کیا گرے لسٹ سے نکلنے کا کریڈٹ جنرل باجوہ کو دینا بنتا ہے؟

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل باجوہ کو دے دیا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جہاد نواز پالیسی کی وجہ سے ہی کیا گیا تھا۔ جب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پالیسی بدلنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف ڈان لیکس کا سکینڈل کھڑا کر دیا گیا۔
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی اور ہوشربا مہنگائی میں کمی آئے گی، ماہرین کے مطابق گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کا دروازہ کُھل سکے گا کیونکہ گرے لسٹ میں ہونے کے باعث کوئی بھی بین الاقوامی کمپنی پاکستان میں سرمایہ لگانے یا بینکوں پر اعتماد کرنے سے ہچکچاتی تھی لیکن اسکے لیے ضروری ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے کی گئی کمٹمنٹس پر عمل درآمد جاری رکھے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان اب ریگولر مانیٹرنگ میں آ جائے گا جس سے ایک بڑی سہولت بینکنگ سیکٹر میں ملے گی جس کے تحت پاکستان کو سیلاب زدگان کی مدد کرنے کے لیے دی جانے والی امداد اب باآسانی مقامی بینکوں میں آ سکے گی اور اس پیسے کی جانچ پڑتال کم ہو گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا لیکن عائد کردہ شرائط پر عمل درآمد کی تصدیق میں کچھ مہینے مزید لگ گئے۔ 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہونے کے بعد سے پاکستان مسلسل وائٹ لسٹ میں آنے کی کوششوں میں مصروف تھا جو بالآخر کامیاب ہو گئی ہیں۔ 2018 سے لے کر 2022 تک پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی 34 شرائط پر عمل کرنا تھا جن کی تکمیل میں چار برس لگ گے۔

اس عمل کے دوران پاکستان نے دہشتگردی کی معاونت کو روکنے کے لیے کئی قوانین بنائے، جن پر عملدرآمد جاری رکھنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے شامل ہوا تھا جوکہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی جہادی تنظیموں کی سرپرستی کرتی تھی۔ ماضی میں جب وزیراعظم نواز شریف نے اس پالیسی کو بدلنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف ڈان لیکس کا سکینڈل کھڑا کردیا گیا اور پھر انہیں سپریم کورٹ سے نااہل کروا دیا گیا۔ ایسے میں جب شہباز شریف ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کا کریڈٹ جنرل باجوہ کو دیتے ہیں تو ہنسی آتی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے جارہا تھا لیکن اب وہ وائٹ لسٹ میں آگیا ہے جو کہ ایک خوش آئند خبر ہے۔ یاد رہے کہ جب کوئی ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہوتا ہے تو غیر ملکی کمپنیوں اور اداروں کو اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے قائل کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونے سے مالیاتی لین دین میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اب جب پاکستان اس لسٹ سے باہر نکل آیا ہے تو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوں گی تاہم یہ ایک سست رفتار مرحلہ ہوتا ہے، اسی لیے اس کے معیشت پر اثرات نظر آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ دوسری جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ دوبارہ سے حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوہ اور مولانا مسعود اظہر کی جیش محمد کو اپنی سرپرستی میں نہیں لیتی۔

Back to top button