کے ٹو پر جانے کا مقصد والد کی لاش ڈھونڈنا ہے


موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہو جانے والے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کہا ہے کہ ان کا کے ٹو پر جانے کا بنیادی مقصد اپنے والد کی میت کو تلاش کرنا ہے۔ انکاکہنا تھا کہ میں، میری والدہ اور میرے گھر والے صدمے میں ہیں۔ جب سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں کے ٹو پر جا کر ابو کی میت تلاش کروں گا، تب سے میری امی کو میری جان کی فکر لاحق ہو چکی ہے۔ لیکن ہم گھر والے یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں اُن کی لاش مل جائے۔
یاد رہے کہ ساجد سدپارہ نے اپنے والد محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کی میتوں کی تلاش کے لیے دوبارہ کے ٹو کا رُخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تینوں کوہ پیما پانچ فروری 2021 کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی تلاش میں 6 فروری سے شروع ہونے والے آپریشن کے خاتمے کا اعلان 18 فروری 2021 کو کیا گیا تھا۔ساجد نے کہا کہ ‘اب موسم گرما ہے، میرے لیے اُن کو تلاش کرنا آسان ہو گا۔’ انھوں نے بتایا کہ وہ 27 جون کو ایک کینیڈین ٹیم اور اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو پر جائیں گے۔ انکا کہنا تھا ‘مجھے یقین ہے کہ مجھے یہ سراغ مل جائے گا کہ میرے والد کے ساتھ کیا ہوا۔ میرے ساتھ جانے والی کینیڈین ٹیم اس بارے ایک ڈاکیومنٹری بھی بنا رہی ہے۔’
علی سدرہ کے 46 سالہ دوست صادق سد پارہ، جو خود ایک مہم جو ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ‘ہم اکثر لاپتہ ہو جانے والے کوہ پیماؤں کی لاشیں تلاش کرنے کے لیے گرمیوں میں جاتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔’ لاشیں ملنے کے امکانات کتنے ہیں اور یہ کام کتنا پُرخطر ہے؟ اس بارے صادق سد پارہ نے کہا کہ جولائی اور اگست کے مہینے میں لاپتہ کوہ پیماؤں کی میتوں کی تلاش کا کام آسان ہوتا ہے کیونکہ برف پگھل رہی ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود ‘یہ امکان صرف پچاس فیصد تک ہی ہوتا ہے۔”ابھی بھی وہاں پہاڑوں پر برف پڑی ہو گی۔ جولائی میں زبردست دھوپ ہوتی ہے۔ میں قوم سے اپیل کروں گا کہ دعا کریں کہ علی کی ڈیڈ باڈی مل جائے۔’
صادق بتاتے ہیں کہ ‘سنہ 2006 میں بھی میں نے ایک مہم کے دوران تین ڈیڈ باڈیز کو دیکھا تھا، اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ چند ڈیڈ باڈیز مہم جوئی کرنے والوں کو دکھائی دیتی ہیں۔”جب ڈیڈ باڈیز دکھائی دیتی ہیں تو ہم سب سے پہلے اپنی سیفٹی دیکھتے ہیں کہ ان تک ہم محفوظ طریقے سے پہنچ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔’
وہ کہتے ہیں کہ برسوں بعد ملنے والی لاشیں بھی بظاہر صحیح سلامت ہوتی ہیں لیکن جب انھیں ہاتھ لگایا جاتا ہے توگوشت اور ہڈیاں الگ ہو سکتی ہیں، اس لیے اس کام میں بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے۔وہ کہتے ہیں عموماً جب کسی کوہ پیما کی پرانی میت ملتی ہے تو اسے بیس کیمپ پر بنے میموریل میں دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کے نام کی تختی لگتی ہے۔آٹھ ہزار فٹ کی بلندی سے کبھی کسی کی میت واپس نہیں آئی۔
نیک نام کریم ایڈونچر ٹور پاکستان کے سربراہ ہیں اور ریسکیو سروس بھی فراہم کرتے ہیں۔ان کی رائے میں ‘سچ پوچھیں تو کسی لاپتہ کوہ پیما کی میت ملنے اور اس کے واپس لانے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے ۔’نیک نام کریم کہتے ہیں کہ جب محمد علی سدپارہ لاپتہ ہوئے تو آخری اطلاعات کے مطابق وہ آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر تھے۔ان کے بقول ’مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اتنی بلندی سے کبھی کسی کی میت کو ڈھونڈ کر واپس زمین پر لایا گیا ہو۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ‘مثال کے طور پر آٹھ ہزار کی بلندی پر علی کی لاش مل بھی جائے، تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک 70، 80 کلوگرام کی باڈی کو کیسے لایا جا سکتا ہے جبکہ اتنی بلندی پر آکسیجن ویسے ہی ہم ہوتی ہے۔ اس کے لیے پانچ بندے کچھ نہیں کر سکتے، ایک بڑی اور ماہر ٹیم کی ضرورت ہے اس کام کے لیے۔’نیک نام کریم نے بتایا کہ جہاں تک انھیں یاد پڑتا ہے تو ایرانی کوہ پیما کو زخمی حالت میں 6500 فٹ کی بلندی سے لایا گیا تھا۔
مہم جوئی کے شعبے میں انسٹرکٹر کے فرائص سرانجام دینے والے افضل شیرانی اس نکتے سے متفق ہیں کہ علی سد پارہ کی لاش مل بھی جاتی ہے تو اسے نیچے تک منتقل کرنا بظاہر انتہائی مشکل لگتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ‘ریسکیو تو یہی ہے کہ بہت زیادہ کوشش کر کے ہیلی سے کسی کو اٹھائیں، جیسے ڈینئیل کو پانچ سے چھ سال پہلے نانگا پربت سے اٹھایا گیا تھا۔ یا پھر کوئی مہم جو پھنسا ہوا ہو تو اس سے واکی ٹاکی پر رابطہ ہو رہا ہو اور کوئی ٹیم ہمت کر کے لے کر آئے۔ لیکن ایسا کیس جس میں کوئی گم ہو جائے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔’وہ کہتے ہیں کہ ‘پہاڑ پر مرنے والوں کی لاشیں بہت کم ملتی ہیں اور نیچے لانا بھی ناممکنات میں سے ہی ہوتا ہے۔‘ ایسے سینکڑوں کوہ پیماؤں کی تختیاں ہیں جن پر ان کوہ پیماؤں کے نام ہیں جنھوں نے ان چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش میں جان دی۔ کوہ پیمائی سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ بہت سے کوہ پیماؤں کے اہلِخانہ لاشوں کی بعد میں تلاش کی کوشش اس لیے بھی نہیں کرتے کہ یہ لوگ پہاڑوں سے محبت کرنے والے تھے اور اہلِخانہ کہتے ہیں کہ انھیں پہاڑوں کی گود میں سونے دینا بہتر ہے۔افضل شیرائی کے مطابق ‘ہاں کوہ پیماؤں کو اگر بہت بلندی پر کوئی لاش دکھائی دے تو وہ اسے راستے سے الگ جتنی بہتر جگہ تک رکھ سکتے ہیں، رکھ دیتے ہیں کیونکہ میت یا بھاری ساز و سامان کے ساتھ سفر انتہائی پرخطر ہوتا ہے ۔’
وہ بتاتے ہیں کہ ایسا ماؤنٹ ایورسٹ پر ایک بار ہوا تھا کہ گذشتہ تین سال کے دوران کئی لاشوں کو واپس لایا گیا، لیکن کے ٹو پر ایسا کوئی مقام نہیں کہ وہاں اوپر سے لاشوں کو لا کر ایئر لفٹ کروا دیں۔’اگر کسی طرح 6000 میٹر تک کوئی لائے بھی تو بات ہے، لیکن سات ہزار میٹر سے یا اس کے اوپر سے لانا ممکن نہیں لگتا ہے، پاکستان میں کم سے کم ایسے ریسکیو آپریشن کے لیے استعداد ہی نہیں ہے۔’
یاد رہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر 200 کوہ پیماؤں کی لاشیں برف تلے دفن ہیں۔ اس چوٹی پر ہلاک ہونے صرف سو کوہ پیماؤں کی میتوں کو واپس لایا جا سکا ہے۔تاہم کے ٹو پر کتنے کوہ پیماؤں کی میتیں دفن ہیں اس حوالے سے کوئی باضابطہ ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ کے ٹو کو سر کرنے کی جستجو کرنے والے ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کے ٹو پر اموات کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ پر یہی شرح چار فیصد ہے۔

Back to top button