندھ حکومت نے ایک بار پھر 14 روزہ لاک ڈاؤن کی تجویز دی ہے بصورت دیگر ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بیڈز ناپید ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے.
29 مئی ملک میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کے حساب سے بدترین دن ثابت ہوا اور ایک روز میں 81 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔یہ ملک میں 3 ماہ کے عرصے میں ہونے والی اموات میں ایک روز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔کرونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل اضافے کے باعث اب ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ اور وسائل کم پڑنے لگے ہیں۔بعض ہسپتالوں میں حکام اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے پاس کووڈ 19 کے مزید مریضوں کا علاج کرنے کے لیے گنجائش ختم ہوچکی ہے۔ کرونا سے زیادہ متاثر صوبے سندھ میں حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے مریضوں کے لیے صرف چند ہسپتالوں میں سہولیات باقی بچی ہیں لہذا اس وقت کورنا سے بچنے کا واحد راستہ 14 روزہ مکمل لاک ڈاون ہے۔
اس وقت خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں43 فیصد وینٹیلیٹر اور بستروں پر مریض پہلے سے موجود ہیں۔قومی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ملک کے 726 ہسپتالوں میں 20 ہزار 960 بیڈ مختص کیے گئے تھے۔ 20 مئی تک یہاں تقریباً 11 ہزار مریض موجود تھے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں کرونا کے لیے مختص 50 فیصد سہولیات پہلے سے زیر استعمال ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ کرونا کے نئے مریضوں کی آمد کے بعد یہ تعداد مزید کم ہو چکی ہوگی۔
پاکستان میں کرونا کے نئے کیسز و اموات کے بعد اب تک کی مجموعی کیسز کی تعداد 66 ہزار 457 ہے جبکہ 1395 اموات ہوچکی ہیں۔یاد رہے کہ ملک میں 26 فروری 2020 کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جبکہ اس وبا سے ملک میں پہلی موت 18 مارچ کو رپورٹ ہوئی تھی۔اس وائرس کے آغاز سے لے کر اب تک یہ مختلف انداز میں پھیلا اور ابتدا میں اس کا پھیلاؤ کم تھا اور درجنوں کی تعداد میں کیسز رپورٹ ہوتے تھے جو بڑھ کر پہلے سیکڑوں ہوئے اور اب ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 26 فروری سے 31 مارچ تک پاکستان میں لگ بھگ 2 ہزار کیسز اور 26 اموات تھیں جو اپریل میں بڑھ کر مہینے کے آخر تک 385 تک پہنچ گئیں جبکہ کیسز کی تعداد ساڑھے 16 ہزار سے تجاوز کرگئی۔تاہم مئی کے 29 روز میں کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور 48 ہزار سے زائد نئے کیسز اور 979 اموات رپورٹ ہوئیں۔ تاہم دوسری جانب صحتیاب ہونے والوں کی تعداد میں بھی بڑا اضافہ ہوا۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 1826 افراد کورونا وائرس سے صحتیاب ہوگئے۔اس نئی تعداد کے بعد ملک میں اب تک صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 22 ہزار 305 سے بڑھ کر 24 ہزار 131 ہوگئی ہے۔
اس وقت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہے اور وہاں کیسز 26 ہزار 113 ہیں، جس کے بعد پنجاب کی تعداد ہے اور وہاں 24 ہزار 104 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔خیبرپختونخوا میں اس وبا سے 9 ہزار 67 لوگ متاثر ہوئے ہیں وہیں بلوچستان میں یہ تعداد 4 ہزار 87 ہے۔ صوبہ پنجاب میں اموات کی مجموعی تعداد 439 تک پہنچ گئی ہے۔ادھر گلگت بلتستان میں اس عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 660 تک پہنچ گئی اور وہاں ہونے والی اموات کی تعداد 9 ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر جو ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں سب سے کم متاثر ہوا ہے ،7 نئے کیسز کے بعد اب تک وہاں متاثرین کی تعداد 227 سے بڑھ کر 234 اور اموات 6 تک پہنچ گئی ہے۔
ایسے میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ ملک بھر میں ایک بار پھر 14 روزہ سخت لاک ڈاون کیا جائے وگرنہ نہ تو ہسپتالوں میں بیڈزہوں گے اور نہ ہی طبی عملہ، اور اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں جا سکتی ہے۔
