چھوٹے صوبے تشکیل دینے کی تجویز ناقابل عمل کیوں ہے؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں بہتر طرز حکمرانی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز نے حکومت کے لیے ایک ایسا پیچیدہ آئینی، سیاسی اور انتظامی مسئلہ کھڑا کر دیا ہے جس پر فی الوقت نہ صرف سیاسی جماعتوں میں اتفاقِ رائے موجود نہیں بلکہ حکومت کے پاس بھی اس حوالے سے کوئی واضح اور متفقہ منصوبہ سامنے نہیں آسکا۔ آئینی ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے وفاقی نظام میں صوبوں کی ازسرنو تشکیل محض انتظامی فیصلے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی ترامیم، پارلیمانی اکثریت، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری، نئی حدود کے تعین، وسائل کی تقسیم اور سیاسی اتفاقِ رائے سمیت کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے نئے صوبے بنانے کے منصوبے کی بات سامنے آنے کے بعد یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ حکومت آخر کتنے نئے صوبے بنانا چاہتی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں نئے صوبوں کی تعداد 7 سے لے کر 27 تک بتائی جا رہی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک نہ تو نئے صوبوں کی حتمی تعداد واضح کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی مجوزہ حدود، دارالحکومت، مالیاتی ڈھانچے اور انتظامی اختیارات کے بارے میں کوئی تفصیلی منصوبہ سامنے آیا ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کے ارادے کی تصدیق کی اور کہا کہ سب سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ان کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ نئے صوبوں کا قیام محض حکومتی اعلان کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔
آئینی رکاوٹ سب سے بڑا مسئلہ

نئے صوبوں کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود آئین پاکستان ہے۔ آئین کے آرٹیکل ایک میں پاکستان کے وفاقی ڈھانچے اور اس کے صوبوں کی وضاحت کی گئی ہے جبکہ آرٹیکل 239 صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے ایک واضح طریقہ کار متعین کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت اگر کسی آئینی ترمیم کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہیں تو اس ترمیم کو صدر کی منظوری کے لیے بھیجے جانے سے قبل متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر موجودہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا یا بلوچستان کی حدود میں سے کسی علاقے کو الگ کرکے نیا صوبہ بنایا جاتا ہے تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری بنیادی آئینی تقاضا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو محسن نقوی کی تجویز کو فوری طور پر قابلِ عمل بنانے کی راہ میں سب سے بڑی قانونی رکاوٹ بن رہا ہے۔
حکومت آئین میں ترمیم کے ذریعے راستہ نکال سکتی ہے؟
سیاسی حلقوں میں یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت شاید آئین کے آرٹیکل 239(4) کو تبدیل یا ختم کرنے کی کوشش کرے تاکہ موجودہ صوبے کی اسمبلی کی منظوری کی شرط کو ختم کیا جاسکے، تاہم یہ راستہ بھی آسان نہیں۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری کے مطابق اگر حکومت آرٹیکل 239(4) کو ختم کرکے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی لازمی منظوری کی شرط ختم کرنا چاہتی ہے تو آرٹیکل ایک میں بھی ترمیم کرنا پڑے گی۔ ایسی کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ یہاں حکومت کو ایک اور سیاسی حقیقت کا سامنا ہے کہ محض حکومتی جماعتوں کی حمایت کافی نہیں ہوگی بلکہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ ملانا ہوگا۔ اس لیے نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی اصلاحات کا منصوبہ نہیں بلکہ حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی مذاکرات کا امتحان بھی بن چکا ہے۔

نیئر بخاری نے کہا ہے کہ حکومت کو سب سے پہلے یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث لانا چاہیے اور اس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے کے لیے آئین میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، اس لیے کسی متبادل طریقے، خصوصاً ایسے ریفرنڈم کے ذریعے جسے آئینی عمل سے ہٹ کر استعمال کیا جائے، مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے واضح کیا کہ اگر حکومت آئینی ترمیم چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہوگی، جس کے لیے پیپلز پارٹی سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کی حمایت ضروری ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت نے اب تک پیپلز پارٹی سے اس معاملے پر باضابطہ رابطہ نہیں کیا۔

نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کرانے کی تجویز بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ بھی حکومت کے لیے کوئی آسان شارٹ کٹ نہیں ہوگا۔ نیئر بخاری کے مطابق ریفرنڈم ان معاملات پر ہوتا ہے جن کے بارے میں آئین خاموش ہو، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت ریفرنڈم کا راستہ اختیار کرنا چاہے تب بھی پہلے وفاقی کابینہ سے منظوری اور اس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری درکار ہوگی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر اور قانونی ماہر کامران مرتضیٰ نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت کسی نہ کسی طریقے سے 27 نئے صوبے بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پہلے آئینی ترامیم کے ذریعے راستہ بنایا جائے گا اور اس کے بعد الیکشن کمیشن کے ذریعے ریفرنڈم کرانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کی بحث میں سب سے زیادہ پیچیدہ مرحلہ یہ ہوگا کہ نئی صوبائی حدود کہاں سے گزریں گی۔ اگر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس کی حدود کہاں تک ہوں گی، دارالحکومت کون سا شہر ہوگا، وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی، ملازمین اور اداروں کی تقسیم کس بنیاد پر ہوگی اور موجودہ صوبے کے اثاثے کس تناسب سے تقسیم کیے جائیں گے، یہ سب سوالات فوری طور پر سامنے آئیں گے۔ اسی طرح اگر سندھ، خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کی بات کی جاتی ہے تو زبان، ثقافت، آبادی، جغرافیہ، وسائل، معدنیات، پانی، زمین اور سیاسی نمائندگی جیسے معاملات پر اختلافات پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔

