بحریہ ٹاؤن بحران، ملک ریاض نے اعلیٰ شخصیات سے مدد کیوں مانگ لی؟

بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین نے پاکستان کی اعلیٰ شخصیات سے براہِ راست مداخلت اور مدد کی اپیل کرتے ہوئے اپنے ادارے اور خاندان کو درپیش صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ملک ریاض کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلی اپیل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے اربوں روپے مالیت کے اثاثے منجمد کیے جا رہے ہیں، قبضے میں لیے جا رہے ہیں اور مبینہ طور پر قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر نیلامی اور فروخت کی طرف لے جائے جا رہے ہیں۔

ملک ریاض کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے تقریباً 238.6 ارب روپے کی کم از کم تخمینی مارکیٹ مالیت کے اثاثے پہلے ہی نیلام کیے جا چکے، قبضے میں لیے جا چکے یا اس وقت نیلامی اور فروخت کے عمل کی زد میں ہیں۔ ان کا مزید دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث تقریباً 372 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کام بھی تعطل کا شکار ہیں، جس کے اثرات صرف کمپنی تک محدود نہیں بلکہ اس سے وابستہ سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور ہزاروں افراد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ملک ریاض نے اپنی اپیل میں بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں کو مبینہ طور پر جبری طور پر قبضے میں لینے اور فروخت کرنے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد معاملات عدالتوں اور متعلقہ مجاز فورمز کے سامنے زیرِ سماعت ہیں، اس کے باوجود جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کے حوالے سے کارروائیاں جاری ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے بانی نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بعض اثاثے انتہائی کم اور غیر حقیقی قیمتوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق اگر اثاثوں کی فروخت شفاف قانونی طریقہ کار اور حقیقی مارکیٹ قیمت کے بجائے دباؤ یا جبری اقدامات کے ذریعے کی گئی تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ایک بڑے کاروباری ادارے کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

اپیل میں ملک ریاض حسین اور ان کے خاندان کو مبینہ طور پر سنگین نتائج اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے الزام میں نامزد شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے اور بعد ازاں ہائی کورٹ کی مداخلت کے باوجود اس شخص کی آزادی پر سوالات موجود ہیں۔

ملک ریاض نے اعلیٰ پاکستانی شخصیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں اور بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں، جاری عدالتی معاملات اور خاندان کو درپیش مبینہ خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے مناسب مداخلت کریں۔

اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کی ملکیت، قبضے، نیلامی اور فروخت کے حوالے سے قانونی تنازعات مختلف فورمز پر زیرِ سماعت ہیں تو ان کارروائیوں کے قانونی دائرۂ کار اور طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ دوسری جانب اگر متعلقہ اداروں کے پاس ان اقدامات کے لیے قانونی جواز موجود ہے تو اس کی وضاحت اور شفافیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔

بحریہ ٹاؤن ملک کے بڑے نجی رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی بڑے مالی یا قانونی بحران کے اثرات صرف ایک کمپنی یا اس کے مالکان تک محدود نہیں رہتے۔ سرمایہ کاروں، خریداروں، ملازمین، ٹھیکیداروں اور دیگر کاروباری حلقوں کے مفادات بھی اس معاملے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے اربوں روپے مالیت کے اثاثوں سے متعلق جاری کارروائیوں کی قانونی حیثیت کیا ہے، عدالتی معاملات کا حتمی فیصلہ کیا آتا ہے، اور ملک ریاض کی جانب سے اعلیٰ پاکستانی شخصیات سے کی گئی مداخلت کی اپیل پر کیا ردِعمل سامنے آتا ہے۔

یہ معاملہ اب محض ایک کاروباری تنازع نہیں رہا بلکہ اس کے ممکنہ مالی، قانونی اور معاشی اثرات کے باعث اس کی شفاف اور قانون کے مطابق وضاحت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

Back to top button