جعلی تصویروں کا کیسے پتا چلایاجائے؟نئی ٹیکنالوجی آ گئی

بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ہم ’’ہائپر رئیلسٹک‘‘ کے جعلی دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اصل چیزوں کی شناخت بہت مشکل ہو گئی ہے شاید برطانوی شاہی خاندان کی تصویر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے، آج کل تصویروں کو صرف چند کلکس کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے مکمل طور پر شروع سے بنایا جا سکتا ہے۔تصاویر کو جوڑنے اور ایک دوسرے کا متبادل بنانے کے لیے استعمال کی جانے والی تکنیک انتہائی نفیس ہو چکی ہے اور ہم ’ہائپر ریئلسٹک‘ جعلی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ایسی تصاویر غلط معلومات پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں اور انتخابات جیسے اہم معاملوں میں رائے عامہ کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔حال ہی میں ویلز کی شہزادی اور ان کے بچوں کی ایک تصویر کو اس خدشے کے پیش نظر نیوز ایجنسیوں نے ہٹا لیا کہ ان کے ساتھ ’چھیڑ چھاڑ‘ ہوئی ہے۔ اس معاملے کے اس طرح سامنے آنے کے بعد اصلی نقلی کی بحث پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ غیر معمولی روشنی ایک ایسی علامت ہے جو اکثر بتا دیتی ہے کہ تصویر میں تبدیلی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر لوگوں کی آنکھوں میں روشنی کے پوائنٹس کو چیک کریں، آپ کو اکثر ان کی آنکھوں سے روشنی نکلتی نظر آئے گی۔ہو سکتا ہے کہ تصویر میں موجود اشیا کے سائے اگر ایک سے زیادہ تصویروں سے اکٹھے کیے گئے ہوں تو وہ ایک طرح کے نہیں لگ سکتے ہیں لیکن یہاں یہ خیال رہے کہ کچھ تصویریں روشنی کے متعدد ذرائع سے لی جا سکتی ہیں۔ یہ بھی بات قابل دید ہو سکتی ہے کہ کسی کے چہرے پر روشنی کس طرح دکھتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر سورج ان کے پیچھے ہے تو ان کے کان سرخ ہو سکتے ہیں۔ایک اور فریب نہ کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ ان خصوصیات کو تلاش کیا جائے جن کی نقل تیار کرنا مشکل ہو، اے آئی ابھی ہاتھوں اور کانوں کو ٹھیک سے پیش کرنے کے معاملے میں ناقص ہے اور وہ ان کی شکلوں، تناسب اور یہاں تک کہ انگلیوں کی تعداد میں بھی غلطی کر دیتی ہے۔ڈیجیٹل امیجز کے کوڈ میں پوشیدہ معلومات کے پارے ہوتے ہیں جو جعلی کی نشاندہی کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ جب بھی ڈیجیٹل کیمرہ تصویر کھینچتا ہے، میٹا ڈیٹا امیج فائل میں لکھا جاتا ہے۔مثال کے طور پر ٹائم سٹیمپ یعنی اس پر وقت کا ٹھپہ ہوتا ہے، ہر ڈیجیٹل کیمرے کے سینسر میں مینوفیکچرنگ کی چھوٹی موٹی خرابیاں ہوتی ہیں جو انوکھی غلطیوں کا باعث بنتی ہیں جو تصویروں پر ایک قسم کا ‘فنگر پرنٹ’ چھوڑ دیتی ہیں۔گوگل جیسی انٹرنیٹ کمپنیوں نے تصویروں کی تصدیق کے لیے ٹولز بنائے ہیں جو لوگوں کو اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔فیس بک اور انسٹاگرام نے میٹا کے اپنے سسٹمز سے آنے والی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو لیبل لگانا شروع کر دیا ہے اور اب وہ دوسری کمپنیوں کے اے آئی ٹولز کے ذریعے تیار کردہ تصویروں کے لیے بھی ایسا ہی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
