کیا کپتان مدت پوری کریں گے یا مائنس کا شکارہو جائیں گے؟

پاکستانی تاریخ کے 30 ویں وزیراعظم عمران خان کو اپنا عہدہ سنبھالے بمشکل دو سال پورے ہوئے ہیں لیکن مائنس ون کی بحث بہت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ لہذا سوال یہ ہے کہ کیا عمران بطور وزیر اعظم اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کر پائیں گے یا نہیں، اس سوال کے جواب میں ابھی حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔
اگر عمران خان اپنی آئینی مدت پوری کر پاتے ہیں تو پاکستانی سیاست میں انھیں ایک ’صاحب کرامت سیاست دان‘ کے طورپر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیوںکہ ان سے پہلے ان کے کسی بھی پیش رو نے آج تک اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری نہیں کی۔ خان سے پہلے بہت سے ایسے تھے جو ان سے کہیں زیادہ مضبوط، طاقت ور اور مقبول تھے۔ یہ وہ تاریخی حقیقت ہے جس سے ہمارا کوئی بھی سیاست دان عبرت تو کیا سبق بھی سیکھنے کو تیار نہیں۔ یہ حقیقت ہمارے سیاسی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ آج تک جس وزیر اعظم نے کسی ایک ہی آئینی مدت میں سب سے زیادہ دن اس عہدے پر گزارے، وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے۔ لیاقت علی خان نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر 15 اگست 1947 کواپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور 16 اکتوبر 1951 کو لیاقت باغ میں سید اکبر نامی شخص کی گولی کا نشانہ بننے تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یوں ان کے اس عہدے پر رہنے کی مدت 1524دن یعنی چار سال، دو ماہ اور ایک دن بنتی ہے۔ اس کے بعد کوئی بھی وزیر اعظم اپنے اس پیش رو کا ریکارڈ نہ توڑ سکا، جیسے کسی المیے ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
لیاقت علی خان کے بعد نواز شریف دوسرے خوش نصیب شخص ہیں جو کسی ایک ہی آئینی مدت میں سب سے زیادہ یعنی 1515 دن اس عہدے پر فائز رہے۔ نواز شریف اس حوالے سے بھی زیادہ خوش نصیب ٹھہرے کہ وہ پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں جو تین بار اس منصب کے لیے منتخب ہوئے۔
چھ نومبر 1990 کو وہ پہلی بار وزیر اعظم بنے۔ 18اپریل 1993 کو صدر غلام اسحٰق خان نے ان کی حکومت پر 58 ٹو بی کے کلھاڑے کا وار کیا جسے انھوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ 26 مئی 1993کو یعنی 39 دن بعد ہی سپریم کورٹ نے انہیں دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے پر بحا ل کر دیا لیکن صرف 54 دن بعد 18جولائی 1993کو ایک معاہدے کے تحت انہیں اور صدر اسحق دونوں کو استعفیٰ دینا پڑا۔ یوں وہ اپنے پہلے دور حکومت میں 949 دن وزارت عظمی کے عہدے پر براجمان رہے۔ دوسری مرتبہ وہ 17 فروری 1997 کو وزیر اعظم منتخب کیے گئے۔ 12 اکتوبر 1999 کو پرویز مشرف نے ایک ‘کاونٹر کو’ میں ان کی حکومت کا تختہ دھڑن کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یعنی اس بار انہوں نے 968 دن تک اس عہدے کے مزے لوٹے۔ پانچ جون 2013 کو میاں صاحب تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم منتخب کیے گئے لیکن چار سال ایک ماہ اور 23 دن بعد 28جولائی 2017 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سےانھیں نااہل قرار دیا گیا۔ یوں اب کی بار وہ 1515 دن اس عہدے پر فائز رہے۔ اگراب کی بار وہ صرف دس دن مزید اس عہدے پر ٹکے رہتے تو وہ کسی ایک ہی آئینی مدت میں وزیر اعظم کے عہدے پرسب سے زیادہ دن فائز رہنے والے پہلے شخص ہوتے۔
تیسرے نمبر پر آنے والے خوش نصیب وزیر اعظم پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی ہیں۔ اگرچہ 25 مارچ 2008 کو بننے والی ان کی حکومت نے پاکستان کی گذشتہ 65 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار آئینی مدت پوری کی تھی۔ تاہم وہ خود اتنے خوش نصیب ثابت نہ ہو سکے کہ اپنی آئینی مدت پوری کر سکتے۔ انہیں 26 اپریل 2012 کو توہین عدالت کے ایک کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے 30 سیکنڈ کی سزا سنائی گئی۔ یوں وہ مجرم قرار پائے۔ اگرچہ وہ عملی طور پر 19جون 2012 تک فائز رہے، لیکن چوں کہ عدالت نے 19 جون 2012 کو مقدمے کے فیصلہ میں لکھا کہ سزا کے بعد گیلانی پارلیمان کی رکنیت سے نااہل ہو چکے ہیں اس لیے اب وہ وزیر اعظم نہیں رہ سکتے۔ الیکشن کمیشن کو عدالت نے ہدایت کی ان کی معزولی کا حکم جاری کرے جو فیصلے کے چند ہی گھنٹوں بعد جاری کر دیا گیا اور کہا گیا کہ گیلانی کو 26 اپریل 2012 سے معزول سمجھا جائے۔ یوں وہ عملی طور پر تو 1548 دن تک وزیر اعظم رہے لیکن آئینی طور پر 1494 دن ہی وزیر اعظم رہے۔
