ارشد شریف کو کینیا میں وقار اور خرم کے پاس کس نے بھیجا؟


سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تفتیش کے دوران کینیا کی پولیس نے مقتول کی گاڑی چلانے والے شخص خرم احمد اور اس شوٹنگ رینج کے مالک وقار احمد کو شامل تفتیش کر لیا ہے جہاں ارشد شریف دن گزار کر واپس جا رہے تھے۔ یاد رہے کہ ارشد شریف نے ایموڈمپ نامی کمپنی کے جس کیمپ میں رات گزاری وہاں کی شوٹنگ رینج میں کینیا کے فوجی اور پولیس اہلکار نشانہ بازی سیکھتے ہیں۔ اس کیمپ کا مالک وقار احمد ہے جس کے آباؤ اجداد کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن وہ خود کینیا میں پیدا ہوا تھا۔ وقار اسلحہ سپلائی کا کام بھی کرتا ہے۔ کینیا پولیس کے مطابق وقار احمد کے بھائی خرم احمد وقوعہ کے وقت اس کار کو چلا رہے تھے، جس میں ارشد شریف کو پولیس نے ’غلط شناخت‘ کی وجہ سے فائرنگ کر کے قتل کیا۔ خرم احمد کے بارے میں کینیا پولیس نے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ وہ ارشد شریف کے بھائی ہیں، تاہم بعد میں ارشد شریف کی اہلیہ نے واضح کیا تھا کہ مقتول کے ایک ہی بھائی تھے جو کہ میجر تھے اور 2012 میں ایک کار حادثے میں گزر گئے تھے۔ فائرنگ کے بعد خرم احمد نے اپنے ایک دوست وقار احمد کو فون کر کے واقعے کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ جواب میں وقار نے ان کو کہا تھا کہ وہ قریبی علاقے میں واقع ان کے گھر چلے جائیں، جب آدھ گھنٹے بعد وہ وہاں پہنچے تو تب تک ارشد شریف کی موت ہو چکی تھی۔

کینین میڈیا کے مطابق ارشد شریف جس گاڑی میں بیٹھے تھے، اس پر نو گولیاں برسائی گئی تھیں لیکن خرم فائرنگ سے محفوظ رہے۔ کینیا میں پاکستانی ہائی کمشنر ثقلین سیدہ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ خرم احمد زخمی بھی نہیں ہوئے اور وہ بکل ٹھیک ہیں۔ عجیب بات یہ بھی ہے کہ گاڑی خرم ڈرائیو کر رہے تھے لیکن پولیس کی فائرنگ کا نشانہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ارشد شریف بنے۔ اس واقعے پر غور کیا جائے تو اس میں خرم احمد اور کینیا میں ارشد شریف کے میزبان وقار احمد نہایت اہم کردار ہیں، خرم تو اس کیس میں چشم دید گواہ بھی ہیں جنہیں شامل تفتیش بھی کیا گیا ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف نے وقوعہ کے دن کینیا کے کیپٹل نیروبی سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقعے مگاڈی نامی علاقے ایموڈمپ یا ایمیونیشن ڈمپ نامی کیمپ میں گزارا تھا۔ یہ کیمپ کینیا کی مشہور سیاحتی جگہ بھی ہے جہاں آپ اپنے لیے کمرہ بھی بک کر سکتے ہیں اور ٹھہر بھی سکتے ہیں۔ اس کیمپ میں کوینیا نامی شوٹنگ رینج سمیت دفاعی سازو سامان کی ایک دکان بھی واقع ہے۔

اس کیمپ میں کوینیا شوٹنگ رینج کی وجہ سے کینیا کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت شوٹنگ کے شوقین افراد جا کر اپنا شوق پورا کرتے ہیں، جسکے لیے باقاعدہ فیس مقرر ہے۔ کیمپ میں کیمپنگ کی بھی فیس لی جاتی ہے جبکہ شوٹنگ رینج استعمال اور اسلحہ استعمال کرنے کی فیس تقریباً 30 ہزار روپے فی کس ہے۔ کیمپ میں بائیسیکل ٹریک کے علاوہ ایک روڈ ٹریک بھی بنایا گیا ہے جسکے استعمال کی بھی فیس مقرر ہے۔ اس شوٹنگ رینج کی مختلف ویڈیوز اور تصاویر بھی ایموڈمپ کیمپ کے انسٹا گرام اور یوٹیوب اکاؤنٹ پر موجود ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شوٹنگ کے شوقین افراد جا کر شوٹنگ رینج میں وقت گزارتے ہیں۔

یہ تو کیمپ کی تفصیل تھی لیکن اب جانتے ہیں کہ یہ ایموڈمپ نامی کمپنی کیا ہے اور اسکا اس کیمپ کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ ایموڈمپ لمیٹڈ نامی کمپنی کینیا میں دفاعی سامان کی سپلائی کی ایک رجسٹرڈ کمپنی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ کمپنی کینیڈا میں رجسٹرڈ ایموڈمپ سکیورٹیز کارپوریشن کی ذیلی کمپنی ہے۔ کمپنی ویب سائٹ کے مطابق: ’ایک ہی سوچ رکھنے والے چند افراد نے مل کر اس کمپنی کی بنیاد 2015 میں رکھی اور ہم دفاع سے جڑے سامان سپلائی کرتے ہیں۔‘ کمپنی کی ویب سائٹ پر مگاڈی میں واقع ایموڈمپ کیمپ یا شوٹنگ رینج کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے تاہم ایموڈمپ کیمپ کے انسٹا گرام اکائونٹ سمیت وٹس ایپ اکائونٹ پر ای میل اور ویب سائٹ اسی کمپنی کا دیا گیا ہے۔ ارشد شریف نے ایموڈمپ نامی کمپنی کے جس کیمپ میں وقت گزارا اس کے مالک بظاہر وقار احمد ہیں جو خرم احمد کے بھائی ہیں۔

کمپنیوں کی رجسٹریشن جمع کرنے والی ٹریڈ فورڈ نامی ویب سائٹ کے مطابق یہ کمپنی کینیا میں رجسٹرڈ ہے اور ملٹری سپلائز کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ کمپنی کی تعریف میں ویب سائٹ نے صرف اتنا لکھا ہے کہ یہ ’گورنمنٹ کنٹریکٹ‘ ہے اور رابطے کے کالم میں وقار احمد کا نام لکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کینیا پر جب انگریزوں کا قبضہ ختم ہوا تو برصغیر سے بہت سے لوگ یہاں مزدوری کی غرض سے آکر آباد ہو گئے تھے، جس میں وقار احمد کا خاندان بھی تھا۔ لیکن وہ خود کو پاکستانی نہیں بلکہ کینیا کے شہری سمجھتے ہیں کیونکہ وہ یہیں پیدا ہوئے تھے۔ وقار احمد کو ارشد شریف کے قتل کیس میں شامل تفتیش تو کیا گیا ہے لیکن گرفتار نہیں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وقار کینیا کی ملٹری اور پولیس کو اپنے شوٹنگ کلب میں نشانہ بازی کی ٹریننگ دیتے ہیں۔ وقار کے پاس اسلحہ سپلائی کا لائسنس ہے اور وہ سکیورٹی فورسز کو ملٹری سازوسامان بھی سپلائی کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ارشد شریف کینیا ہی کیوں گئے اور پھر خرم احمد اور وقار احمد کے مہمان کیسے بن گئے۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا خرم احمد کے پاس بھجوانے والی شخصیت پاکستان میں اعلیٰ عسکری عہدے پر فائز ہے جسکا عمران خان کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔

Back to top button