کیا پاک چین سی پیک منصوبہ رول بیک ہونے جا رہا ہے؟


عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان چین اقتصادی راہداری یا سی پیک منصوبہ پہلے تو سست روی کا شکار ہوا تھا لیکن اب مکمل طور پر رول بیک ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع کا کہنا یے سی پیک پراجیکٹ جو کبھی پاکستان کے لئے خوشحالی کی راہ سمجھا جاتا تھا اب وہ دونوں ملکوں کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ چنانچہ پچھلے تین سالوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری پر بہت ہی کم پیشرفت ہوئی ہے ، حالانکہ اس پراجیکٹ کو بیجنگ اور اسلام آباد نے دونوں ممالک کے مابین دوستی کا سنگ بنیاد قرار دیا گیا تھا۔ سی پیک کا سب سے مہنگا پروجیکٹ ایم ایل ون سب سے ذیادہ سست روی کا شکار ہے کیونکہ بیجنگ اس مہنگے پروجیکٹ کی فنانسنگ کے حوالے سے شرائط کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ یہ پروجیکٹ چھ بلین ڈالرز سے زیادہ کا ہے، جس کو پاکستان ریلوے کی بحالی کے لیے بہت اہم گردانا جاتا ہے۔
سی پیک پر سست روی نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ آیا اس پراجیکٹ کا مستقبل تاریک ہے یا روشن۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کچھ عرصے سے یہ باتیں گردش کررہی ہیں کہ بیجنگ پاکستان سے اضافی گارنٹیز حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان چین پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ کوئی اضافی گارنٹی نہیں دے گا اور یہ کہ کام مقتدر گارنٹی پر ہی ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان نے کبھی کسی قرضے پر ڈیفالٹ نہیں کیا۔”
لیکن ایسی خبریں گردش میں ییں کہ چین ایم ایل ون پراجیکٹ کی فنانسنگ کے حوالے سے شرائط میں تبدیلی چاہتا ہے۔ پشاور ریلوے سے تعلق رکھنے والے اشفاق باچا کا کہنا ہے کہ انہیں ایم ایل ون کے حوالے سے کوئی کام عملی طور پر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ "ہمیں بتایا گیا ہے کہ نقشے تیار ہوئے ہیں۔ نصیر پور سے لنڈی کوتل کی طرف ایک ریلوے لائن جانی تھی، لیکن اس پر بھی کام شروع ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ اسی طرح پشاور میں بھی اس حوالے سے کوئی کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔”
حکومت کی طرف سے اس پروجیکٹ کی خبر رکھنے والے پلاننگ کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ پروجیکٹ دوہزار سولہ میں شروع ہونا تھا۔ پھر مختلف پروجیکٹس کے آنے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ پھر یہ طے ہوا کہ یہ جنوری دوہزار اکیس میں شروع ہوگا لیکن اب پھر تاخیر ہورہی ہے۔ چین اور حکومت پاکستان کے درمیان اس کی فناسنگ کی شرائط پر بات چیت ہورہی ہے۔ جس میں وقت لگ سکتا ہے اور یہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔”
لیکن کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ایم ایل ون پروجیکٹ کی مد میں لیے جانے والے قرضے کی شرح سود پاکستان اور چین کے درمیان وجہ نزاع ہے اور یہ کہ چین اس شرح میں خاطر خواہ اضافہ چاہتا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا یہ ایک اہم مسئلہ ہے، اس اعلیٰ عہدیدار نے جواب دیا، کہ ایم ایل ون پر شرح سود صرف ایک فیصد ہے، جو واقعی بہت کم ہے کیونکہ چینی کمپنیاں اپنے ملک کے کمرشل بینکوں سے قرضہ لے رہی ہیں اور اس حوالے سے ایک فیصد بہت کم ہے۔ ہم نے چین کو دو اعشاریہ اڑتیس فیصد آفر کیا ہے۔ یہ شرح ہم سی پیک کے تمام پروجیکٹس پر لیے جانے والے قرضوں پر شرح سود کے طور پر دے رہے ہیں لیکن چین نے اب تک ہماری اس پیشکش کا جواب نہیں دیا۔” سینیٹ کی سی پیک کمیٹی کے رکن سینیٹر میر کبیراحمد محمد شہی کا کہنا ہے کہ ایم ایل ون، اسپیشل اکنامک زونز سمیت تقریبا تمام سی پیک پروجیکٹس پر کام رکا ہوا ہے۔ "اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چین ناراض ہے اور اس کی سی پیک کے منصوبوں میں دلچسپی موجودہ حکومت کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ حکومت سی پیک پراجیکٹ آگے برھانے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی ہے حالانکہ چین کے اصرسر پر پاکستانی فوج اور ریاست پاکستان کو اس پراجیکٹ کا گارنٹر بنایا گیا تھا تاکہ حکومتوں کی تبدیلی اس پر اثر انداز نہ ہو۔
سینیٹر کبیر کا مزید کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ چین پاکستان سے فناسنگ کی شرائط پر بات کر رہا ہو۔ لیکن پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیوں کو اس بارے میں لا علم رکھا گیا ہے کیونکہ حکومت نے سی پیک کے حوالے سے کیے جانے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ سے چھپایا ہوا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ دوسری طرف سینیٹ کی سی پیک کمیٹی کے رکن سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کو اب ایک پائی بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس حکومت کے تین سالوں میں چین نے دس پیسے بھی پاکستان کو نہیں دیے کیونکہ چین حکومت سے سخت ناراض ہے، جس نے آتے ساتھ ہی چینی کمپنیوں پر ملتان کراچی موٹروے کی تعمیر میں کرپشن کا الزام لگایا۔ اسی طرح ابھی تک ایم ایل ون پر بھی کوئی کام نہیں ہوا۔ اسکے علاوہ سی پیک کے جتنے بھی پروجیکٹس ہیںان پر کام جوں کا توں رکا ہوا ہے، یہاں تک کہ ملتان کراچی موٹروے کا افتتاح بھی نہیں ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کا مستقبل تاریک ہے اور اس کی وجہ یہ نا اہل حکومت ہے، جس نے چین کو ناراض کیا ہوا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مغربی روٹ، گوارد پورٹ کے منصوبے اور دیگر تمام پروجیکٹس بھی رکے ہوئے ہیں اور وجہ صرف اس حکومتی کی نااہلی ہے۔”
یاد رہے کہ اس وقت سی پیک منصوبے کی باگ دوڑ فوج کے ہاتھ میں جبکہ وفاق نے صوبوں کو ایک طرف کردیا ہے.
بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثہ سکینڈل میں ملوث سابق ڈی جی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی زیر کمان سی پیک اتھارٹی بنا کر فیصلہ سازی کو سینٹرلائز کر دیا گیا یے اور صوبوں کی خود مختاری ختم کی جارہی ہے جہاں سی پیک کے اہم ترین منصوبوں پر کام ہونا ہے۔ اس عمل سے سی پی ای سی کا مستقبل اور اس کے ماحولیاتی نتائج مزید غیر واضح ہوگئے ہیں. یاد رہے کہ امریکہ نے سرکاری سطح پر بارہا سی پیک پر اعتراضات کیے، کبھی اسے پاکستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا تو کبھی چینی کمپنیوں پر اس کے بہت مہنگا ہونے کے الزامات لگائے گئے۔ آج سی پیک عملاً رول بیک ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اقتصادی زونز جن پر 2018 میں چین میں روڈ شوز ہو رہے تھے، اور درجنوں چینی کمپنیاں سرمایہ کاری پر آمادہ تھیں، اب اس کی بازگشت بھی کہیں سنائی نہیں دیتی۔ موجودہ ترقیاتی منصوبوں میں ان خصوصی اکنامک زونز کے قیام کا ذکر ہی گول ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کسی سٹر یٹجک دباؤ کا نتیجہ ہے یا پھر چین اور پاکستان کی قیادت میں دوریاں پیدا ہو چکی ہیں؟ ناقدین کے مطابق بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری فوجی اسٹیبلشمینٹ نے سی پیک کو ایک معاشی منصوبے سے زیادہ سٹریٹجک منصوبہ بنا کر پیش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے اس کی کھل کر مخالفت کی۔ اس مخالفت کے کیا نتائج ہو سکتے تھے اس کی تیاری کہیں نہ تھی۔ اب حالات یہ ہیں کہ سی پیک کو گیم چینجر قرار دینے والوں کی اپنی گیم ختم ہو چکی ہے۔ سی پیک کے جاری منصوبے التوا کا شکار ہیں اور ان کی لاگت کہیں گنا زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تو کیا کپتان کی ناکام حکومت یہ بتانا پسند کرے گی کہ یہ اضافی رقم کتنے ارب ڈالرز ہے اور اس اضافی بوجھ کا ذمہ دار کون ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button