گفتگو کے دوران ’تکیہ کلام‘ کے تکیے

اکثر لوگ بات کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی لفظ یا جملہ بار بار بولتے ہیں اپنی بات چیت یا گفتگو میں جس لفظ یا جملے کو دہرایا جائے اسے اس شخص کا تکیہ کلام کہا جاتا ہے۔
اردو زبان میں یوں تو لفظ تکیہ کئی معنوں میں اخذ کیا جاتا ہے اور جس میں آرام، سہارا، آسرا اور بھروسہ کرنے کے شامل ہیں۔ جب کہ ایک تکیہ سونے یا ٹیک لگانے کےلیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، یہ روایت بھی ہے کہ کچھ لوگ گفتگو کے دوران بھی تکیے کی سہولت سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں یہاں تک کہ ایسے افراد اپنے نام سے زیادہ تکیہ کلام سے جانے جاتے ہیں اور اب تو کہ پاکستان میں تکیہ کلام بھی سیاسی ہوگئے ہیں۔ ایک وفاقی وزیر شہریار آفریدی کا تکیہ کلام تو سنا ہی ہوگا آپ نے! ’میں نے جان اللہ کو دینی ہے‘۔
اداکار جمشید انصاری مرحوم کے مشہور کردار انکل عرفی میں ’چقو ہے میرے پاس‘ کے تکیہ کلام نے عوام میں خوب پذیرائی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے 2 اور تکیہ کلام کرداروں سے زیادہ مقبول ہوئے جن میں ’قطعی نہیں‘ اور ’زور کس پر ہوا‘ شامل ہیں۔
ڈراموں کی طرح فلم انڈسٹری کے بھی کئی ڈائیلاگ زبان زدِ عام ہوئے تاہم کرداروں کے یہ تکیہ کلام ادب کی خوش نما شکل اور برمحل ہوتے تھے۔ کردار کی ضرورت بھی تھے اور فلم کی مقبولیت کےلیے ٹریڈ مارک بن جایا کرتے تھے جنہیں بطور فیشن لوگ اپنی گفتگو کا حصہ بھی بنالیتے تھے۔ ’نوا آیا ہے سونہڑیا‘ تو یاد ہی ہوگا۔
ماہرینِ لسانیات ’تکیہ کلام‘ کو غیر شعوری طور پر ادا ہوجانے والے الفاظ کا نام دیتے ہیں۔ تکیہ کلام کی ادائی کی کوئی ٹھوس وجہ معلوم نہیں تاہم یہ گفتار پر قدرت نہ ہونے کے ڈر، الفاظ کے ذخیرے میں کمی کا احساس، بات میں وزن ڈالنے کےلیے لاشعوری بہانہ اور ماحول کا اثر ہوسکتے ہیں۔ یہ گفتگو کے حُسن کو گہنا دیتے ہیں۔
ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ اگر بچپن سے ہی غیر ضروری الفاظ کے بار بار استعمال پر ٹوکا جائے اور حوصلہ شکنی کی جائے تو زبان و بیان کے بگاڑ کے عمل کو روکا جاسکتا ہے۔ الفاظ کے استعمال میں شائستگی اور کفایت شعاری کے احساس کو اجاگر کرنا ہوگا۔ یہ زبان کو درستی کے ساتھ مزین رکھنے کا واحد طریقہ ہے۔
انسانی ذہن، عادات اور رویوں پر نظر رکھنے والے ماہرین نفسیات تکیہ کلام کے غیر ضروری اور بے جا استعمال کو لاشعور میں گھس بیٹھیے ’کسی خوف‘، ’ستائش کی تمنا‘ یا ’احساس محرومی‘ کے مداوے کی خواہش کا مظہر قرار دیتے ہیں جس کی جڑ تک پہنچے بغیر اس غیر ضروری عادت سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔
ماہرین کی رائے اپنی جگہ مسلّم لیکن ایک عام آدمی کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کہنے والے کی طرح سامع کا وقت بھی قیمتی ہے اور اس قیمتی دولت کو بے جا الفاظ کے چولہوں میں مت جھونکیں اور سب سے بڑھ کر مجرب نسخے ’پہلے بولو پھر تولو‘ سے کام لیں تو کافی افاقہ ہوسکتا ہے۔
