کیا کراچی میں آرٹیکل 149 کے استعمال کا آپشن ابھی باقی ہے؟


معلوم ہوا ہے کہ اگر ایک دوسرے کے شدید مخالف سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور ایم کیو ایم 16 اگست کے روز کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے اکٹھے ہو کر کام کرنے کا فیصلہ نہ کرتیں تو وفاق نے کراچی میں آرٹیکل 149 کے استعمال کا فیصلہ کر لیا تھا۔ حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سندھ میں معاملات بہتر بنانے کے لئے بنائی گئی چھ رکنی مشاورتی کمیٹی ناکام رہی تو پھر آئین کی شق 149 کا استعمال ناگزیر ہو جائے گا۔
باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں کی جانب سے سندھ میں گورنرراج نافذ کیے جانے کی مخالفت کے بعد وفاقی وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ وفاقی حکومت کراچی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے ’آئین کی شق 149 کا نفاذ‘ کردے۔ فروغ نسیم کا موقف تھا کہ شق 149 ایک آزاد شق ہے جو صوبائی خود مختاری کے خلاف نہیں اور اس کے تحت وفاق صوبائی حکومت کو انتظامی معاملات بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری کر سکتا ہے۔
تاہم مقتدر حلقوں کی جانب سے وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا گیا کہ ایسا کوئی بھی اقدام وفاق اور سندھ کے مابین معاملات کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے گا لہذا پہلے سندھ حکومت کے ساتھ معاملات کو مذاکرات سے سلجھانے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ 16اگست کو مذاکرات کے نتیجے میں پی پی پی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے وفاق اور سندھ سے تعلق رکھنے والے نمائندوں پر مشتمل ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو کراچی کے مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرے گی۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اس مشاورتی کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ وفاق کی جانب سے اسد عمر، علی زیدی اور امین الحق جبکہ سندھ کی جانب سے ناصر شاہ اور سعید غنی نمائندگی کریں گے۔
تاہم وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب نہ ہوا تو پھر سندھ میں آیئن کی شق 149 کے نفاذ کے علاوہ اور کوئی آپشن باقی نہیں رہے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کا پانچواں حصہ صوبوں اور وفاق کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ضوابط کا تعین کرتا ہے۔ آئین کی شق 149 کے تحت وفاقی حکومت چند معاملات پر صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتی ہے، ان میں قومی یا فوجی اہمیت کے حامل ذرائع مواصلات کی تعمیر و مرمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصے کے امن و سکون یا اقتصادی زندگی کے لیے سنگین خطرے کے انسداد کے لیے اپنا انتظامی اختیار استعمال کرنے کی ہدایت شامل ہے۔ذیلی شق 2، جس کے تحت وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو کنکرنٹ لسٹ میں موجود معاملات کے حوالے سے ہدایات دے سکتی تھی، اٹھارہویں ترمیم میں کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے ساتھ حذف کر دی گئی۔ چنانچہ ایسی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کا اختیار صرف ہدایات دینے تک محدود ہے، تو شق 149 کے بارے میں وفاقی حکومت کی جانب سے انتظامی اختیارات کے استعمال کے ذریعے کراچی کے امور اپنے ہاتھ میں لے لینے کا تاثر کیوں پیدا ہو رہا ہے؟
اس حوالے سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پِلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کو شق 149 کے تحت لامحدود اختیارات حاصل نہیں ہیں، اور آئین میں اس حوالے سے صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار کیا ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گورننس کے مسائل کے حل کے حوالے سے اگر وفاقی حکومت سنجیدہ ہے تو اسے میڈیا پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل، اقتصادی رابطہ کمیٹی، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ سمیت کئی راستے ہیں جنھیں استعمال کرتے ہوئے باہمی طور پر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کے سابق وزیر قانون رانا ثناللہ کا کہنا تھا کہ ‘صوبائی معاملات میں وفاقی مداخلت کی ماضی میں بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ہے اور ایسا کوئی بھی کام کرنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے۔ اور 149 کا بھی یہ منشا نہیں ہے۔’انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام اٹھارہویں ترمیم کی روح کے خلاف ہوگا اور یہ تاثر گمراہ کن ہے کہ وفاقی حکومت کو ایسے کوئی خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔
پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر بھی صوبائی خود مختاری کے حوالے سے یہی نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شق 149 (4) کے تحت وفاقی حکومت جن معاملات پر ہدایت دے سکتی ہے وہ صرف قومی اہمیت کے ہی معاملات ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات ضلعی سطح پر بھی حل ہوسکتے ہیں جس کے لیے وفاق کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان کے مطابق آئین میں اس حوالے سے وضاحت سے متعین ہے کہ ہدایات کس معاملے پر دی جا سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہدایات واقعی ان مضامین کے بارے میں ہیں جن کے بارے میں وفاق قانون سازی کر سکتا ہے تو صوبوں پر لازم ہے کہ وہ ان پر عمل کریں لیکن اگر یہ ہدایات ایسے مضامین کے بارے میں ہیں جن پر قانون سازی صرف صوبہ کر سکتا ہے تو یہ صوبے پر فرض ہے کہ وہ اس صورت میں آئین کی پیروی کرے اور انھیں پسِ پشت ڈال دے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button