50 برس میں پہلی مرتبہ پاکستان روپیہ 54 روپے تک گر گیا
کپتان حکومت کے ہاتھوں پاکستانی معیشت کی مکمل بربادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے پچاس برس میں پہلی مرتبہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بطور کرنسی 54 روپے تک گر گیا ہے۔ آخری مرتبہ ایسا سال 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ہوا تھا جب ایک ڈالر 4.60 روپے سے بڑھ کر 11.10 روپے کا ہوگیا اور یوں روپیہ 58 روپے تک گر گیا تھا، لیکن تب مشرقی اور مغربی پاکستان کی کرنسی ایک ہوا کرتی تھی۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کے 74 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی روپے کی ویلیو ڈالر کے مقابلے میں اتنی ذیادہ گر گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سے عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں پاکستانی کرنسی کی ویلیو میں گراوٹ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور گزشتہ 40 مہینوں میں ہمارا روپیہ 30.5 فیصد تک گر گیا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف کے دور میں ڈالر 60 پاکستانی روپوں کے برابر ہوتا تھا کیونکہ تب امریکہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے کھاتے میں اربوں ڈالرز دے رہا تھا، بعد ازاں آصف زرداری کے دور اقتدار میں پاکستانی روپے کی قدر کم ہو کر ڈالر کے مقابلے میں 90 روپے تک چلی گئی، نواز شریف کے دور میں پاکستانی روپے کی قدر 33 روپے مذید گر گئی اور ایک روپے کی قدر 123 روپے تک برابر ہو گئی۔
ڈالر کے بڑھنے اور روپے کے گرنے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ یے کہ ہماری مالی پالیسی شرح مبادلہ کی پالیسیوں کی تابع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں گراوٹ پچھلے 8 برس میں ہوئی کیوں کہ نواز لیگ کے دور حکومت میں روپے کی قدرمیں مصنوعی طور پر اضافہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں گزشتہ 3 سال 4 ماہ کے دوران اگست 2018 سے دسمبر 2021 کے دوران ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں 30.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اگست 2018 میں ایک ڈالر 123 روپے کا تھا جو کہ دسمبر 2021 میں 177 روپے کا ہوچکا ہے۔ اس طرح کپتان حکومت نے روپے کی قدر کو گرانے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
آزاد معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ روپے کی قدر میں حالیہ تاریخی گراوٹ آئی ایم ایف کے پیشگی اقدامات کی وجہ سے ہے اور اس کا میکرو اکنامک بنیادوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابق اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسی سازی مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے کیوں کہ ہماری مالی پالیسی، زری اور شرح مبادلہ کی پالیسیوں کی تابع ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زری سختی اور شرح مبادلہ میں کمی کے نتیجے میں مہنگائی، سرکاری قرضوں اور قرضوں کی ادائیگی میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فیصد زری سختی سے پاکستان میں مہنگائی کا دبائو 1.3 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں کرنسی کی قدر میں کمی سے مہنگائی کے دباو میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیر تک بیان حلفی نہ آیا تو رانا شمیم پر فرد جرم عائد ہوگی
خطے کی کرنسیوں کا ڈالر سے تقابل کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستانی کرنسی کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں زیادہ کمی کا سامنا رہا۔ بھارتی کرنسی میں ایک ڈالر 75.39 روپے کا ہے۔ 2018 میں بھارت میں ایک ڈالر 70.09 روپے کا تھا۔ دسمبر، 2019 میں یہ 73.66 روپے کا ہوگیا، مارچ 2020 میں 74.53 روپے کا اور اپریل 2021 میں ایک ڈالر 74.57 روپے کا تھا۔ بنگلا دیش کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایک ڈالر 85.76 بنگلا دیشی ٹکہ کا ہے، جب کہ گزشتہ دو برس میں یہ اوسط 84 سے 85.9 ٹکہ کا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی روپیہ مسلسل گراوٹ کا شکار رہا اور گزشتہ تین سال چار ماہ کے دوران یہ 123 روپے سے 177 روپے کا ہوگیا۔