اس لیے آئینی ماہرین کے نزدیک حکومت کے لیے اصل مشکل صرف نئے صوبے کا اعلان کرنا نہیں بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والے سینکڑوں انتظامی، مالیاتی، سیاسی اور قانونی سوالات کا جواب دینا ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی حتمی تعداد سامنے نہ آنے کے باعث سیاسی حلقوں میں سات سے 27 تک نئے صوبے بنانے کی مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تاہم جتنے زیادہ صوبے بنانے کی بات کی جائے گی، اتنا ہی پیچیدہ آئینی اور انتظامی عمل بھی درکار ہوگا۔
اگر سات نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تو بھی موجودہ صوبوں کی حدود تبدیل ہوں گی، نئی اسمبلیاں، گورنر ہاؤسز، وزرائے اعلیٰ، کابینہ، ہائی کورٹس، سیکریٹریٹس، پولیس اور دیگر انتظامی ڈھانچے قائم کرنا ہوں گے۔ اگر تعداد 27 تک پہنچتی ہے تو یہ عمل کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مہنگا ہوجائے گا۔
پی ٹی آئی کی جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت
دوسری جانب تحریک انصاف نے اصولی طور پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی ہے، تاہم پارٹی نے واضح کیا ہے کہ جہاں حقیقی ضرورت ہو وہاں نئے صوبے بنائے جائیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے صوبے بنانے کی تجویز کے ناقابلِ عمل ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک اس منصوبے کے لیے سیاسی، آئینی اور انتظامی بنیاد تیار نہیں کی۔ پہلا مسئلہ آئینی اکثریت ہے۔ صوبائی حدود تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہے، جبکہ آئینی ترمیم کی صورت میں پارلیمنٹ میں بھی دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔
دوسرا مسئلہ سیاسی اتفاقِ رائے ہے۔ نئے صوبے بنانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سیاسی قوتوں کے مفادات اور ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں۔
تیسرا مسئلہ صوبائی حدود کا تعین ہے۔ کسی علاقے کو نئے صوبے میں شامل کرنے یا موجودہ صوبے میں برقرار رکھنے کا فیصلہ شدید سیاسی تنازعات پیدا کرسکتا ہے۔ چوتھا مسئلہ وسائل کی تقسیم ہے۔ پانی، این ایف سی، قدرتی وسائل، سرکاری زمین، ملازمین، پنشن، ترقیاتی بجٹ، پولیس، عدالتیں اور سرکاری اداروں کے اثاثوں کی تقسیم کے لیے ایک جامع فارمولا درکار ہوگا۔
پانچواں مسئلہ انتظامی اخراجات ہیں۔ نئے صوبے کا مطلب نئی اسمبلی، نیا سیکریٹریٹ، نئی کابینہ، گورنر ہاؤس، ہائی کورٹ، پولیس و انتظامیہ سمیت ایک مکمل سرکاری ڈھانچے کا قیام ہے، جس کے لیے اربوں روپے کے اضافی اخراجات درکار ہوسکتے ہیں۔
چھٹا اور سب سے حساس مسئلہ شناخت اور نمائندگی کی سیاست ہے۔ پاکستان میں صوبائی شناخت پہلے ہی ایک حساس سیاسی مسئلہ ہے، اس لیے نئی سرحدیں کھینچتے وقت لسانی، علاقائی اور ثقافتی جذبات کو نظرانداز کرنا شدید سیاسی ردعمل پیدا کرسکتا ہے۔

ناقدین کے مطابق پاکستان کا بنیادی مسئلہ محض یہ نہیں کہ ملک میں چار صوبے ہیں یا سات، دس یا 27 صوبے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام شہری کو اپنے گھر کی دہلیز کے قریب تعلیم، صحت، پولیس، بلدیاتی سہولیات، صاف پانی، صفائی اور دیگر بنیادی خدمات کس طرح فراہم کی جائیں۔ اگر صوبوں کی تعداد بڑھا بھی دی جائے لیکن اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہ کیے جائیں تو انتظامی مسائل اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کے ذریعے موجودہ صوبائی ڈھانچے کے اندر بھی حکمرانی کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے موجودہ حالات میں نئے صوبے بنانے کی تجویز کے مقابلے میں بااختیار مقامی حکومتوں، جامع انتظامی اصلاحات اور سیاسی اتفاقِ رائے کا راستہ زیادہ قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے۔ نئے صوبوں کا قیام ایک طویل المدت قومی منصوبہ ہوسکتا ہے، مگر اسے فوری سیاسی یا انتظامی حل کے طور پر نافذ کرنا آئینی، سیاسی اور مالی اعتبار سے انتہائی مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

Back to top button