گلابی نمک کا ٹریڈ مارک پاکستان کے نام رجسٹر کروانے کا فیصلہ

سوشل میڈیا پر پاکستانی گلابی ہیرے یعنی گلابی نمک سے متعلق بھرپور مہم چلنے کے بعد اب وزارت تجارت نے پاکستان گلابی نمک کو جسے جیوگرافیکل انڈیکیشنز یعنی جی آئی قوانین کے تحت رجسٹرڈ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق گلابی نمک خالص پاکستان میں پیدا ہونے والی پراڈکٹ ہے اور اسے دنیا میں برآمد اور فروخت کرنے کا حق صرف پاکستان کو حاصل ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں جی آئی قوانین حال ہی میں بنے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر کھیوڑا کے گلابی نمک کے فائدوں کے بارے ایک مہم چلائی جا رہی تھی اور عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومت اس قیمتی پاکستانی نمک کو ’کوڑیوں کے بھاؤ‘ بھارت کو فروخت کرنے پر پابندی عائد کرے۔ اس حولے سے وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کا قیمتی گلابی نمک مناسب مارکیٹنگ اور برانڈنگ نہ ہونے کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر ملکی برانڈز کے نام سے نہایت مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ بھارت پاکستان سے گلابی نمک 4 روپے 80 پیسے فی کلو کے حساب سے خریدتا ہے اور پھر اس کو پروسیس کرکے چار سو سے پانچ سو روپے فی کلو کے حساب سے بیچ رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں گلابی نمک کی دنیا کی دوسری سب سے بڑی کان موجود ہے لیکن پاکستان نمک کی برآمد میں دنیا کے 20 ٹاپ ممالک کی لسٹ میں بھی شامل نہیں۔ لیکن حیران کن طور پر انڈیا پاکستان سے یہی نمک خرید کر اس لسٹ میں ساتویں نمبر پر ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں آگاہ کیا گیا کہ پاکستان نے پچھلے برس تقریباً 92،752 میٹرک ٹن نمک برآمد کیا جس کی مالیت دو ارب 15 کروڑ روپے تھی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان نے ایک ارب 98 کروڑ روپے میں ایک لاکھ پانچ ہزار میٹرک ٹن نمک برآمد کیا تھا جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے کاروباری افراد نے ابھی تک اس نمک کا اپنا کوئی برانڈ تیار نہیں کیا۔ تاہم پاکستانی حکام نے کھیوڑا کے گلابی نمک کو ٹریڈ مارک برانڈ کے تحت رجسٹرڈ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
گلابی نمک پاکستان میں جہلم سے کوہاٹ کے درمیان موجود تین سو کلومٹیر سے زائد پر محیط علاقے میں پایا جاتا ہے۔ گلابی نمک کے ذخائر کھیوڑہ ضلع جہلم، وڑچھا ضلع خوشاب اور کالاباغ ضلع میانوالی میں کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ حب سالٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر اور نمک کے برآمد کنندہ اسماعیل ستار کے مطابق گلابی نمک صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے اور دنیا میں نمک کی یہ قسم کہیں اور موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا اسی کی دہائی میں انہوں نے اپنے غیر ملکی پارٹنر کے ساتھ جب گلابی نمک کو برآمد کرنے کا کام شروع کیا تو گلابی نمک کو ’ہمالین سالٹ‘ کا نام دیا جو بعد میں استعمال ہوتا چلا گیا اور آج گلابی نمک کو ہمالین نمک کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ عام نمک اور گلابی نمک کے درمیان فرق پر بات کرتے ہوئے اسماعیل ستار نے بتایا کہ گلابی نمک کی سب سے خاص بات اس کا رنگ ہے جو اسے عام نمک سے منفرد کرتا ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ رنگ کے ساتھ اس میں آئرن یعنی فولاد کی مقدار عام نمک کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں لوگ آئرن کی کمی کا شکار ہیں، اس لیے ایسے لوگ بھی اسے زیادہ استعمال کرتے ہیں جو آئرن کی کمی کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہیں۔ اسماعیل ستار نے مزید بتایا کہ کھانے میں استعمال ہونے والا گلابی نمک جہاں بہت مقبول ہوا تو اس کے ساتھ اس سے تیار ہونے والی مصنوعات بھی بہت مشہور ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلابی نمک سے سجاوٹ کےلیے استعمال ہونے والی مختلف چیزیں بنتی ہیں اور اس سے تیار ہونے والے لیمپ اور ٹائلیں اور دوسری مصنوعات بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ گلابی نمک سے تیار ہونے والے لیمپ کی خصوصیات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ایک تو اس کی خوشبو سوندھی ہوتی ہے جس کے انسانی نفسیات پر بہت اچھے اثرات ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ یہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کےلیے بھی بہت مفید ہے۔
پاکستان میں گلابی نمک کی پیداوار پر بات کرتے ہوئے اسماعیل ستار نے بتایا کہ اس کی پاکستان میں مجموعی پیداوار 25 سے 30 لاکھ ٹن سالانہ ہے اور اس میں سے دو سے ڈھائی لاکھ ٹن برآمد کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا گلابی نمک برے پیمانے پر امریکہ برآمد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ اور خلیجی ریاستوں میں بھی جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے برآمد ہونے والے گلابی نمک میں سے 60 فیصد کو صرف ان کی کمپنی ایکسپورٹ کرتی ہے۔ گلابی نمک کو جی آئی قوانین کے تحت تحفظ کی ضرورت کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گلابی نمک خالص پاکستان کی پراڈکٹ ہے اور یہ ایک سادہ سی پالیسی ہے کہ جو پراڈکٹ پاکستان کی ہے اسے جی آئی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہو اور اس کی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ انہوں نے باسمتی چاول کی طرح گلابی نمک پر انڈیا کی جانب سے کسی خطرے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کیا اور کہا اس میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلابی نمک کے علاوہ پاکستان میں پیدا اور تیار ہونے والی دوسری چیزوں کو بھی ان قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہوگا۔
اسماعیل ستار نے بھی اس تائثر کو مسترد کیا کہ انڈیا گلابی نمک پر کوئی کلیم کر سکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان میں پیدا ہونے والے گلابی نمک کو انڈیا اپنے نام سے دنیا بھر میں بیچتا ہے تو انہوں نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سوشل میڈیا پر چلنے والی باتیں ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں۔ اسماعیل ستار نے کہا کہ جی آئی قوانین کے تحفظ اس کی ضرورت اس لیے پڑی کہ کل کوئی ہمارے ساتھ زیادتی نہ کرے۔ انہوں نے کہا یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تحت اپنے ہاں پیدا ہونے والی مصنوعات کے حقوق اپنے نام پر محفوظ کرے، جو کہیں اور نہیں پائی جاتیں۔
پاکستان میں انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن یعنی آئی پی او کے حکومتی ادارے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر میثاق عارف نے بتایا کہ اگر انڈیا نے پاکستان کا گلابی نمک اپنے نام سے کہیں بیچا یے تو انڈیا کیا، دنیا کا کوئی بھی ملک یہ کام کر سکتا ہے کیوں کہ گلابی نمک کو جی آئی قوانین کے تحت پاکستان میں تحفظ ھاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب جی آئی قوانین کے تحت اسے تحفظ مل جائے گا تو پھر اسے پاکستان کے علاوہ کوئی بھی نہیں بیچ سکے گا۔
