قاآنی کا بھی قاسم سلیمانی جیسا انجام ہوگا

امریکہ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ القدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قاآنی بھی اگر قاسم سلیمانی کے نقش قدم پر چلے تو تو ان کاانجام بھی ویسا ہی ہوگا۔
ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر عربی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نمائندے برائن ہک نے واضح کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق سربراہ قاسم سلیمانی کی موت نے ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس کو بھرنا ایرانی نظام کےلیے ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ملک نے دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد کو معرکے کے میدان سے ہٹا دیا، اس طرح خطہ زیادہ پر امن اور محفوظ ہو جائے گا کیوں کہ سلیمانی وہ (گوند) تھا جو خطے میں ایران کے ایجنٹوں کو اکٹھا کرتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو ایران کےلیے اسلحے کی برآمد پر پابندی کی تجدید کے واسطے حرکت میں آنا چاہیے۔ یہ پابندی جوہری معاہدے کی رُو سے آئندہ اکتوبر میں اختتام پذٰیر ہو جائے گی۔
قاسلم سلیمانی کی موت سے قبل اسماعیل قاآنی ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے نائب سربراہ کے منصب پر کام کر رہا تھا۔ وہ شام اور عراق میں پاسداران انقلاب کی فورسز اور ملیشیاؤں کا نگراں بھی ہے۔
ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای یہ باور کرا چکے ہیں کہ قآنی انیس سو اسی کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران قاسم سلیمانی کے ساتھ پاسداران انقلاب کے اہم ترین کمانڈروں میں سے تھا۔ خامنہ کے مطابق سلیمانی کے زمانے کے منظور کردہ منصبوں پر عمل درامد جاری رہے گا۔ رہبر اعلی نے القدس فورس کے تمام ارکان پر زور دیا کہ وہ اسماعیل قآنی کے ساتھ تعاون کریں۔
القدس فورس کے عہدے کے علاوہ قاآنی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے معاون کے طور پر بھی ذمے داریاں انجام دے رہا تھا۔
اسماعیل قاآنی اسرائیل سے متعلق اپنے سخت گیر مواقف کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ وہ شام اور عراق میں بھی سرگرمی کے ساتھ موجود رہا۔ تاہم سلیمانی کے برعکس قاآنی ایران کی داخلی سیاست کے منظرنامے میں کم نظر آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button