یہاں اس امر کا ذکردلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ اگر 19جون 2012 کو سپریم کورٹ 26 اپریل کے بجائے اسی دن (یعنی 19جون) سے گیلانی کو معزول کرنے کے احکامات جاری کرتی تو وہ اس حوالے سے پاکستان کے تمام وزرائے اعظم پر سبقت لے جاتے کیوںکہ اس صورت میں ان کے اقتدار کی مدت 1548 دن بنتی، جو نہ صرف نواز شریف کے تیسرے دور سے یعنی 1515 دن سے 33 دن زیادہ بنتی بلکہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے 1524 دنوں سے بھی پورے 24 دن زیادہ بنتی۔ اس لحاظ سے ہم گیلانی کو بد نصیب بھی قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں عملی طور پر سب سے زیادہ دن وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود آئینی طور پر اس عہدے پر فائز رہنے والوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔
اس سے بھی حیرت انگیز مماثلت یہ ہے کہ نواز شریف کی پہلی حکومت سپریم کورٹ کی طرف سے بحال ہونے کے بعد صرف 54 دن چلی اور تقریباً 19 سال بعد 19جون 2012 کوعدالت نے جب یوسف رضا گیلانی کی 26 اپریل سے معزولی کے احکامات جاری کیے تو ان کے ان 55 دنوں کو منہا کر دیا گیا، جوانہوں نے بطور وزیر اعظم، پرائم منسٹر ہاؤس میں گزارے تھے۔ چوتھے نمبر پر آنے والے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ جنھوں نے 1973 کا متفقہ آئین دینے کے بعد صدارت سے استعفیٰ دیا اور 14اگست 1973 کووزارت عظمیٰ سنبھالی۔ 1422 دن بعد پانچ جولائی 1977 کو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیاء الحق نے انہیں گرفتار کر کے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا اور بعد ازاں اس مقبول ترین سیاست دان کو چار اپریل 1979 کو ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں تختہ دار پر لٹکا دیا۔ تاریخ نے بھٹو کی پھانسی کو جوڈیشل مرڈر یا عدالتی قتل قرار دیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو، جنہیں پاکستان ہی کی نہیں بلکہ مسلم دنیا کی بھی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہے، اس حوالے سے پانچویں نمبر پر آتی ہیں۔ تاہم وہ یوں زیادہ خوش نصیب ہیں کہ نواز شریف کے بعد وہ دوسری وزیر اعظم ہیں جو ایک سے زائد مرتبہ اس عہدے پر فائز ہوئیں۔ پہلی مرتبہ وہ دو دسمبر 1988 کو وزیر اعظم بنیں۔ چھ اگست 1990 کو صدر غلام اسحٰق خان نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ وہ اپنے اس پہلے دور میں 613 دن اس عہدے پر فائز رہیں۔ 19اکتوبر 1993 کو وہ دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنیں۔ پانچ نومبر 1996 کو صدر فاروق لغاری نے خصوصی اختیارات کے تحت انہیں عہدے سے برخاست کر دیا۔ اس بار وہ 1114 دن اس عہدے پر فائز رہیں جو ان کے والد کے دورانیے سے 308دن اور پپلز پارٹی ہی کے یوسف رضا گیلانی کی مدت وزارت عظمیٰ سے 380 دن کم ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو نواز شریف سب سے زیادہ (اپنے تین ادوار میں) 3432 دن اس عہدے پر فائز رہے۔ یہ ریکارڈ فی الحال ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔اس حوالے سے دوسرے نمبر پر بے نظیر بھٹو ہیں، جواپنے دوادوارمیں مجموعی طور پر 1727 دن اس عہدے پر فائز رہیں، جو نواز شریف کے اس عہدے پر فائز رہنے کے مجموعی دنوں کا تقریباً نصف ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان تیسرے نمبر پر چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد بالترتیب یوسف رضا گیلانی اور ذوالفقار علی بھٹو کا نمبر آتا ہے۔ عمران خان کا اس فہرست میں کون سے نمبر ہو گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ہمارا ماضی اس حوالےسے کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے اور تاریخ کو ذہن میں رکھا جائے تو کپتان بھی اپنی مدت پوری کرتے دکھائی نہیں دیتے۔
