سندھ میں بے گناہ کے قتل پر شور لیکن پنجاب میں خاموشی کیوں؟

ایک جانب کراچی میں فوڈ چین کے مالک نوجوان میر رضا کے قتل پر میڈیا میں بھونچال آنے کے بعد سندھ حکومت ہل گئی اور معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے مقتول کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم تک کی نوبت آ گئی، جبکہ دوسری جانب لاہور پولیس کی تحویل میں دو خواتین کی پراسرار ہلاکت کے باوجود میڈیا میں اس شدت کا شور دکھائی نہیں دیا اور ایک خاتون وزیراعلی ہونے کے باوجود کیس کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پنجاب کے دارالحکومت میں ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کی پولیس حراست میں موت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار، پولیس تشدد کے الزامات، زیرحراست افراد کے تحفظ اور صوبائی حکومت کی جواب دہی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ سندھ میں جب بھی پولیس یا حکومت سے متعلق کوئی حساس اور سنگین معاملہ سامنے آتا ہے تو مین سٹریم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھاتا اور صوبائی حکومت سے جواب طلبی کرتا ہے، لیکن دوسری جانب پنجاب میں پولیس کے تشدد، نیفوں میں پستولیں چلنے، حراستی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آنے کے باوجود ان کیسز کی میڈیا کوریج نسبتاً محدود دکھائی دیتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ پنجاب میں میڈیا پر حکومتی اثر و رسوخ اور کنٹرول کا تاثر ہے، جس کے باعث ایسے واقعات وہ عوامی دباؤ پیدا نہیں کر پاتے جو سندھ میں اسی نوعیت کے معاملات کے بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔ لاہور میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی ہلاکت کا معاملہ تاہم اب عدالتی تحقیقات کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج لاہور کے احکامات پر واقعے کی باقاعدہ انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم، پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی اور عدالتی تحقیقات کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا تعین ممکن ہوگا۔
واقعے میں ہلاک ہونے والی خواتین کی شناخت ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کے نام سے ہوئی ہے۔ اہلخانہ کے مطابق دونوں خواتین آپس میں نند اور بھابھی تھیں۔ انہیں چار اگست کو چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ منتقل کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دونوں خواتین کو ایک شہری کی جانب سے ریسکیو 15 پر کی جانے والی کال کے بعد ٹاؤن شپ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 379 اور 420 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ دفعہ 379 چوری جبکہ دفعہ 420 دھوکہ دہی اور فراڈ سے متعلق ہے۔ مقدمے کے مطابق مدعی نے الزام عائد کیا کہ دونوں خواتین گلی میں بھیک مانگ رہی تھیں اور پانی مانگنے کے بہانے ایک گھر میں داخل ہوئیں۔ ایف آئی آر کے مطابق خواتین نے گھر کی ایک خاتون کو یہ بتایا کہ وہ دم بھی کرتی ہیں، جس کے بعد الزام ہے کہ انہوں نے گھر کی خواتین سے سونے کی بالیاں اور پانچ ہزار روپے حاصل کر لیے۔

ایف آئی آر کے مطابق گھر کا مرد جب واپس آیا تو خواتین نے سونے کی بالیاں واپس کر دیں تاہم پانچ ہزار روپے واپس نہیں کیے۔ مدعی کے مطابق اس دوران دونوں خواتین نے محلے میں شور شرابا شروع کر دیا اور اپنے کپڑے پھاڑ لیے، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور دونوں کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ مقدمہ درج کیے جانے کے بعد دونوں خواتین کو تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا تھا اور انہیں قانونی کارروائی کے لیے ویمن پولیس سٹیشن منتقل کیا جانا تھا، تاہم اس دوران ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ پولیس کے مطابق دونوں خواتین کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

پولیس نے دونوں خواتین کی موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم بھی کروایا ہے اور تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تاہم خواتین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس ریاست میں قتل کیا گیا ہے اور اب معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انمول کے شوہر ثقلین، جو آمنہ کے بھائی بھی ہیں، نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں خواتین کو پولیس حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کی میت دیکھی تو اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے جبکہ چہرے اور کمر پر بھی تشدد کے نشانات موجود تھے۔

ثقلین نے پولیس کی جانب سے خواتین کے منشیات کی عادی ہونے کے دعوے کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین گھروں اور مارکیٹوں میں پنسلیں وغیرہ فروخت کر کے روزی کماتی تھیں اور انہوں نے کبھی سپاری تک استعمال نہیں کی۔ ان کے مطابق دونوں کے خلاف اس سے پہلے کوئی مقدمہ بھی نہیں تھا۔ اس کے برعکس ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور خدشہ ہے کہ ان کی موت نشے کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کے باعث ہوئی۔ پولیس افسر نے خواتین پر دوران حراست تشدد یا بدسلوکی کے الزامات کو بھی مسترد کیا تھا۔
خواتین کے اہلخانہ نے پولیس کے اس مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ انمول کے والد اور آمنہ کے خالو تجمل حسین نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے بعد جب گھر کی خواتین دونوں لڑکیوں سے ملنے تھانے پہنچیں تو پولیس اہلکاروں نے انہیں ایک ایسی ایف آئی آر دکھائی جس میں خواتین کا ذکر تک نہیں تھا اور کہا کہ دونوں کو جیل بھیج دیا گیا ہے، اس لیے اگلے روز عدالت جا کر ضمانت کروا لی جائے۔

