کیا PPP اب بھی ایک عوامی نظریاتی جماعت ہے یا نہیں؟


آج سے 54 برس قبل ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں تشکیل پانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں اب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا ‘طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں’ کا نعرہ لگانے والی جماعت اب غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کی نظریاتی پارٹی رہی ہے یا اب یہ جماعت سرمایہ داروں اور جاگیرداوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے اور اس کا نظریہ دفن ہو چکا ہے؟
30 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر پشاور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بھوک و افلاس کی دہائی بھی دی اور فاقوں سے تنگ آ کر خودکشی کرنے والے عوام کا دکھ بھی بیان کیا۔ لیکن اس معاملے پر معروف غیرملکی ویب سائٹ ڈی ڈبلیو کی ایک خصوصی رپورٹ کہتی ہے کہ ناقدین کے خیال میں اب پیپلزپارٹی نہ تو غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کی پارٹی رہی ہے اور نہ ہی اب اس کا نظریاتی جھکاؤ اشتراکی خیالات کی طرف ہے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد 30 نومبر 1967 کو لاہور میں بھٹو دور کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر رکھی گئی تھی۔ پارٹی کی تشکیل میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا، اسی لیے پیپلز پارٹی نے اپنے بنیادی نعروں میں سوشلزم کو بھی شامل کیا تھا۔ 1970 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی نے اچھی خاصی تعداد میں انتخابات میں ایسے سیاسی کارکنوں کو کھڑا کیا جن کا تعلق نسبتا متوسط طبقے یا نچلے طبقہ سے تھا، اسی لیے کئی ناقدین کے خیال میں اس وقت پارٹی کا رنگ ایک عوامی تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔
ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق کئی ناقدین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا اثر مسلسل بڑھا ہے اور پارٹی ان کے چنگل سے خود کو چھڑا نہیں سکی۔ معروف دانشور ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ پارٹی میں جاگیردار ہمیشہ سے رہے ہیں۔ بھٹو صاحب خود بھی جاگیردار تھے اور پارٹی میں اور بھی جاگیر دار تھے لیکن تب پیپلزپارٹی میں مزدوروں، کسانوں اور عام کارکنان کی سنی جاتی تھی۔ پارٹی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی تھی جو عوامی منشا اور خواہشات کے خلاف ہو یہاں تک کہ بھٹو صاحب بھی ایسا نہیں سوچ سکتے تھے۔ لیکن اب صورت حال مختلف ہے اور پیپلزپارٹی کا وہ عوامی رنگ نہیں رہا۔‘‘
کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت پرستی میں لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا دور بھی کسی حد تک غیر جمہوری تھا۔
حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے دانشور امداد قاضی کا کہنا تھا کہ سندھ میں غلام مصطفی جتوئی، بلوچستان میں غوث بخش رئیسانی اور پنجاب میں غلام مصطفی کھر جیسے بڑے جاگیرداروں کے ساتھ مل کر بھٹو زرعی اصلاحات لانے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کا پہلا کنونشن بھی ایک بڑے جاگیردار اور پیر مخدوم طالب المولی کے گھر پر ہوا۔‘‘
اذان کے خیال میں جاگیر داروں کا پیپلزپارٹی پر اثر رسوخ اسکے قیام کے زمانے سے تھا اور اب تک موجود ہے ناقدین کا خیال ہے کہ بے نظیر بھٹو کی 2008 میں شہادت کے بعد سے پیپلزپارٹی کا گراف مسلسل نیچے کی جانب جا رہا ہے اور اب وہ صرف سندھ کی حد تک محدود ہو گئی ہے جبکہ پنجاب میں اس کا صفایا ہو چکا ہے۔ یہ تاثر بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی اب اپنے اصولوں سے یوٹرن لے کر پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کر رہی ہے جس سے نہ صرف پیپلز پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ بلاول بھٹو کا سیاسی مستقبل بھی خطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔
