کیا پنجاب اور کے پی الیکشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی؟

ملک کے دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان صوبوں میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات ساتھ ہوں گے یا نہیں۔ایک طرف جہاں دو صوبوں میں انتخابات سے متعلق صورت حال غیر واضح ہے وہیں صدر ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو ایک خط کے ذریعے تاکید کی ہے کہ وہ دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کریں۔جبکہ حکومتی وزرا یہ کہہ رہے کہ امن و امان اور معاشی صورتِ حال میں انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے۔ تاہم قانونی و سیاسی ماہرین کے مطابق سیاسی جماعتوں کے مابین باہم گفت و شنید سے انتخابی معاملات کا حل نظرنہیں آتا اور غالب امکان یہی ہے کہ یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ جائے گا اور آئندہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ ہی کرے گی۔
دوسری جانب پنجاب، خیبرپختونخوا اسمبلیوں اور ضمنی انتخابات کے لیے وزارتِ دفاع، خزانہ اور عدلیہ نے الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنے سے معذرت کرلی ہے۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال کے باعث فوج کو انتخابات کے لیے آئندہ چند ماہ تک تعینات نہیں کیا جاسکتا۔ادھر پاکستان تحریک انصاف زور دے رہی ہے کہ آئین کی روح سے انتخابات کے انعقاد میں تاخیر نہیں کی جاسکتی۔سابق چیئرمین سینٹ اور آئینی ماہر وسیم سجاد کہتے ہیں کہ یہ آئین کا تقاضا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز کے اندر انتخابات ہونے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دو صوبوں میں نگران حکومت ہےجو نامزد حکومت ہے منتخب حکومت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کہتا ہے کہ حکومت منتخب لوگوں کے پاس ہوگی اور نگران حکومت کی مدت میں طوالت کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
دوسری جانب سابق وزیر قانون خالد رانجھا کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں دو صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے عام انتخابات میں تین ماہ کے وقت کا فرق ہے اور ایسے میں حکومت چاہتی ہے کہ یہ انتخابات ایک ساتھ ہوجائیں۔انہوں نےکہا کہ حکومت ایک وقت میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد پر اتفاق رائے چاہ رہی ہے لیکن آئینی اعتبار سے انتخابات میں تاخیر کا جواز نہیں بنتا۔وہ کہتے ہیں کہ آئینی طور پر صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کی اپنی اپنی مدت ہے۔ اصولی طور پر تحلیل ہونے والی اسمبلی کے انتخابات 90 روز میں ہوجانے چاہئیں۔دوسری طرف حکومتی وزراء یہ کہتے رہے ہیں کہ امان و امان اور معاشی صورتِ حال کے باعث صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانا ممکن نہیں اور پنجاب و خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات بھی رواں سال اکتوبر میں عام انتخابات کے ساتھ کرائے جائیں گے۔
خالد رانجھا کہتے ہیں کہ چوں کہ انتخابات ایک بڑا مرحلہ ہے اور یہ آسان عمل نہیں۔ انتخابات پر بڑی مالی لاگت بھی آتی ہے اور اس وجہ سے بھی یہ سوچ ہے کہ صوبائی اور قومی انتخابات ایک ساتھ ہوں۔تاہم وسیم سجاد کہتے ہیں کہ حکومت انتخابات کو ایک ساتھ کروانا چاہتی ہے لیکن اس کی آئین میں گنجائش موجود نہیں اور حکومت پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں رکھتی اور سادہ قانون سازی سے آئین میں تبدیلی کی نہیں جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک ساتھ یا الگ الگ انتخابات کا حل نہیں نکلتا اور معاملہ طول پکڑتا ہے تو یہ معاملہ عدالت چلا جائے گا اور پھر عدلیہ ہی اس پر فیصلہ دے گی۔خالد رانجھا کہتے ہیں کہ ان کی رائے میں سیاسی معاملات کو عدالت میں لے جانے کی روش بڑھ رہی ہے جس نے گورننس کو عدالتوں پر ڈال دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ سیاسی معاملات سیاست دانوں کو ہی حل کرنا ہوتے ہیں۔ اس کا فورم پارلیمنٹ ہونا چاہیے نہ کہ عدالتیں۔ ان کے بقول اس عمل سے نہ صرف حکومت کمزور ہوتی ہے بلکہ عدلیہ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے کہا کہ آئین کے مطابق 90 روز میں الیکشن لازمی کروانے ہوں گے۔’انتخابات الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 کے مطابق صدر کو ای سی پی سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرنا ہوتا ہے جبکہ ای سی پی سات دن میں الیکشن پروگرام کا اعلان کرے گا۔‘
آئینی ماہر وسیم سجاد نے کہا کہ اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز کے اندر انتخابات ہونا آئین کا تقاضہ ہے اور نگراں حکومت کی مدت میں طوالت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ کسی ہنگامی صورت حال جس کا حل ممکن نہیں، ایسے میں انتخابات میں تاخیر کا جواز نکالا جاسکتا ہے لیکن عام حالات میں ایسا نہیں ہو سکتا۔دیکھا جائے تو ایمرجنسی لگانے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 232 میں ’جنگ یا بیرونی جارحیت اور داخلی خلفشار‘ کو وجوہات کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن پر صوبہ قابو نہ پا سکے۔اس آرٹیکل کے مطابق اگر صوبے میں داخلی خلفشار کی وجہ سے ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو تو صوبے کی اسمبلی ایک قرارداد منظور کرے گی۔صدربھی ایمرجنسی کا نفاذ کر سکتے ہیں لیکن اس صورت میں معاملے کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا جنہیں 10 روز کے اندر اس کی منظوری دینی ہوگی۔ایمرجنسی کی مدت دو ماہ ہوگی اور مشترکہ اجلاس میں اس کی توسیع کی منظوری دی جا سکتی ہے، اگر یہ منظوری نہ دی گئی تو دو ماہ بعد ایمرجنسی ختم ہو جائے گی۔آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔یہ ایمرجنسی صرف دو ماہ کے لیے لگائی جاسکتی ہے لیکن پارلیمان کا مشترکہ اجلاس اس میں مزید دو ماہ کی توسیع کرسکتا ہے۔ مجموعی طور پر ایمرجنسی میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات نو اپریل سے 13 اپریل اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات 15 سے 17 اپریل کے درمیان کرانے کی تجویز دی تھی۔