تجمل حسین کے مطابق بعد میں پانچ اگست کی رات تقریباً آٹھ بجے پولیس کی جانب سے دوبارہ اطلاع دی گئی کہ دونوں خواتین کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی موت ہو چکی ہے۔ اہلخانہ کے مطابق اس اچانک صورتحال نے ان کے شکوک مزید بڑھا دیے۔
آمنہ کی والدہ اور انمول کی ساس زینب بی بی نے بھی پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں خواتین خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور جھگیوں میں رہتی تھیں۔ ان کے بقول خاندان کے تمام افراد محنت مزدوری کر کے بمشکل اپنا گزر بسر کرتے ہیں اور ان کی بچیاں بھی محنت کر کے روزی کماتی تھیں۔
زینب بی بی نے دعویٰ کیا کہ جناح ہسپتال لاہور میں جب انہیں دونوں خواتین کی لاشوں کی شناخت کے لیے بلایا گیا تو ان کی حالت ایسی تھی کہ جسم پر زخم اور کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے پولیس اہلکاروں سے کپڑے پھٹے ہونے کی وجہ پوچھی تو انہیں بتایا گیا کہ خواتین کو واردات کے مقام پر موجود لوگوں نے مارا تھا۔
اہلخانہ کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھی ہے جس میں دونوں خواتین کو تھانے لاتے ہوئے دکھایا گیا۔ زینب بی بی کے مطابق فوٹیج میں دونوں خواتین اس وقت بظاہر صحیح سلامت دکھائی دیتی ہیں اور ان کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے نہیں تھے۔ اہلخانہ اسی بنیاد پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر خواتین تھانے پہنچتے وقت ٹھیک حالت میں تھیں تو چند گھنٹوں بعد ان کی حالت اس قدر کیسے بگڑ گئی کہ دونوں کی موت واقع ہو گئی۔

یاد ریے کہنقانونی طور پر پولیس حراست میں کسی ملزم کی موت انتہائی حساس معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق ایسے واقعے پر جوڈیشل مجسٹریٹ عدالتی تحقیقات کرتا ہے اور عام طور پر اس کی رپورٹ 30 روز کے اندر جاری کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس واقعے میں جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی سطح پر بھی آواز اٹھائی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما فیصل میر نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے لاہور کے ایک تھانے میں ذہنی طور پر معذور لڑکی کے ساتھ مبینہ ریپ کے الزامات سامنے آ چکے ہیں اور اب پولیس کی تحویل میں دو خواتین کی ہلاکت نے پولیس نظام اور حکومتی نگرانی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

یوں لاہور میں دو خواتین کی پولیس حراست میں ہلاکت کا معاملہ محض دو اموات کی تحقیقات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پولیس کے تفتیشی نظام، زیرحراست ملزمان کے ساتھ سلوک، سی سی ٹی وی ریکارڈ، پوسٹ مارٹم رپورٹس، پولیس کے منشیات سے متعلق دعوے اور اہلخانہ کی جانب سے تشدد کے الزامات سمیت کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
دوسری طرف اس پورے معاملے میں ایک بڑا سوال میڈیا کے کردار کے حوالے سے بھی اٹھ رہا ہے۔ کراچی میں نوجوان بزنس مین میر رضا کے قتل کے معاملے میں مسلسل میڈیا کوریج کے نتیجے میں سندھ حکومت پر بڑھنے والے دباؤ اور مقتول کی قبر کشائی سمیت دوبارہ تحقیقات کے اقدامات کے مقابلے میں لاہور کے واقعے پر نسبتاً کم میڈیا توجہ نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا پاکستان کے مختلف صوبوں میں ایک ہی نوعیت کے واقعات کی میڈیا کوریج کے معیار الگ الگ ہیں۔

ناقدین کے مطابق سندھ میں حکومت اور پولیس سے متعلق معاملات کو مین ا
سٹریم میڈیا زیادہ شدت سے اٹھاتا ہے، جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کو فوری طور پر وضاحتیں اور اقدامات کرنا پڑتے ہیں، جبکہ پنجاب میں پولیس سے متعلق سنگین واقعات کی ایک بڑی تعداد مطلوبہ عوامی اور میڈیا دباؤ پیدا نہیں کر پاتی۔ تاہم اس تاثر کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ لاہور کی دو خواتین کی موت کے معاملے میں اب عدالتی تحقیقات، فارنزک شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کیا حقائق سامنے لاتے ہیں۔

ہلاک ہونے والی دونوں خواتین کی تدفین پنجاب کے ضلع پاکپتن کے نواحی علاقے میں کر دی گئی ہے اور اہلخانہ کے مطابق تدفین کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔ اب نظریں جوڈیشل انکوائری، پوسٹ مارٹم اور فارنزک رپورٹس پر مرکوز ہیں، جن سے یہ طے ہونے کی توقع ہے کہ آمنہ اور انمول کی موت واقعی منشیات کی زیادہ مقدار کے باعث ہوئی، جیسا کہ پولیس کا دعویٰ ہے، یا پھر اہلخانہ کے الزامات کے مطابق انہیں پولیس حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

Back to top button