کیا PPP پنجاب میں ن لیگ کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے؟


لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کی حیران کن پرفارمنس کے بعد جیالوں کو لگتا ہے کہ پنجاب میں ان کی پارٹی کا احیا ہو گیا ہے، تاہم ناقدین کے خیال میں یہ محض خوش فہمی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کے پاس کوئی ایسا ایجنڈا نہیں جس کے ذریعے وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف لے کر چلنے والی مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں زیر کر سکے۔
اگرچہ 5 دسمبر کو این اے 133 میں مسلم لیگ (ن) کی اُمیدوار شائستہ پرویز ملک کامیاب ہوئی ہیں تاہم پیپلز پارٹی کے اُمیدوار نے بھی 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ این اے 133 کے الیکشن کے بعد سوشل میڈیا پر اس طرح کے تبصرے پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ مسلم لیگ نون جیت کر خوش ہے اور پیپلزپارٹی ہار کر خوش ہے جبکہ پی ٹی آئی کم ٹرن آوٹ پر خوش ہے۔ الیکشن کمیشن پرامن پولنگ پر خوش ہے اور غریب عوام فی ووٹ دو، دو ہزار روپے لے کر خوش ہیں۔ یعنی این اے 133 کا الیکشن سب کے لئے خوشیاں لے کر آیا۔
خیال رہے کہ الیکشن 2008 کے بعد پنجاب بالخصوص لاہور میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک مسلسل کم ہو رہا تھا جس کی وجہ تحریکِ انصاف کے ایک سیاسی قوت کے طور پر اُبھرنے سمیت دیگر عوامل تھے۔ تاہم تحریک انصاف کا امیدوار نااہل ہونے کے بعد 5 دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی اُمیدوار شائستہ پرویز ملک نے 46 ہزار 811 ووٹ حاصل کیے جبکہ اُن کے مدِمقابل پیپلزپارٹی کے اُمیدوار اسلم گل نے 32 ہزار 313 ووٹ حاصل کیے۔ اس سے پہلے 2013 اور 2018 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے اُمیدواروں کو لاہور کے حلقوں سے محض چند ہزار ووٹ ہی ملتے رہے ہیں۔ تاہم ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے اُمیدوار نے اتنے ووٹ لے کر سب کو حیران کیا ہے۔ ضمنی الیکشن میں ہار کے باوجود پیپلزپارٹی الیکشن کے نتائج پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اور اس حوالے سے بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری کی زیر قیادت جشن بھی منایا گیا۔ دوسری جانب الیکشن سے پہلے پیپلز پارٹی کا امیدوار دستبردار کروانے کا مشورہ دینے والے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی ضمنی الیکشن کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اسے پیپلزپارٹی کے جیالوں کی بڑی کامیابی قرار دے دیا ہے۔ بلاول کا کہنا ہے کہ عام انتخابات سے تقریباً چھ گنا زیادہ ووٹ لے کر پیپلزپارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ پنجاب کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحریکِ انصاف کا اُمیدوار میدان میں ہوتا تو نتائج یقینی طور پر مختلف ہوتے۔ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کا امیدوار نہ ہونے کا بھر ہور فائدہ اُٹھایا اور نواز شریف مخالف پی ٹی آئی کا ووٹ بھی اپنے امیدوار کے حق میں دلوانے میں کامیاب رہی۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں دوبارہ مضبوط ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقی صورتحال تھری وے فائٹ میں سامنے آئے گی اور وہ بھی ضمنی انتخابات میں نہیں بلکہ عام انتخابات میں۔
