گاڑیوں کےلیے فٹنس سرٹیفیکیٹ کیوں ضروری ہے؟

دنیا بھر میں گاڑی کو سڑک پر لانے کےلیے ایک فٹنس سرٹیفیکیٹ درکار ہوتا ہے جو کچھ عرصے بعد گاڑی کا مکمل معائنہ کرنے کے بعد جاری کیا جاتا ہے تاکہ خراب گاڑی سڑک پر چلنے سے کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔ لیکن پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں۔
اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موٹر وہیکل ایگزامینر انعام اللہ چغتائی کا کہناہے کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے سیکشن 39 کے تحت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی گاڑیاں چلانے کےلیے ڈرائیونگ لائسنس اور متعلقہ دستاویزات کے ساتھ گاڑیوں کا فٹنس سرٹیفیکیٹ بھی ضروری ہے۔ گاڑیوں کو سرٹیفکیٹ کے اجرا سے قبل تین چیزیں دیکھی جاتی ہیں انجن، ٹائر اور باڈی۔ ہم چیک کرتے ہیں کہ انجن دھواں (زیادہ) نہ دیتا ہو، ٹائر 1.66 ملی میٹر کا ہو اور بریک ٹھیک ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ فٹنس سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والی گاڑیوں کا چالان ہوتا ہے۔ اس مقصد کےلیے ہم نے ایک شیڈول بنایا ہے جس کے تحت ہم روزانہ کسی ایک علاقے میں گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں۔
موٹر وہیکل ایگزامینر کے دائرہ کار میں بڑی گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں، کوسٹرز، اور ٹیکسیوں کے علاوہ لوگوں کی نجی کاروں اور دیگر چھوٹی گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ بھی شامل ہے۔ لیکن شہر میں ذاتی گاڑیاں چلانے والے بیشتر افراد سے جب اس بارے میں دریافت کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان کے خلاف کبھی بھی فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی نہیں ہوئی۔
انعام اللہ مانتے ہیں کہ بہت سی ٹیکسیوں کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہوتا، بہت سی ایسی پرانی ایف ایکس گاڑیاں ہیں جنہیں ٹیکسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ ان گاڑیوں کا چالان بھی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ فٹنس سرٹیفیکیٹ نہیں لیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو اس قانون پر عمل نہیں کرتا انہیں مار تو نہیں سکتے، زیادہ سے زیادہ ان کا چالان کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں غربت اتنی ہے کہ ایک غریب شخص اپنا ہر لمحہ روزی کمانے میں لگانا چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ کاغذات کے چکروں میں پڑے یا اپنے پیسے گاڑی کی مرمت میں لگوائے۔
مسافر ویگنیں چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ شہر کے اندر چلنے والی تمام ویگنوں کے پاس گاڑیوں کا فٹنس سرٹیفکیٹ موجود ہے جس کی ہر پانچ سال بعد تجدید ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام کا سارا زور پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں چیک کرنے پر ہوتا ہے۔
کراچی میں مقیم ایک اسکول ٹیچر کا کہنا تھا کہ پہلے گاڑی کےلیے فٹنس سرٹیفکیٹ اتنا اہم نہیں ہوتا تھا لیکن اب ضروری ہو تا جا رہا ہے کیوں کہ اب یہ گاڑی بیچتے وقت چاہیے ہوتا ہے۔
موٹر وہیکل ایگزامینر انعام اللہ کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ 35 سے 40 گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ جاری ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button