کے پی کے: 5 حکومتی وزراء کی وزیراعلیٰ کے خلاف بغاوت

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کو عثمان بزدار پلس قرار دیتے ہوئے اوران کے طرز حکمرانی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے25 ممبران صوبائی اسمبلی نے اپنا علیحدہ گروپ بنالیا ہے اور پانچ صوبائی وزراء نے وزیر اعلیٰ کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے پانچ وزراء اور 20 اراکین صوبائی اسمبلی نے پارٹی کےاندراپناایک گروپ قائم کرلیا ہے۔ وزراء اور اراکین اسمبلی محمود خان کی کارکردگی سے انتہائی مایوس اور ناخوش ہیں ۔انھوں نے الزام لگایا ہے کہ صوبے میں کرپشن اور کمیشن کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے اور خیبرپختونخوا حکومت پنجاب کی حکومت سے بدتر ہے۔ محمود خان کو عثمان بزدار پلس قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے منشور پر عمل د رآمد نہیں ہو رہا بلکہ وزیراعظم اور وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری اور انکا بھائی صوبے کے تمام معاملات چلا رہے ہیں۔
تاہم وزیراعلی محمود خان نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں یکسر مستردکردیا ہے ۔انھوں نے کہا ہے کہ انکے چند وزراء اس سازش کے محرک ہیں کیونکہ میں نے ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کو صوبائی کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا میرے بھائی کا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اپنے آبائی علاقے کی مقامی سیاست میں کردار ادا کررہا ہےاور میں نے اپنے حلقے کی ذمہ داریا ں اس کے سپرد کررکھی ہیں۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ عمران خان نے مجھے وزیراعلی نامزد کیا اور مجھے کسی کو کابینہ میں شامل کرنے یا ہٹانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ کوئی استعفی دینا چاہتا ہے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جو وزراء الزامات لگا رہے ہیں انکی اپنی کارکردگی مایوس کن ہے اورمیں انھیں ہٹانے کا سوچ رہا ہوں۔ مجھے عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور انشاءاللہ مجھے کوئی ہلا بھی نہیں سکتا۔
محمود خان نے کہا کہ صوبے میں کرپشن اور کمیشن کے الزامات بے بنیاد ہیں اگر کسی کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو وہ سامنے لائے وزراء اور بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی کروں گا۔ میں بااختیارر ہوں کوئی میری حکومت میں مداخلت نہیں کررہا۔ جب پوچھا گیا کہ نااہل وزراء کو ہٹانے کی بجائے انکی وزارتیں کیوں تبدیل کی گئیں تو وزیر اعلی نے کہا کہ ان وزراء کو ایک موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں بصورت دیگر انھیں وزارتوں سے ہٹا دیا جائے گا۔
تاہم ایک سینئر وزیر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ صوبے میں کرپشن ٗ بدعنوانی اور ٗاختیارات کے ناجائز استعمال کے باعث تحریک انصاف کی جانب انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور پارٹی کی ساکھ شدید متاثر ہورہی ہے۔ ہم نے عمران خان کو کئی مرتبہ صورت حال سےآگاہ کیا لیکن تاحال انھوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ وزیر اعلی کی ناقص کارکردگی سے کارکنوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ سینیئر وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعلی محمود خان نااہل ہیں اور حکومت اسلام آباد سے چلائی جارہی ہے۔ کرپشن اور کمیشن کی شرح بڑھ کر 20 فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔
ایک اور وزیر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ وزیر اعلی کا بھائی پشاور میں بیٹھ کر حکومتی معاملات چلا رہا ہے۔ اکثر تقرریاں اور تبادلے اسکی مرضی سے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی وزیر کرپٹ یا نااہل تھا تو اسکو کابینہ سے نکالنے کی بجائے نئی وزارت دینے کاکیا مقصد ہے؟ اگر کوئی کرپٹ اور نااہل ہے تو نئی وزارت میں کیا کرے گا؟
