کیا PDM اتحاد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اتحاد کو پچھاڑ پائے گا؟

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے کپتان حکومت کو گرانے کی خاطر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے اور لانگ مارچ کے اعلان کے بعد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے اپنے لئے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور مشکل ہدف کا انتخاب کیا ہے کیونکہ اس مرتبہ ان کا مقابلہ صرف حکومت سے نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ہے جو کہ ماضی میں ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت وقت کو گرانے کا فریضہ سر انجام دیتی رہی ہے۔
لہذا تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسے میں حکومت مخالف تحریک کی کامیابی کا حصول اپوزیشن کے لیے جوئے شیر لانے کے متراف ہوگا۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی حکومت اپنے ہی بوجھ سے گر جائے گی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ بھی زیادہ عرصہ گندی ترین پرفارمنس دکھانے والی اس حکومت کا بوجھ لے کر نہیں چل پائے گی۔ اپوزیشن والوں کا کہنا ہے کہ عوام اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ عمران کو فوجی اسٹیبلشمنٹ اقتددار میں لے کر آئی تھی اور اس کی ناکامی دراصل فوجی قیادت کی ناکامی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ویسے بھی اپوزیشن کی تحریک کا اصل ہدف فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے اور وہ لانگ مارچ اور استعفوں کا دباو ضرور لے گی۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 31 جنوری تک مستعفی ہو جائے ورنہ یکم فروری کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اسلام آباد کی طرف مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ لاہور کے جلسے میں جن نکات کا اعلان کیا گیا ہے اس کے تسلسل میں ایک اعلامیے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں اور پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے کارکن اور عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ آج ہی سے لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد نے 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والے جلسے میں جنوری کے آخر یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دھاندلی کی پیداوار پارلیمنٹ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس پارلیمنٹ کے ذریعے سے ناجائز حکومت کو چلنے دیں گے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ حالیہ اعلان کردہ مارچ کامیاب ہو پائے گا اور کیا اپوزیشن اتحاد اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر پائے گا؟
سیاسی ماہرین کے مطابق ہماری سیاسی تاریخ میں مختلف حکومتوں کے خلاف احتجاجی لانگ مارچ کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے زیادہ تر دھمکی کے طور پر استعمال کیا۔ ملکی سیاست میں لانگ مارچ اور دھرنے اہمیت تو رکھتے ہیں لیکن اکثر حکومتیں ان سے زیادہ پریشان نہیں ہوتیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ اگر ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو کوئی رہنما لانگ مارچ کر کے یا دھرنا دے کر حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے لیکن حالات کو خراب کرنے، حکومتی رٹ کمزور کرنے اور اپوزیشن کے مطالبات میں جان ڈالنے میں ان تحریکوں کا کردار رہا ہے۔ ان مارچوں کے نتیجہ میں فوری طور پر نہ سہی لیکن کچھ عرصے کے بعد ملکی سیاست کا رُخ بدلا ضرور تھا۔ مثال کے طور پر عمران خان کا نواز شریف حکومت کے خلاف لانگ مارچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا تھا لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد ہی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو اقامہ رکھنے کے جرم میں نااہل قرار دے دیا تھا۔ مجیب شامی کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم حکومت پر کتنا دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو گی اور یہ کیسے ممکن ہو گا یہ آنے والا وقت بتائے گا، کیوں کہ بظاہر اس کا کوئی قانونی و آئینی جواز نظر نہیں آتا لیکن سیاست جب سڑکوں پر آتی ہے تو آئین اور قانون کے سہارے نہیں چلتی اور یہ وقت بتائے گا کہ کیا اپوزیشن جماعتیں مل کر سیاست کو اپنے طریقے سے چلانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن یہ چاہتی ہے کہ ایک ڈیڈ لاک پیدا کیا جائے اور حکومت مفلوج ہو کر رہ جائے لیکن یہاں یہ امر دلچسپ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپوزیشن کا ہدف صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ بھی ہے، ایسے میں اکیلی اپوزیشن دو بڑی قوتوں سے کیسے نمٹے گی اور انھیں کیسے شکست دے گی، ملکی تاریخ میں آج تک تو ایسا ہوا نہیں ہے۔ مجیب شامی نے کہا کہ بظاہر اپوزیشن نے اپنے لیے جو ہدف رکھا ہے وہ بہت مشکل دکھائی دیتا ہے اور اس کا حصول آسان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تک پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جھگڑا حد سے بڑھا ہے تو فوج نے مداخلت کی ہے اور دونوں فریقین کو الگ الگ کر کے فوج کو اپنی حکومت قائم کرنے کا موقع ملا ہے۔ مجیب شامی نے سوال کیا کہ کیا اس بار بھی معاملات اس انجام تک جائیں گے یا مختلف صورت حال ہو گی اس بارے میں حتمی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔
تاہم سینیئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ لانگ مارچ سے بالکل فرق پڑتا ہے اور حکومت ہل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے پاس استعفے اور لانگ مارچ ایک آخری حربہ ہوتا ہے۔ یہ ایک اسی چیز ہے جس سے سیاست، ملکی نظام اور معیشت معطل ہو جاتی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے ایک بحران یقیناً پیدا ہو جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات سے قبل وہ اس نظام کو معطل کریں یا کم از کم اس کو روک دیں۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگر سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ اپوزیشن کے لیے مذید۔مشکل ہو جائے گی، لہذا یہ اس لیے بھی مارچ سے پہلے لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال پر کہ کیا اپوزیشن کی صفوں میں استعفوں کے بارے میں کوئی تذبذب ہے، انھوں نے تبصرہ کیا کہ جب اپوزیشن کو یہ یقین ہو گا کہ استعفوں کے بعد نظام چل نہیں سکے گا اور انتخابات ہوں گے، تو سب استعفے دے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے استعفوں کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری ابہام ختم کر چکے ہیں اور اب تمام جماعتیں تمام اسمبلیوں سے استعفے دینے پر متفق ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اگر پی ڈی ایم لانگ مارچ کرنے میں کامیاب رہی تو حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور اصل امتحان بھی حکومت کا ہو گا کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے، کیا وہ مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے یا طاقت کے استعمال سے اسے ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس سب کا فیصلہ اگلے آنے والے چند ہفتوں کے حالات پر منحصر ہے۔
ماضی کے لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دو تین ایسی مثالیں ہیں جب لانگ مارچ کے سیاسی ثمرات سامنے آئے جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں عدلیہ بحالی کی تحریک کا لانگ مارچ جب گوجرانوالہ پہنچا تھا تو تیسرے فریق کی مداخلت پر عدلیہ بحالی کا وعدہ ہو گیا۔ اسی طرح نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے لانگ مارچ کرنا تھا تو ایک دن پہلے تیسرے فریق کی کال آ گئی اور اس کے بعد نواز شریف کی حکومت جاتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کے لانگ مارچ نے بھی حکومت کے لیے وفاقی دارالحکومت کے لیے امن و امان کی صورتحال پیدا کی۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ لانگ مارچ حکومت وقت کے لیے ایک سنگین دھمکی ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دس ہزار افراد بھی اسلام آباد پہنچ جائیں تو حکومت کے لیے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی خطرہ بن جاتا ہے، ایسے میں اگر سیاسی جماعتیں استعفے دینے کی دھمکی بھی دیں تو حکومت کے لیے مشکل اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ پارلیمانی نظام معطل اور جمہوری نظام جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہذا اس اصول اور اس کا کہنا تھا کہ میں ان تجزیہ نگاروں سے اتفاق نہیں کرتا جو یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کی جانب سے استعفے دینے اور لانگ مارچ شروع کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کا اصل ہدف اسٹیبلشمنٹ ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ لانگ مارچ اور استعفوں کا اثر ضرور لے گی۔
