مارچ کے سینیٹ الیکشن اپوزیشن کے لیے ڈراؤنا خواب کیوں ہیں؟

سینٹ سے مارچ 2020 میں ریٹائر ہونے والے 103 اراکین میں سے 65 فیصد کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہے لہذا پی ڈی ایم کی پوری کوشش ہے کہ مارچ 2020 میں اپنا جھٹکا ہونے سے پہلے وہ عمران خان کی حکومت کو گرا دے تاکہ وہ سینٹ میں اکثریت حاصل نہ کر پائے۔ اپوزیشن اتحاد نے اس لیے یہ منصوبہ بھی بنا رکھا یے کہ اگر مارچ سے پہلے حکومت کا خاتمہ نہ ہوا تو پھر سینٹ کے الیکشن رکوانے کے لئے اسمبلیوں سے استعفے دے دیئے جائیں تاکہ ایوان بالا کا الیکٹورل کالج ہی ختم ہو جائے۔
یاد ریے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں سینٹ کا الیکٹورل کالج تشکیل دیتی ہیں اور 11 مارچ 2021 کو اپنی 6 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے 65 فیصد سے زائد سینیٹرز کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہے۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھیں تو آئندہ سال مارچ میں موجودہ 103 اراکین سینٹ میں سے 52 اراکین ریٹائر ہورہے ہیں، جس میں 34 کا تعلق اپوزیشن جماعتوں جبکہ 18 اراکین کا تعلق حکومتی بینچوں سے ہے
نمائندگی کے حساب سے دیکھیں تو ایوان بالا میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نقصان سب سے زیادہ ہوگا کیونکہ اس کے 57 فیصد اراکین 6 سالہ مدت پوری کرکے آئندہ برس مارچ میں ریٹائر ہورہے ہیں۔ سینیٹ میں اراکین کے حساب سے سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 30 سینیٹرز میں سے مارچ 2021 میں 17 ریٹائر ہورہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر راجا ظفر الحق، پارٹی کے پارلیمانی لیڈر مشاہد اللہ خان اور سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید مسلم لیگ (ن) وہ نامور لوگ ہیں جو ریٹائر ہورہے ہیں۔ جبکہ ریٹائر ہونے والے 52 سینیٹرز میں سے 8 اراکین پیپلزپارٹی کے بھی ہیں جو اپنی 6 سالہ مدت پوری کریں گے۔ ان میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا، پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن، سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور سابق وزیر قانون فاروق نائیک شامل ہیں جو پیپلزپارٹی کے موجودہ 21 سینیٹرز میں سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
تاہم سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہونے کے باعث سلیم مانڈوی والا، رحمٰن ملک اور فاروق نائیک کے دوبارہ سینیٹ میں آنے کے امکانات روشن ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف)، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 2، 2اراکین اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک، ایک سینیٹر آئندہ سال مارچ میں ریٹائر ہورہے ہیں۔جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق بھی مارچ میں ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں شامل ہیں۔
دوسری طرف اگر حکمران جماعت تحریک انصاف کی بات کی جائے تو اس کے موجودہ 14 سینیٹرز میں سے 7 ریٹائر ہورہے ہیں جس میں سے زیادہ تر خیبرپختونخوا سے ہیں۔پی ٹی آئی کے ریٹائر ہونے والے ان اراکین میں سے سب سے اہم وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز ہیں۔ انکے علاوہ محسن عزیز اور نعمان وزیر بھی ریٹایئر ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی، جسے پہلی مرتبہ 2015 میں سینیٹ میں نمائندگی حاصل ہوئی تھی، کے پاس نہ صرف اب اپنی نمائندگی بہتر کرنے کا موقع ہے بلکہ وہ ایوان کی سب سے بڑی جماعت بھی بن سکتی ہے کیونکہ اس کے پاس پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیز میں بڑی تعداد موجود ہے۔
علاوہ ازیں دیگر 18 حکومتی سینیٹرز جو ریٹائر ہونے جارہے ہیں ان میں 4 کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ اور 3 کا بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے جبکہ 4 آزاد امیدوار سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا سے ہیں۔ایم کیو ایم کے جو اراکین سینیٹ اپنی مدت پوری کر رہے ہیں ان میں خوشبخت شجاعت، میاں عتیق شیخ، بیرسٹر محمد علی سیف اور نگہت مرزا شامل ہیں۔اسی طرح شعلہ بیان سینیٹر عثمان کاکڑ بھی ریٹائر ہورہے ہیں جبکہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی مولانا عطا الرحمٰن، پارٹی کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری بھی ریٹائر ہورہے ہیں۔
اے این پی وہ واحد جماعت ہے جو سینیٹ سے اپنی نمائندگی کے خاتمے کے دہانے پر ہے کیونکہ اس کی واحد رکن ستارہ ایاز بھی ریٹائر ہونے والی ہیں، جس کے بعد اسمبلیوں میں موجودہ پارٹی پوزیشن پر ایوان بالا کے لیے کسی رکن کے منتخب ہونے کا امکان تقریباً نہیں ہے۔تاہم ستارہ ایاز اے این پی سے اختلاف کرتی ہیں اور وہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف ناکام تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے وقت مبینہ طور پر دھوکا دینے پر نکالے جانے کے بعد سے اپوزیشن کا باقاعدہ حصہ بھی نہیں بن رہیں۔
واضح رہے کہ سینیٹ کے اراکین کی کل تعداد 104 ہے تاہم سابق وزیرخزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار نے سینیٹر کی حیثیت سے حلف نہیں اٹھایا تھا کیونکہ وہ لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ خودساختہ جلاوطنی میں رہ رہے ہیں۔ سینیٹ کے 104 اراکین میں سے 4 فیڈریٹنگ یونٹس یعنی صوبوں میں سے ہر ایک سے 23، فاٹا سے 8 اور اسلام آباد سے اراکین شامل ہوتے ہیں۔صوبے کے لیے مختص 23 نشستوں میں سے 14 جنرل نشستیں، 4 خواتین کے لیے، 4 ٹیکنوکریٹس کے لیے اور ایک اقلیتی رکن کے لیے ہے۔
ایک سینیٹر کی مدت 6 سال ہے تاہم مجموعی تعداد میں سے 50 فیصد ہر 3 سال بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں اور نئے سینیٹرز کے لیے انتخابات کرائے جاتے ہیں، ہر صوبے کے مختلف نشتوں کو پورا کرنے کے لیے ’ایک ہی منتقل شدہ حق رائے دہی کے ذریعے متناسب نمائندگی کے نظام‘ کے ساتھ انتخابات ہوتے ہیں۔ تاہم آنے والا سینیٹ 98 اراکین پر مشتمل ہوگا کیونکہ ملک کے قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد 4 خالی نشستوں پر انتخابات نہیں ہوں گے، لہٰذا سینیٹ کے انتخابات ہمیشہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن پر انحصار کرتے ہیں۔
تاہم اب دیکھنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی تحریک کے ذریعے سینیٹ انتخابات سے قبل حکومت کو گھر بھجوانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا حکومت قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے؟
