’’کیری آن جٹا تھری‘‘ نے پاکستانی فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا

عیدالاضحٰی کے موقع پر پاکستانی سینمائوں میں پنجابی اور اردو سمیت 6 فلمیں ریلیز کے لیے پیش کی گئیں لیکن بھارتی پنجابی فلم ’’کیری آن جٹا‘‘ نے کسی کی ایک نہ چلنے دی۔
انڈین میڈیا کے مطابق فلم ’’کیری آن جٹا تھری‘‘ نے مجموعی طور پر پاکستان میں 225 ہزارامریکی ڈالرز کا بزنس کیا جو پاکستانی کرنسی کے مطابق چھ کروڑ کی رقم بنتی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی کی پہلی انتھالوجی فلم ’تیری میری کہانیاں‘ بنانے والی کمپنی سی پرائم نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فلم نے اب تک پانچ کروڑ سے زائد کا بزنس کر لیا ہے۔
فلم ’’تیری میری کہانیاں‘‘ میں تین مختصر کہانیاں دکھائی گئی ہیں جن میں سے پہلی جن محل تھی، جس کی کاسٹ میں حرا، مانی اور گل رانا شامل تھے، دوسری پسوڑی تھی جس میں رمشا خان اور شہریار منور شامل تھے جبکہ تیسری ایک سو تیسواں تھی جس کی کاسٹ میں وہاج علی، مہوش حیات اور زاہد احمد شامل تھے۔
’’کیری آن جٹا تھری‘‘ کی ورلڈ وائیڈ کامیابی اور مسلسل ایڈوانس بکنگ کو دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی ہے کہ یہ بھارتی پنجابی سینما کی پہلی فلم ثابت ہوگی جو آنے والے دنوں میں سو کروڑ کلب میں شامل ہو کر پنجابی سینما کی نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے، یقیناً پنجابی زبان اور پنچابی فلموں سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ دنیا میں پنجابی سینما نہ صرف پذیرائی حاصل کر رہا ہے بلکہ پسندیدگی کے بھی نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔
