کے پی پولیسPTIرہنماؤں کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی؟

9 اور 10 مئی کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے بعد ملک بھر میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا ہے تاہم خیبرپختونخوا سے اب تک کوئی اہم پی ٹی آئی رہنما گرفتار نہ ہوسکا ہے جبکہ فوجی تنصیبات اور دیگر سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے سلسلے میں صوبے میں تحریک انصاف حکومت کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور اب تک دو ہزار 500 سے زائد کارکنان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے پولیس کارکنان کو تو گرفتار کر رہی ہے لیکن سابق وزیراعلی سمیت سابق وزرا کی گرفتاری ابھی تک کیوں نہیں ہوئی؟ سابق وزیراعلی سمیت پی ٹی آئی کے سینیئر قیادت 10 مئی کے واقعات کے بعد منظر عام سے غائب ہے۔ پولیس کی جانب سے تمام رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں مگر تاحال کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہ آسکی ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعلی محمود خان، سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک، سپیکر مشتاق غنی، علی امین گنڈا پور، سابق صوبائی وزرا کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت دیگر رہنما تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔
تاہم انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا اخترحیات گنڈاپور نے پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ نرمی برتنے کے الزمات کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اب تک بہت سے ملزمان گرفتار ہیں دیگر ملزمان بھی جلد گرفتار ہوں گے۔
سی سی پی او پشاور نے بدھ کے روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماوں کو گرفتار نہ کرنے کا تاثر غلط ہے ایسی کوئی بات نہیں کہ ہم جان بوجھ کر گرفتار نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقدمات میں نامزد رہنما گھروں پر رات گزارنے کے لیے نہیں آتے ہیں۔
نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کسی ایسے رہنما سے رعایت نہیں کی جائے گی جس نے قانون ہاتھ میں لیا ہو۔’مقدمات میں نامزد تمام رہنماؤں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔‘ پولیس اور تمام ادارے مقدمات میں نامزد لوگوں کی گرفتاری کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت صوبے سے باہر روپوش ہے وہ اپنے گھروں میں نوکروں کو چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں۔ نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال کے مطابق کارکنوں کو بے آسرا چھوڑ کر پی ٹی آئی رہنما بھاگ چکے ہیں۔ ان کے مطابق مالاکنڈ سے تین سابق ایم پی ایز گرفتار ہیں۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز پولیس کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک صوبے سے دو ہزار 890 افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن کے خلاف جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے دفعات کے تحت 107 مقدمات درج ہیں۔ان مقدمات میں 20 ایف آئی آر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات تحت درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں ایک ہزار 112 ملزمان جیل بھجوائے گئے ہیں۔
پرتشدد واقعات کے 22 دن گزرنے کے باوجود صوبے سے پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کو گرفتار نہیں کیا جاسکا جس کے بعد حکومتی اتحادی جماعت بھی اعتراضات اٹھا رہی ہے۔صحافی سید وقاص شاہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی عدم گری پر عوامی نیشنل پارٹی کو تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق 25 مئی کو وزیراعظم کے دورہ پشاور کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے خیبرپختونخوا پولیس سے متعلق شکایات کی اور سوال اٹھایا کہ پولیس ابھی تک پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کیوں نہیں کرسکی؟وقاص شاہ کے مطابق اجلاس میں ایمل ولی نے پولیس کے چند افسران کے نام لے کر ان پر جانبداری کا الزام بھی لگایا۔
