کیا پنجابی واقعی انگریزوں کے ٹٹو کا کردار ادا کرتے رہے؟


13 دسسمبر کو پی ڈی ایم کے لاہور جلسے میں محمود خان اچکزئی کی تقریر کے دوران لاہور اور پنجاب کے باسیوں کو انگریزوں کا ٹٹو ثابت کرنے کی کوشش سے ایک نیا تنازع جنم لے چکا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا واقعی اچکزئی کا پنجابیوں کے بارے میں موقف درست ہے یا غلط خصوصا جب سب جانتے ہیں کہ پنجاب نے بھگت سنگھ اور رائے احمد خان کھرل جیسے غیرت مند اور بہادر سپوت بھی پیدا کیے جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی جانیں گنوائیں۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے لاہور جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی برا نہ مانے ہم کسی کو طعنہ دینے نہیں آئے جہاں جہاں کلمہ حق کہا جاتا تھا وہ سارے علاقے یا اٹلی یا انگریز یا فرانسیسیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ برا نہ مانیں ایک وطن جو ان کے خلاف لڑا وہ افغان پشتون وطن تھا دریائے آمو سے لے کر اباسین تک، برا نہ مانیں جہاں ہندووں اور سکھوں نے انگریز کا ساتھ دیا وہاں انگریزوں کا تھوڑا ساتھ لاہوریوں نے بھی افغان وطن پر قبضہ کرنے کے لیے دیا۔‘ ان کے اس خطاب کے بعد حکومتی صفوں سے ان پر تنقید کی گئی لیکن سوشل میڈیا پر پنجابی قوم پرستوں دیگر افراد نے بھی ان الفاظ کر غیرضروری قرار دیا۔
پی ڈی ایم کے جلسوں میں یہ تیسرا موقع ہے جب محمود خان اچکزئی اس طرح سے تنقید کی زد میں آئے۔ ایسے میں سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا محمود خان اچکزئی نے جو کہا وہ تاریخی طور پر درست نہیں یا سیاسی موقعے پر محض ماضی کے واقعات کو دہرانا لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں۔ لیکن پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر طاہر محمود اچکزئی کے موقف کو اتنا بھج غلط نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوآبادیاتی نظام میں پنجاب 1849 میں برطانوی راج کا حصہ بنا ’اس وقت پنجاب میں سکھوں کی حکومت تھی اور یہ اس وقت کے شمال مغربی سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی دو بڑی لڑائیوں کے بعد انگریز پنجاب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا۔‘
پروفیسر طاہر محمود جن کی پی ایچ ڈی اسی نوآبادیاتی دور کے موضوع پر ہے، کا کہنا ہے کہ ’شروع میں پنجاب اور انگریزوں کا تعلق بہت تلخ تھا اور خوف پھیلا کر راج کیا جا رہا تھا۔ لیکن جلد ہی انگریز یہ بات بھانپ گیا کہ اس خطے پر زور زبردستی حکومت نہیں کی جاسکتی اس لیے انہوں نے اپنا طریقہ واردات بدل لیا اور یہ سب 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہوا۔ انگریز نے پنجابیوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپس پیدا کر لیے اور فوج میں سب سے زیادہ بھرتی پنجابیوں کو کیا۔ نوآبادیاتی فوج میں 50 فیصد لوگ پنجاب سے تھے۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر پنجاب میں اقتصادی اصلاحات لائی گئیں، نہری نظام، ریل اور روڈ کا نظام اور ساتھ ہی انکو مشرقی علاقوں بشمول دہلی پر قبضے کے خواب بھی دکھائے گئے۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا اس نظام کو ارتقا پذیر ہونے کے لیے دہائیاں لگیں‘۔
