کیا چین اور امریکہ میں بالآخر جنگ چھڑنے والی ہے؟

چین کے خلاف کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے الزامات اور خطے کے دیگر تنازعات کے تناظر میں امریکہ نے بحرالکاہل میں گوام کے مقام پر اپنے بحری بیڑوں پر ایک بار پھر بمبار طیارے بھجوا دئیے ہیں جس کے بعد امریکہ اور چین کے مابین جنگ چھڑنے کے خطرے میں اضافہ ہوگیا ہے۔ دفاعی اور معاشی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ دنیا کی واحد سپرپاور کہلانے والا امریکہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت چین سے جنگ کے لیے پر تول رہا ہے تاہم کہا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین روایتی جنگ کے امکانات نسبتاً کم ہیں البتہ دونوں میں سے جو ملک ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے نکل گیا وہ یہ جنگ جیت جائے گا۔
امریکہ کی جانب سے چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ایسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی دونوں طاقتوں کے درمیان ایک ایسی جنگ کی صورت میں بدل سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد ان دنوں امریکہ میں ایک ایسے ماڈل کا ذکر ہو رہا ہے جو یونانی تاریخ دان توسیڈائڈز کے نام کی مناسبت سے ہے۔ اس ماڈل کو ’تو سیڈائڈز ٹریپ‘ کہا جا رہا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے انٹرنیشنل افیئرز کے پروفیسر گراہم ایلیسن کی کتاب’ ڈیسٹنڈ فار وار: کین امریکہ اینڈ چائنا آوئڈ ٹوسیڈائڈز ٹریپ‘(Destined For War: Can America and China Avoid Thucydides Trap؟) ایک ایسی کتاب کی شکل دھار چکی ہے جسے پڑھنے والے یہ ماننے کو تیار ہیں کہ بحرالکاہل میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں امریکہ اور چین کے مابین جنگ ہوسکتی ہے۔ پروفیسر گراہم کے بقول وسیڈائڈز ٹریپ ا ایک ایسے خطرناک عمل کا نام ہے جس میں ایک پرانی طاقت یہ خطرہ محسوس کرتی ہے کہ ابھرتی ہوئی طاقت اس کی جگہ لے لے گی۔ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ قدیم یونان میں جب سپارٹا کو ایتھنز سے خطرہ محسوس ہوا تو دونوں کے مابین جنگ ہوئی۔ انیسویں صدی میں برطانیہ کو جرمنی سے خطرہ محسوس ہوا تو جنگ ہوئی اورآج چین امریکہ کو چیلنج کر رہا ہے تو بھی جنگ کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔
پروفیسر گراہم ایلیسن نے پانچ سو برس کی تاریخ کو چھان کرسولہ ایسی مثالوں کی نشاندہی کی ہے جس میں ابھرتی ہوئی طاقتوں نے پہلے سے موجود طاقت کا سامنا کیا اور سولہ میں سے بارہ کا نتیجہ جنگ کی صورت میں نکلا۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور چین کی رقابت عالمی تعلقات کا ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ تاہم دوسری جانب چین کے مشہور نیول ماہر اور پیکنگ یونیورسٹی کے انسٹیوٹ آف آوشن ریسرچ کے پروفیسر ہو بو نے بتایا کہ طاقت کے موجودہ توازن میں توسیڈائڈز ٹریپ کی تھیوری قابل یقین نہیں ہے۔ پروفیسر ہو بو کہتے ہیں کہ چین کی ترقی اچھی ہے لیکن اس کی موجودہ طاقت کا امریکی طاقت سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ چین زیادہ سے زیادہ بحرالکاہل میں کسی حد تک امریکہ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ بحرالکاہل میں دونوں ممالک کا آمنا سامنا دونوں طاقتوں کے مابین جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ بھی اپنی پوزیشن بدل رہا ہے۔ امریکہ چین اور روس کو ایسی طاقتیں تصور کرتا ہے جو اپنے نظریے پر غور کرنے پر تیار ہیں۔ امریکی فوج چین کو اپنا حریف تصور کرتی ہے لیکن امریکہ میں کچھ ماہرین نے روس کی طرح، چین کے ساتھ بھی سرد جنگ کی بات کی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ روس کے برعکس چین اور امریکہ کی معیشتیں باہم جڑی ہوئی ہیں جس سے سرد جنگ کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے اور وہ ہے ٹیکنالوجی کے سیکٹر میں برتری۔
ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکہ اور چین کے مابین ہواوے ٹیلی کمیونیکیشن کا تنازعہ اس کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ امریکہ چین کی ہواوے ٹیکنالوجی کو اپنے کمیونیکشن نیٹ ورک میں استعمال کرنے پر پابندیاں عائد کر رہا ہے اور اپنے اتحادیوں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔ ہواوے ٹیکنالوجی کے ساتھ تنازعہ اس امریکی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ چین کے ٹیکنالوجی سیکڑ کو اپنے انٹیلیکچؤل پراپرٹی رائٹس اور رازوں کی چوری کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ دفاعی اور معاشی ماہرین متفق ہیں کہ ہواوے کمپنی کا تنازعہ اس سوچ کا مظہر ہے کہ چین بہت جلد ٹیکنالوجی سیکٹر میں غلبہ حاصل کرلے گا جس پر آنے والے وقتوں میں دنیا کی خوشحالی کا انحصار ہو گا اور اسی بنیاد پر چین اور امریکا کے مابین جنگ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button