عمران خان، بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی؛ وکیل کے تحریری دلائل عدالت میں جمع

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے کیس میں عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے تحریری دلائل جمع کرا دیے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دے دیا۔انہوں نے حقائق کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی معاون، لوکل کمیشن یا فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرے، عدالت کمیشن سے جائزہ رپورٹ طلب کرے اور دونوں کو عدالت میں طلب کرکے قیدِ تنہائی سے متعلق ان کے بیانات قلمبند کیے جائیں۔

تحریری دلائل میں کہا گیا کہ عدالت ویڈیو لنک کے ذریعے بھی بیانات قلمبند کر سکتی ہے۔ ایک ایسا بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ایکسپرٹ، ریاست اور درخواست گزاروں کا نمائندہ شامل ہو۔ بورڈ سینٹرل جیل اڈیالہ کا دورہ کرے، متعلقہ سہولیات اور ریکارڈ کا معائنہ کرے اور قیدیوں کو تنہائی میں رکھے جانے کے معاملے پر اپنی آزادانہ رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے استدعا کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قیدیوں کو ویڈیو لنک پر بات کرنے کی فراہم کردہ سہولت بانی پی ٹی آئی کو بھی دی جائے، جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کتابیں اور ٹی وی بھی فراہم کیا جائے۔

تحریری دلائل میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا 300 سے زائد مقدمات میں ان کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس لیے جیل رولز کے مطابق قانونی ٹیم کو بلا رکاوٹ ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جیل قواعد کے مطابق قیدیوں کی اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں سے ہفتہ وار باقاعدہ ملاقاتیں بھی یقینی بنائی جائیں۔

مزید استدعا کی گئی کہ سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ کو واضح ہدایت کی جائے کہ ایسی ملاقاتوں کو بغیر کسی غیر ضروری پابندی یا رکاوٹ کے ممکن بنایا جائے۔ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس اور مکمل طبی ریکارڈ فراہم کیا جائے اور طبی ریکارڈ عدالت میں بھی پیش کیا جائے۔

تحریری دلائل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے تمام کیسز کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔

دلائل میں بتایا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے نامکمل رپورٹ جمع کرائی۔ ڈیڑھ صفحے پر مشتمل رپورٹ میں تمام سنگین خدشات اور مسائل کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ تحریری دلائل کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی نقل و حرکت کو بلا روک ٹوک قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ دونوں قیدیوں کو اپنے مخصوص احاطے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

 

مکہ دفاعی معاہدے سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں: اسماعیل بقائی

بیرسٹر سلمان صفدر کے تحریری دلائل 19 صفحات پر مشتمل ہیں، جو جسٹس خادم حسین سومرو کی جانب سے طلب کیے گئے تھے۔

Back to top button