امداد قاضی اس تھیسس سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید بھٹو صاحب کچھ جاگیرداروں کو اپنے ساتھ ملا پائے تھے لیکن آصف زرداری نے سندھ کے تمام بڑے جاگیر داروں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے لہذا پیپلزپارٹی کا عوامی رنگ اب تحلیل ہو چکا ہے اور یہ خواص کی جماعت بن چکی ہے۔
اس معاملے پر معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جب بھی سیاسی جماعتوں میں قیادت کی تبدیلی ہوتی ہے تو ان کینپالیسیز بھی بدلتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھٹو صاحب دوراندیش سیاست دان تھے اور بے نظیر بھٹو بھی تقریبا انہی کے نقش قدم پر چلیں، لیکن زرداری صاحب حقیقت پسند سیاستدان ہیں اور وہ اپنی پارٹی کو زیادہ آزمائش میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ وہ سندھ میں بھی برسر اقتدار رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی انہی پالیسیز کی وجہ سے اقتدار بھی لیا، صدارت بھی حاصل کی اور وزارت عظمی بھی پارٹی کے نام کی۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسی وجہ سے پیپلزپارٹی والے سندھ پر بھی تیرہ سال سے حکومت کر رہے ہیں، لیکن اس کا یہ نقصان ہوا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی حد تک محدود ہو گئی اور پنجاب میں اب اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں بچا۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: فوج دفاع کیلئے ہے کاروبار کیلئے نہیں
تاہم پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور بے نظیر بھٹو کے دیرینہ رفیق بشیر ریاض کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے کچھ غلطیاں ضرور سرزد ہوئی ہیں لیکن گزشتہ 54 برس میں مسلسل ریاستی اداروں کی جانب سے پیپلز پارٹی کو دبانے اور ختم کرنے کی کوششیں بھی جاری رہی ہیں۔ اسکے علاوہ پارٹی قیادت کو بدنام کرنے کی منظم کوششیں بھی کی گئیں اور کرپشن کے جھوٹے الزام بھی لگائے گئے لیکن ایک بھی کیس ثابت نہیں ہو پایا۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت سے پہلی بڑی غلطی تب ہوئی جب 1977 کے انتخابات میں جاگیرداروں کو ٹکٹس دیے گے۔ 1988 کے الیکشن میں بھی بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کو پارٹی میں شامل کیا گیا جنہیں عام زبان میں الیکٹ ایبلز کہا جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ نہ تو نظریاتی تھے اور نہ ہی عوامی، لہذا اس سے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
بشیر ریاض کا کہنا ہے کہ پارٹی کو بدنام کرنے کے لیے مختلف نوعیت کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن حقیقت میں ان الزامات کو کبھی بھی عدالتوں میں ثابت نہیں کیا جا سکا، "زرداری صاحب پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا لیکن کرپشن کی رٹ لگا لگا کر پارٹی کو بد نام کرنے کی کوشش کی گئی۔‘‘
تاہم ناقدین کی جانب سے پی پی پی پر وراثتی سیاست کو فروغ دینے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ بلاول کے نام کے ساتھ اور بختاور کے بیٹے کے نام کے آگے بھٹو کا اضافہ بھی اسی وراثتی رجحان کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن بشیر ریاض کہتے ہیں کہ اس معاملے کو صحیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ وراثتی سیاست کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے ذاتی طور پر کتنی قربانیاں دی ہیں۔ دنیا کے کسی بھینملک میں کسی جماعت کے بانی خاندان نے اتنی قربانیاں نہیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ناقدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پیپلزپارٹی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کتنی سازشیں ہوئیں۔ بشیر ریاض کے مطابق، 1988 میں پنجاب میں ہم نے اکثریت حاصل کر لی تھی اس کے باوجود ہمیں حکومت نہیں دی گئی۔ بعد میں جنرل مشرف کے دور میں ہماری پارٹی میں سے پیٹریاٹ گروپ بنایا گیا۔ لیڈر شپ کو جلا وطن کیا گیا اور پارٹی کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اس کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا لیکن اس سب کے باوجود پیپلز پارٹی آج بھی زندہ ہے۔

Back to top button