اس معاملے پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حلقہ 133 سے تحریکِ انصاف کے اُمیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے سے حلقے میں ایک خلا پیدا ہوا جو پیپلزپارٹی نے بھرپور مہم چلا کر پورا کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمنی الیکشن کے نتائج سے کسی بھی صورت یہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں تحریکِ انصاف کی جگہ لے لی ہے۔ اس حلقے میں ووٹ خریدنے کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ صرف پیسے کی بنیاد پر پیپلزپارٹی اتنے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔اُن کا کہنا تھا کہ 30 ہزار سے زائد ووٹ ایسے ہی نہیں مل جاتے، ظاہر ہے اس میں پیپلزپارٹی کی کوشش بھی شامل ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک پنجاب میں کم ہوا ہے۔ لیکن ایک نظریاتی جماعت کے طور پر اس کی بنیادیں اب بھی صوبے میں موجود ہیں اور بلاول کا شمار پنجاب میں مقبول سیاسی رہنماؤں کے طور پر ہوتا ہے۔ان کے بقول پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں اعتزاز احسن، رضا ربانی اور خورشید شاہ کو جمہوریت پسند لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔اُن کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک اس لیے کم ہوا کیوں کہ پنجاب میں لوگ صرف دو اُمیدواروں کو زیادہ ووٹ دیتے ہیں، ایک وہ جس کے جیتنے کا امکان ہو اور دوسرا وہ جو مخالف اُمیدوار کو ہرانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ نواز مخالف ووٹ پیپلز پارٹی کو ملا جس میں تحریکِ انصاف، پاکستان عوامی تحریک، تحریک لبیک اور دیگر جماعتوں کا ووٹ بینک بھی شامل ہے۔اُن کے بقول پیپلز پارٹی نے بھی اس الیکشن میں خوب جان ماری۔ آصف علی زرداری الیکشن کے دوران لاہور میں موجود رہے تاکہ پنجاب میں پارٹی کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ بخاری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی جتنی مرتبہ بھی اقتدار میں آئی ہے وہ پنجاب سے کامیاب ہوتی رہی ہے۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کی قیادت کو یہ ادراک ہے کہ اگر اقتدار میں آنا ہے تو پنجاب میں پارٹی کو منظم کرنا ہو گا۔ سلیم بخاری کے بقول 2018 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے اسی اُمیدوار کو لگ بھگ پانچ ہزار ووٹ ملے تھے۔ اب وہ 32 ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں جو بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اس حلقے میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔اُن کے بقول سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے حلقے میں بھر پور جلسے کیے اور ووٹرز کو منظم کیا، لہذا اس کا پھل اُنہیں ووٹوں کی صورت میں ملا ہے۔ بخاری کہتے ہیں کہ بادی النظر میں دیکھا جائے تو اس الیکشن کے نتائج سے پیپلزپارٹی کے پنجاب میں دوبارہ منظم ہونے کے اشارے ملتے ہیں اور اگر پارٹی قیادت نے مزید محنت کی تو آئندہ الیکشن میں بھی اچھے نتائج مل سکتی ہیں۔تاہم حالیہ ضمنی الیکشن میں اچھی پرفارمنس کی بنیاد پر یہ اُمید نہیں رکھنی چاہیے کہ آئندہ الیکشن میں پنجاب سے پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) کو زیادہ ٹف ٹائم دے سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی صارفین کیلئے بجلی3 روپے 75 پیسے فی یونٹ مہنگی

سینئر تجزیہ کار راشد رحمان کہتے ہیں کہ اُنہیں نہیں لگتا کہ آئندہ انتخابات میں تین جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی کا بیانیہ بائیں بازو کی ایک بڑی جماعت کا تھا تو پنجاب میں اس کی جڑیں مضبوط تھیں، لیکن پارٹی نے سوائے زبانی جمع خرچ کے اس بیانیے کو آگے نہیں بڑھایا، یہی وجہ ہے کہ پارٹی پنجاب میں کمزور ہو گئی۔ راشد رحمان سمجھتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں جب کہ تحریکِ انصاف کی حکومت اپنی کارکردگی کی وجہ سے اپنی مقبولیت کھو رہی ہے اور پیپلزپارٹی کے لیے بھی صورت حال کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہو گی۔راشد رحمان کے مطابق پیپلزپارٹی کے پاس کوئی ایسا پروگرام نہیں ہے جس کے ذریعے وہ مسلم لیگ (ن) کو ہلا سکے۔ کیوں کہ اس کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ بینک اپنی جگہ قائم ہے جبکہ پیپلز پارٹی اس وقت کھلم کھلا پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کر رہی ہے۔

Back to top button