کے پی کے پرطالبان قابض ہونے لگے،پولیس کے لئے نوگوایریا

پچھلے کچھ عرصے سے ملک میں دہشتگردوں کی جانب سے جاری شرپسندانہ کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے شدت پسندوں اور ان کے سہولتکاروں کا قلع قمع کرنے کیلئے عزم استحکام کے نام پر نیا آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے تاہم دوسری جانب نیا دور کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع پولیس کیلئے نوگو ایریاز بن گئے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی کئی مقامات پر طالبان سڑکوں پر گشت کرتے اور ناکے لگاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، جبکہ پولیس تھانوں تک محدود ہو کررہ گئی ہے اور یہ علاقہ شام سے صبح تک طالبان کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ مقامی پولیس بھی سب سے پہلے اپنی جانوں کی حفاظت یقینی بنانے پر کاربند ہے۔ اس صورت حال کے باعث رہزنی، ڈکیتی اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک، لکی مروت اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، گورنر فیصل کریم کنڈی اور انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات گنڈپورا کے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی موجودگی اور نقل و حرکت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خفیہ ادارے، صحافی اور دیگر ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ ٹانک، ڈی آئی خان، وزیرستان اور لکی مروت میں حالیہ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان میں مقامی سطح پر کافی بھرتیاں کی گئی ہیں اور مبینہ طور پر سینکڑوں مقامی نوجوان ٹی ٹی پی اور دوسری تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت ان پڑھ اور غریب نوجوانوں کی ہے تاہم کئی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح پولیس اور دیگر اداروں کو مختلف مقدمات میں مطلوب جرائم پیشہ افراد بھی ٹولیوں کی شکل میں ٹی پی پی میں شامل ہوئے ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی آئی ہیں کہ اب تک 50 سے زائد چھوٹے بڑے گروہوں نے ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ حافظ گُل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کے درمیان بھی اتحاد ہوا ہے اور رواں سال دونوں نے 11 حملوں کی ذمہ داری مشترکہ طور پر قبول کی ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق ڈی آئی خان میں مجموعی طور پر 22 شدت پسند گروپس کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ ضلع کی تحصیل کلاچی میں موجود دونوں گنڈاپور گروپس جن میں ایک کی سربراہی فیصل گنڈاپور جبکہ دوسرے کی سربراہی مبینہ طور پر عمر خطاب کر رہے ہیں، سرائیگی گروپ اقبال کلہاڑہ گروپ اور ستورانی گروپ جو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر کارروائیاں کرتے ہیں، ٹی ٹی پی میں ضم ہو گئے ہیں۔ اسی طرح شمالی وزیرستان اور بنوں میں حافظ گل بہادر گروپ، جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں ٹی ٹی پی، لکی مروت میں ٹی ٹی پی ٹیپو گل گروپ فعال ہیں۔
خفیہ ادارے کے ایک سینیئر افسر کے مطابق ان علاقوں میں فعال شدت پسندوں کی تعداد 2500 سے 3000 کے لگ بھگ ہے۔ ڈی آئی خان میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد رہزنی کرتے ہیں اور اکثر اپنے مخالفین کو قتل بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ شام کے بعد انہیں تھانوں سے نہ نکلنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شام کے بعد پولیس عام جرائم کی تفتیش کیلئے باہر جا سکتی ہے اور نا ہی کسی ملزم کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔
لکی مروت میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلع میں پولیس اور دیگر فورسز کے خلاف تمام کارروائیاں ٹی ٹی پی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے شامل ہونے والے نوجوان بندوق چلانے سے زیادہ طالبان کیلئے ریکی کرتے ہیں اور انہیں کھانے کا سامان بھی پہنچاتے ہیں، اس لیے پولیس کو انہیں پہچاننے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ پولیس کے پاس نائٹ وژن گوگلز، بکتر بند گاڑیاں، بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹس کی شدید کمی ہے جبکہ انہیں صرف تھرمل کیمرے کی سہولت حاصل ہے۔
طالبانائزیشن پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے بتایا کہ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی اور پاکستان کا ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ ہوا تو پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں ہزاروں کی تعداد میں طالبان آئے جن میں زیادہ تر محسود اور مروت تھے۔ اس دوران چھپے ہوئے شدت پسند اور ان کے سہولت کار بھی منظرعام پر آ گئے اور انھوں نے اپنے آپ کو منظم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن ضرب غضب کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ شدت پسندوں کا قلعہ قمع کر دیا گیا ہے مگر بعد میں آنے والے وقتوں میں ٹی ٹی پی نے منظم منصوبہ بندی کے تحت مقامی سطح پر پھر سے بھرتیاں کیں اور بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنا شروع کر دیا۔ اس دوران ہماری حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی اضلاع میں پولیس کے پاس طالبان کے خلاف لڑنے کیلئے اسلحہ اور دیگر ضروری ساز و سامان نہیں ہے۔
سکیورٹی امور کے ماہر اور سینیئر صحافی افتخار فردوس کے مطابق 2021 کے بعد جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو مختلف شدت پسند گروہوں نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کا رخ کیا۔ اس دوران ان کے ساتھ کئی افغان شہری بھی آ گئے اور یہی وجہ ہے کہ اس دوران ان علاقوں میں جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ان میں سے اکثر حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام شدت پسند گروہ مذکورہ علاقوں میں ایک شیڈو حکومت اور اپنا بیس بنانا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گل بہادر گروہ اپنے علاقے سے نکل کر بنوں اور لکی مروت میں حملے کراتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ یہاں پہلے سے ہی عام لوگ حکومت سے ناراض ہیں اس لیے طالبان کو اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے زیادہ محنت نہیں کرتی پڑتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ پورا جنوبی پختونخوا نوگو ایریا بن گیا ہے، ان علاقوں میں پولیس اور دیگر فورسز کی موجودگی برقرار ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ شدت پسند گروہ جب بھی چاہیں، کسی بھی روڈ پر ناکے لگا سکتے ہیں۔