ڈاکٹر طاہر محمود نے اپنے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس میں بھی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں کہ پورے برصغیر میں وسائل کی تقسیم کے معاملے پر پنجاب سب سے زیادہ حصہ دار تھا اور خوش حال تھا۔ انگریز کو ایسے ہی پنجاب کی ضرورت تھی۔ بعد میں جنگ عظیم اول میں 60 فیصد لڑنے والے فوجی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے اور یہی صورتحال آج بھی اسی لئے پاکستانی فوج کو پنجابی فوج یا پنجابی اسٹیبلشمینٹ بھی کہا جاتا ہے۔ پروفیسر طاہر کے مطابق پنجاب مکمل طور پر وفادار صوبے کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، ’انگریز کو اس کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ مغربی سرحد پر روس دیگر ریاستوں پر قبضہ کے بعد افغانستان کے خواب دیکھ رہا تھا شاید یہی وہ نقطہ ہے جس پر محمود خان اچکزئی بات کر رہے تھے۔ اس وقت برطانوی فوج بہت طاقت ور ہو چکی تھی اور اس میں پنجابی اور پشتون سب سے اکثریت میں اس وقت جو 1880 میں افغان اینگلو وار ہوئی اور اس میں برطانوی نوآبادیاتی فوج کو خاطر خواہ کامیابی ملی۔ یہ جنگ اصل میں برطانیہ اور روس کی تھی۔‘
جب لاہور کی لمز یونیورسٹی کے پروفیسر علی قاسمی سے محمود اچکزئی کے بیان سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ اتنی سادگی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ لاہوری یا پنجابی ماضی میں یہ کر چکے ہیں۔ آپ کبھی بھی مکمل سیاق وسباق کے بغیر یہ بات نہیں کر سکتے کیوںکہ وہ ان زمینی اور تاریخی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں جن حالات میں اور تناظر میں یہ واقعات وقوع پذیر ہوئے، یہ حقیقت ہے کہ پنجاب انگریزوں کا سب سے وفادار صوبہ تھا لیکن یہ مقام حاصل کرنے کے لیے انہوں نے بے انتہا سرمایہ کاری کی اور حالات ایسے بنا دیے کہ تاریخ کا رخ ہی موڑ دیا۔‘
پنجاب کی تاریخ پر ناول ’مادھولال‘ لکھنے والے مصنف نین سکھ اس بحث کو ایک نہایت ہی الگ زاویے سے دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ’اس بحث کو سرے سے شروع کرنا ہی بدیانتی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پنجاب سب سے خوشحال صوبہ ہے اور باقی صوبے کسی نہ کسی انداز میں اپنا کوئی شکوہ شکایت کسی نہ کسی طریقے سے بیان کرتے رہتے ہیں تو ان کے جملوں کو کھلے دل سے سننا چاہیے۔ اس سے ایک خوبصورت فضا جنم لیتی ہے۔ ویسے اگر اچکزئی صاحب کی ذات کی حد تک بات کریں تو ان کے والد عبدالصمد اچکزئی پہلے انگریز کی قید میں تھے تو پاکستان بننے کے بعد وہ ہماری قید میں آ گئے۔ لہذا تاریخ تو ان کی دکھی ہے ہی، لیخن اس پر سیخ پا ہونے کی بجائے اس کو ٹھنڈے دل سے دیکھنا ہے۔ نین سکھ کہتے ہیں کہ ’باقی جہاں پنجاب اور پختونوں میں انگریز سرکار کے وفادار تھے، تو مزاحمتیں بھی ادھر سے ہی ہو رہی تھیں۔ بھگت سنگھ ہو یا رائے احمد خان کھرل، ایک طویل عرصے تک مزاحمت بھی ہوتی رہی ہے میں تو صرف یہی کہوں گا اس بات پر صرف تعمیری بحث ہو سکتی ہے تخریبی یا بحث برائے بحث نہیں۔‘
اس موضوع پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی قیادت کو مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’بیرونی ایجنٹ لاہور آ کر جلسے کرے اور پنجابیوں اور لاہوریوں کے خلاف بات کرے اور آپ خاموش رہے۔ آپ کی خاموشی نے پنجابیوں اور لاہوریوں کا دل توڑا۔ فواد چودھری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو بھی پنجاب کی وجہ سے عزت ملی۔ ن لیگ کی عزت پنجاب کی وجہ سے ہے، لاہور نے ن لیگ کو 14 سیٹیں دیں۔ ہمارا گلہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے بنتا ہے۔ تاہم سچ تو یہنہے کہ تاریخی حقائق کی روشنی میں محمود اچکزئی کا گلہ بھی ناجائز نہیں لگتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button