کیا پرویز خٹک کی بھائی سے لڑائی KP حکومت لے ڈوبے گی؟

خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کے کرتا دھرتا وزیر دفاع پرویز خٹک کے اپنے بھائی لیاقت خٹک سے اختلافات کے بعد صوبے میں پارٹی کا مستقبل تاریک اور حکومت خطرے میں نظر آتی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت بچانے کے لیے بغاوت کے مرتکب لیاقت خٹک کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن دوسری جانب پرویز خٹک نے نہ صرف اس فیصلے کی مخالفت کر دی ہے بلکہ اپنی اولاد کا سیاسی مستقبل محفوظ بنانے کیلئے تحریک انصاف چھوڑنے کی دھمکی بھی دے دی ہے جس کا واضح مطلب خیبرپختونخواہ سے تحریک انصاف کی بیدخلی ہو گا۔
خیبرپختونخواہ کے سابق وزیر اعلی اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے حالیہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی امیدوار کے مقابلے میں ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کرکے پارٹی سے بغاوت کرنے والے اپنے چھوٹے بھائی اور رکن اسمبلی لیاقت خٹک کے ساتھ مکمل طور قطع تعلق کر لیا ہے۔ پرویز خٹک نے نہ صرف اپنے بیٹے کی شادی میں انہیں مدعو نہیں کیا بلکہ لیاقت خٹک کی سمدھن کی وفات پر بھی تعزیت نہیں کی اور اپنے بیٹوں کو بھی ایسا کرنے سے منع کردیا۔ پرویز خٹک کو جب یہ معلوم ہوا کہ وزیراعظم عمران خان انکے بھائی لیاقت خٹک کو معاف کرکے دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے وزیراعظم کو صاف صاف بتا دیا کہ ایسے کسی بھی اقدام کی صورت میں وہ پارٹی کو خیرباد کہنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔ لہذا وزیراعظم دونوں بھائیوں کے اختلافات کے درمیان پھنس چکے ہیں۔ اب ایک کی خوشی دوسرے کی ناراضی ہے۔ لہازا لیاقت خٹک کی وزارت کی بحالی کا نوٹیفیکشن تاحال جاری نہیں ہو سکا۔ لگتا یہی ہے کہ دونوں بھائیوں میں سے ایک اپنے ساتھیوں سمیت مستقبل قریب میں تحریک انصاف چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں بھائی اپنے بیٹوں کا سیاسی مستقبل سنوارنے کے لیے برسرِ پیکار ہیں لیکن اس آپسی لڑائی کے نتیجے میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں مسلسل دوسری بار حکومت بنانے والی تحریک انصاف کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
خٹک فیملی کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک اور ان کے بھائی لیاقت خٹک کا سیاسی مزاج ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت خٹک کی سیاست میں موجودگی ان کے بڑے بھائی پرویز خٹک کی مرہونِ منت ہے۔ لیاقت خٹک کی انتخابات میں ابتدائی کامیابی بھی پرویز خٹک کے باعث ممکن ہوئی۔ تاہم لیاقت خٹک نے اپنی طبیعت کی عاجزی اور ہمہ وقت اپنے کارکنوں کے کام آنے کی سعی کے باعث اپنا ذاتی ووٹ بینک اور سیاسی مقام بنا لیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لیاقت خٹک روایتی سیاستدان نہیں ہے لیکن انہوں نے خود کو کبھی اپنے بڑے بھائی کے لئے بوجھ نہیں بننے دیا بلکہ پرویز خٹک کی سخت طبیعت کے برعکس لیاقت خٹک نے اپنی عاجزی اور لوگوں کو ہمہ وقت میسر ہونے کی خاصیت کے باعث بڑی حد تک قابو کیا اور پرویز خٹک کو نقصان نہیں پہنچنے دیا۔ پرویز خٹک نے نوشہرہ کے ھالیہ ضمنی انتخابات سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ جس کے سر پر ہاتھ رکھ لے وہ بادشاہ بن جاتا ہے اور جب وہ سر سے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو پھر اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ میڈیا میں پرویز خٹک کے اس بیان کی بڑی دھوم مچی اور یہ تاثر پھیلا کہ جیسے ان کا اشارہ عمران خان کی جانب ہے لیکن درحقیقت وہ اپنے چھوٹے بھائی کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔ نوشہرہ کی سیاست پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ دونوں بھائیوں کے مابین سنگین اختلافات کا باعث دونوں کے فرزندان ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ پرویز خٹک کے بیٹے اسحق خٹک اور لیاقت خٹک کے بیٹے احد خٹک نوشہرہ کی سیاست میں پچھلے کئی برسوں سے سرگرم ہیں۔ پرویز خٹک کے ایک بیٹے ابراہیم خٹک بھی جنرل انتخابات کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ یاد رہے کہ لیاقت خٹک بھی ضمنی انتخابات میں پرویز خٹک کی خالی کردہ نشست پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ پرویز خٹک کی بیوی کی بہن اور ان کی بھتیجی بھی خواتین کے لئے مختص نشستوں پر قومی اسمبلی کی رکن بنی ہیں۔ حالیہ اختلافات بھی خاندان کے اندر دونوں بھائیوں کی اولاد کے سیاسی مستقبل کے باعث ہوئے ہیں۔ پرویز خٹک پی ٹی آئی کے میاں جمشید کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست پر اپنے بیٹے اسحق خٹک کو لڑوانے کی خواہش رکھتے تھے جبکہ لیاقت خٹک کے فرزند احد خٹک بھی یہی تمنا رکھتے تھے۔ پی ٹی آئی بالخصوص مرحوم میاں جمشید کے گاؤں زیارت کاکا صاحب کے لوگوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور اس نشست پر مرحوم کے بیٹے کا حق جتلایا۔ اس دباؤ کے باعث پرویز خٹک اپنے بیٹے کو تو ٹکٹ نہیں دلوا سکے لیکن خاندان کے اندر پہلے سے موجود اختلاف گہرا ہو گیا۔ لیاقت خٹک نے اپنے بیٹے احد خٹک کے لئے بلدیاتی انتخابات میں مناسب جگہ کا تعین کرنا چاہا تو پرویز خٹک نے صاف انکار کر دیا اور ان کے اپنے محکمے میں مداخلت شروع کر دی۔ ان حالات میں لیاقت خٹک اپنے بیٹے احد خٹک کی محبت کے آگے مجبور ہو گئے اور اپنے بھائی سے الگ سیاسی سٹینڈ لیا۔
مقامی صحافیوں کے مطابق احد خٹک نوشہرہ کی سیاست کے نہایت دلچسپ کردار ہیں۔ احد خٹک نے نہایت کم عمر میں اپنے تایا اور والد کی سیاست میں کردار ادا کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے نوشہرہ کی سیاست میں اپنی الگ پہچان بنا لی ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں احد خٹک نے اپنے تایا پرویز خٹک کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے والد کی حمایت حاصل کرنے کے بعد اپنے حامیوں سے رابطے شروع کیے۔ نوشہرہ میں ایک کامیاب جلسہ کر کے پی ٹی آئی کے مخالف لائن لی اور اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ مسلم لیگ نون کے امیدوار اختیار ولی سے ملاقات کر کے اپنا سیاسی وزن ان کے پلڑے میں ڈال دیا، اپنے حامیوں کو متحرک کر کے اختیار ولی کے لئے راستہ ہموار کیا جس کا نتیجہ پی ٹی آئی کی غیر متوقع شکست کی صورت نکلا اور پرویز خٹک کی سیاسی حیثیت کے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔ مسلم لیگ نون کی حمایت کی پاداش میں پی ٹی آئی نے عجلت میں لیاقت خٹک کو ان کی وزارت سے فارغ کر دیا اور یہیں سے عمران خان کی مشکلات شروع ہوئیں۔ خیبرپختونخوا کی مقامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ لیاقت خٹک کو کھڈے لائن لگانا آسان کام نہیں۔ لیاقت خٹک کے ساتھ اس وقت بیس سے زائد ایم پی ایز رابطے میں ہیں جو مشترکہ سیاسی حکمت عملی اپنانے میں لیاقت خٹک کے ساتھ لائحۂ عمل تشکیل دے چکے ہیں۔ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور اے این پی سر توڑ کوشش میں لگے ہیں کہ کسی طرح لیاقت خٹک کو اپنے ساتھ شمولیت پر آمادہ کریں۔ شاہد خاقان عباسی اور احد خٹک کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور شنید ہے کہ مسلم لیگ نون کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں لیکن لیاقت خٹک عجلت میں کوئی قدم اٹھانے کے حق میں نہیں۔
وزیراعظم عمران خان کو جب ان تمام معاملات کا پتہ چلا تو انہیں شدید دھچکا لگا۔پختونخواہ کے متعلق وزیراعظم حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہیں۔ انہوں نے نوشہرہ کی شکست تو جیسے تیسے برداشت کر لی لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ لیاقت خٹک کے پیچھے نوشہرہ سے باہر بھی ممبران اسمبلی بغاوت پر آمادہ ہیں تو انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔ وزیراعظم نے فوراً وزیراعلی محمود خان کو ہدایت کی کہ لیاقت خٹک سے بات کر کے انہیں روکیں۔ وزیراعلی محمود خان نے لیاقت خٹک سے ملاقات کی اور انہیں پارٹی سے بغاوت نہ کرنے کی درخواست کی۔ تاہم لیاقت خٹک وزارت میں مداخلت اور بعد میں ڈی نوٹیفیکیشن پر شکوہ کناں نظر آئے اور عمران خان سے ملاقات کی شرط عائد کر دی۔ اگلی ملاقات میں وزیراعلی کے ساتھ گورنر بھی شامل ہوئے۔ لیاقت خٹک نے پھر عمران خان سے ملاقات کی شرط کا اعادہ کیا۔ بالآخر وزیراعظم کو فون پر لے کر لیاقت خٹک سے بات کرائی گئی۔ لیاقت خٹک کی شکایت پر وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ انہیں دوبارہ وزارت دی جائے گی اور آئندہ ان کی وزارت میں مداخلت بھی نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق کپتان نے وزیراعلی محمود خان کو تاکید کی ہے کہ لیاقت خٹک کے کام ترجیحی بنیادوں پر کریں۔ تم اب وزیراعظم ایک عجیب مشکل میں گر چکے ہیں چونکہ پرویز خٹک نے لیاقت خٹک کو صوبائی کابینہ میں واپس لینے کی صورت میں پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔
