عمران نے اپنی لیک آڈیوز کو اوریجنل کیسے ثابت کیا؟

ایک ہیکر کی جانب سے لیک ہونے والی اپنی آڈیوز کو فیک قرار دینے والے عمران خان نے مزید آڈیو لیکس کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے خود ہی ثابت کر دیا ہے کہ لیک ہونے والی آڈیوز فیک نہیں بلکہ اوریجنل ہیں ورنہ خان صاحب کو فیک آڈیوز سے کیا پریشانی ہو سکتی ہے؟ یاد رہے کہ اس سے پہلے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے اپنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے کی پیشگوئی کر دی تھی جن کا ابھی تک دور دور تک کوئی اتا پتا ہی نہیں۔

خیال رہے کہ پچھلے ہفتوں میں عمران خان کی متعدد آڈیوز منظر عام پر آئی تھیں جن میں وہ اپنے ساتھیوں اور پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے ساتھ مل کر امریکی سائفر کو ایک سازش کا رنگ دینے کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے بات چیت کرتے سنے گئے تھے۔ ان ویڈیوز کے بعد عمران نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مخالفین گھر بیٹھ کر ان کی گندی ویڈیوز ریلیز کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں لیکن وہ سب فیک ہوں گی۔

لیکن اب عمران نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ انکی لیک ہونے والی آڈیوز کی تحقیقات کی جائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وفاقی وزارت داخلہ، وفاقی وزارت دفاع اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا ہے۔ سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے اور عدالت وفاقی حکومت کو مزید آڈیو جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے۔ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ آڈیو لیکس کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے اس تائثر کو تقویت دی ہے کہ انکی آڈیوز اصلی ہیں اور وہ مزید لیکس سے پریشان ہیں لہذا انہیں رکوانا چاہتے ہیں، یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ آڈیو لیکس کا آغاز وزیراعظم شہباز شریف کی آڈیوز سے ہوا تھا جنکی تحقیقات کے لیے حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے مطابق اس فعل میں پی ایم آفس کے عملے کے اراکین ملوث تھے جن کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس کے بعد 28 ستمبر 2022 کو عمران خان کی پہلی آڈیو لیک ہوئی تھی جس میں وہ اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو یہ ہدایات دیتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ امریکی سائفر کو ان کی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا رنگ دے دیا جائے۔
آڈیو کی ابتدا میں عمران نے کہا کہ ہم نے بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر، نام نہیں لینا امریکا کا، صرف کھیلنا ہے اور ثابت کرنا ہے کہ سازش ہوئی ہے۔ اس آڈیو میں اعظم خان نے کہا کہ میں سائفر کو مرضی کا رنگ دے کر میٹنگ کے منٹس بنا لوں گا تاکہ وزارت خارجہ کے ریکارڈ پر بھی آ جائیں، میرا تجزیہ یہی ہو گا کہ سائفر سفارتی روایات کے برخلاف کھلی دھمکی پر مبنی ہے۔ یہ آڈیو سننے والوں کو قوی یقین تھا کہ آواز عمران خان اور اعظم خان کی ہے۔ سائفر سے متعلق عمران خان کی دوسری آڈیو 30 ستمبر 2022 کو لیک ہوئی تھی جس میں وہ اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور اعظم عمران خان سے گفتگو کر رہے تھے۔

آڈیو میں عمران خان کہتے ہیں کہ’اچھا شاہ جی، کل آپ نے، ہم نے، تینوں نے اور سیکریٹری خارجہ نے میٹنگ کرنی ہے، اس میں ہم نے صرف کہنا ہے کہ وہ جو لیٹر ہے نا اس کے چپ کر کے مرضی کے منٹس لکھ دے، اعظم خان کہہ رہا ہے کہ اس کے منٹس بنا لیتے ہیں، اسے فوٹو اسٹیٹ کرا لیتے ہیں‘۔ پھر عمران خان کہتے ہیں کہ ‘ہم نے تو امریکیوں کا نام لینا ہی نہیں ہے، کسی صورت میں، اس ایشو پر کسی کے منہ سے امریکا کا نام نہ نکلے، یہ بہت اہم ہے ہم سب کے لیے۔

ان آڈیوز کے لیک ہونے کے بعد عمران نے مختلف جلسوں میں یہ موقف اپنایا تھا کہ انھیں بدنام کرنے کے لئے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی گندی گندی ویڈیوز بھی مارکیٹ کی جانے والی ہیں۔ لیکن اب سپریم کورٹ میں پٹیشن ڈالتے ہوئے عمران نے نے استدعا کی ہے کہ حکومت کو انکی مزید آڈیوز اور ویڈیوز لیک کرنے سے روکا جائے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لیک ہونے والی آڈیوز کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہیں اور عمران خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے خود ثابت کر دیا ہے کہ ان کی آڈیوز اصلی ہیں اور وہ اسی لیے انہیں رکوانا چاہتے ہیں۔

Back to top button