کینیا کی پولیس نے ارشد شریف قتل پر موقف بدل لیا

سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل میں ملوث کینیا کی پولیس کے جنرل سروس یونٹ نے اپنا سابقہ موقف بدلتے ہوئے دعوی ٰکیا ہے کہ پہلے ارشد شریف کی گاڑی سے فائرنگ ہوئی جس کے جواب میں ہونے والی فائرنگ سے ان کی موت واقع ہوئی۔
کینیا سے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کے جنرل سروس یونٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ جب ارشد شریف کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تو اس میں سے فائرنگ شروع ہو گئی جس سے ایک پولیس کانسٹیبل کے ہاتھ میں گولی لگی، چنانچہ پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ میں ایک گولی ارشد شریف کے سر میں جا لگی جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
کینیا پولیس کی جانب سے قتل کے واقعے کی جو ابتدائی رپورٹ مگدائی پولیس سٹیشن میں جمع کروائی گئی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں کینیا پولیس کے سپیشل سروس یونٹ ’جی ایس یو‘ کے افسران ملوث تھے جس کے نتیجے میں 50 سالہ ارشد شریف ہلاک ہو گئے تھے۔ تب یہ دعویٰ نہیں کیا گیا تھا کہ ارشد شریف جوابی فائرنگ میں مارے گئے یا انکی کار سے کوئی فائرنگ ہوئی۔ یاد رہے کہ کینیا میں پولیس اور اس کے ماتحت بننے والے خصوصی پولیس یونٹس پر ماورائے عدالت قتل اور ملزمان کو لاپتہ کرنے جیسے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم ایموڈمپ کیونیا شوٹنگ رینج کے مالکان سے بھی پوچھ گچھ شروع کر چکی ہے جہاں مقتول ارشد شریف نے اتوار 23 اکتوبر کا زیادہ تر وقت گزارا تھا۔ایمو ڈمپ شوٹنگ رینج نیروبی کی ایک اہم جگہ ہے جہاں فوج اور پولیس کے اہلکار آ کر اپنی شوٹنگ صلاحیت پر کام کرتے ہیں۔ اسں شوٹنگ رینج کا مالک وقار احمد ہے جس کے بھائی خرم احمد کے ساتھ ارشد شریف قتل کے وقت سفر کر رہے تھے۔
ایموڈمپ کی ویب سائٹ کے مطابق ہم اہم دفاعی اور سکیورٹی آلات سپلائی کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خرم نے فائرنگ کے بعد اپنے بھائی وقار کو فون کرکے واقعے سے آگاہ کیا۔ دوسری جانب ارشد شریف پر فائرنگ میں ملوث پولیس اہلکاروں میں سے ایک کیلون موٹوکو، گولی لگنے سے زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جنہیں بائیں ہتھیلی پر زخم آیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ان کے زخمی ہونے کے بعد ان کے ساتھیوں نے اس گاڑی پر گولی چلائی، جس میں ارشد شریف سوار تھے۔ پولیس افسران نے بتایا کہ ٹویوٹا وی ایکس کار پر جوابی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ارشد شریف کی موت واقع ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لاپتہ سفید مرسڈیز بینز کار کی اطلاع پر چار پولیس اہلکاروں کی ٹیم اپنے جی ایس یو کے تربیتی کیمپ سے اس مقام پر گئی جہاں فائرنگ ہوئی تھی، تاہم اس کار کو کیسریان کے علاقے میں دیکھا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے پتھر رکھ کر سڑک کو بند کیا، اور اپنی ٹویوٹا لینڈکروزر کو چند میٹر کے فاصلے پر لائٹس آن کرکے کھڑا کیا اور چوری کی گئی کار کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔
افسر نے بتایا کہ ایک مخبر نے انہیں بتایا کہ لیریمیٹ سے کاموکورو کی سمت میں ایک کار ان کی جانب آ رہی ہے۔ چند منٹ بعد وہ گاڑی وہاں پہنچی، جس میں ارشد شریف اور ان کے ڈرائیور موجود تھے، لیکن پولیس کی گاڑی کی لائٹس آن دیکھ کر بھی ان کی گاڑی ناکے میں سے گزر گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کار کو روکنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی گولیاں چلا دیں، جس کے نتیجے میں ارشد شریف کی ہلاکت ہوئی۔ دوسری جانب جب ڈرائیور خرم کو محسوس ہوا کہ ارشد شریف خون زیادہ بہہ جانے سے چل بسے ہیں تو انہوں نے چند کلومیٹر آگے جا کر گاڑی اپنے بھائی وقار احمد کے گھر کے دروازے پر روک دی۔ لیکن تب تک ارشد کی موت واقع ہو چکی تھی۔ اسکے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاش کو مردہ خانے منتقل کرنے سے پہلے ان سے پوچھ گچھ کی۔
لیکن دا سٹار اخبار کے مطابق جب پولیس نے کار کی تلاشی لی تو اس میں سے کوئی ہتھیار یا مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔ پولیس ہیڈ کوارٹر نے یہ کیس ’انڈپینڈنٹ پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی‘ کو سونپ دیا ہے جو پولیس کی زیادتیوں پر نظر رکھنے والی اتھارٹی ہے۔ اتھارٹی کی سربراہ این مکوڑی کا کہنا ہے کہ کیس کی جانچ کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یاد رہے کہ کینیا کی پولیس فورس پر ماضی میں بھی ماورائے عدالت قتل کے کئی الزامات لگتے رہے ہیں۔
ارشد شریف کے قتل سے کچھ دن قبل ہی کینیا پولیس کے سپیشل سروسز یونٹ، جسے ’کلر سکواڈ‘ بھی کہا جاتا ہے، کو کینیا کے صدر نے تحلیل کیا تھا۔ تاہم ارشد شریف کے قتل میں ملوث اہلکاروں کا تعلق جنرل سروسز یونٹ سے ہے نہ کہ تحلیل شدہ سپیشل سروسز یونٹ سے۔
کینیا کی حکومت نے متعدد بار سپیشل سروس یونٹ کی جانب سے لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی تردید کی ہے، تاہم اسی سپیشل سروس یونٹ پر ’الجزیرہ‘ کی بنائی گئی ایک ڈاکومینٹری میں دکھا گیا ہے کہ سپیشل سروس یونٹ کے کچھ اہلکاروں نے واضح طور پر یہ قبول کیا کہ وہ لوگوں کو ’شوٹ اینڈ کِل‘ (Shoot and kill) کرتے ہیں۔ ڈاکومینٹری میں یہ بھی بتایا گیا کہ جرائم میں ملوث لوگوں کے حوالے سے تفصیلات برطانیہ اور اسرائیل سے دی جاتی ہیں اور اس کے بعد ان لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ اس ڈاکومینٹری پر اس وقت کی کینیا کی حکومت نے نوٹس لے کر الجزیرہ کے خلاف عدالت جانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
ایک ہفتہ قبل پولیس کے سپیشل سروس یونٹ یا ’کلر سکواڈ‘ کو کینیا کے موجودہ صدر ویلیم روٹو نے تب ختم کردیا تھا، جب اس پر انڈیا کے دو شہریوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ انڈین شہریوں کے قتل کا الزام کینیا پولیس کے سپیشل سروس یونٹ پر لگایا گیا، جس کے بعد صدر نے اس یونٹ کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔
