گلگت کی آئینی حیثیت میں تبدیلی مسئلہ کشمیر کیسے خراب کرے گی؟

کپتان حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے اسے پاکستان کا صوبہ بنانے کی کوشش کو مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی نفی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کے خلاف پاکستان کے اصولی مؤقف کی بنا پر گلگت کو وفاق کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی پاکستانی سپریم کورٹ کے اختیارات اس علاقے میں لاگو کیے جا سکتے ہیں۔ اور اگر پاکستان نے ایسا کیا تو پھر مودی سرکار کی جانب سے جموں کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرکے اسے بھارت کا حصہ بنانے کے عمل کی بھی توثیق ہو جائے گی۔
آئینی ماہرین کا کہنا یے کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر سے منسلک ہے اور بھارت کے اگست 2019 کے متنازع فیصلے کے جواب میں ایسے کسی اقدام سے نہ صرف کشمیری پاکستان سے ناراض ہو جائیں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا مؤقف کمزور ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ کپتان حکومت نے چین سے ملحقہ پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے لیے قانونی مسودہ تیار کر لیا ہے جسے اب منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم کے مطابق گلگت کو عبوری صوبہ بنانے کے لیے آرڈیننس وزیرِ اعظم کو بھجوا دیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت گلگت بلتستان کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے گی اور سپریم ایپیلٹ کورٹ کو ختم کر کے اس علاقے کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں لایا جائے گا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صوبے کا درجہ دینے جا رہی ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ برس نومبر میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ برس ستمبر میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ بنانے کے لیے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مشاورت بھی ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں صوبائی نظام تو نافذ ہے اور یہاں کا اپنا گورنر اور وزیرِ اعلیٰ ہے۔ لیکن قانونی اعتبار سے اس علاقے کو پاکستان میں وہ آئینی حقوق حاصل نہیں جو ملک کے دیگر صوبوں کو حاصل ہیں۔پاکستان اسی لیے مقامی آبادی کے پُر زور مطالبے کے باوجود گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو بدلنے سے کتراتا رہا ہے کہ اس سے کشمیر پر اس کے مؤقف پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم گلگت بلتستان کی اسمبلی سے رواں برس مارچ میں ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کروائی گئی تھی جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اس علاقے کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کے لیے درکار قانون سازی کرے تاکہ پارلیمنٹ اور دیگر وفاقی اداروں میں بھی اس علاقے کو نمائندگی مل سکے۔ گلگت بلتستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں شروع ہی سے خطے کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے لیے مہم چلا رہی تھیں۔ تاہم حکومت پاکستان، مسئلہ کشمیر پر دیرینہ اور اُصولی مؤقف پر اثرات کے خدشے کے باعث گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ حصہ قرار دینے سے گریزاں رہی ہے۔ کشمیری قائدین بھی سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان متنازع علاقے کا حصہ ہے اور اسے اس وقت تک ایسا ہی رہنا چاہیے جب تک کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
اس معاملے بارے بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ بھارت کے پانچ اگست 2019 کے قانونی ایکشن کے ردِ عمل میں پاکستان نے بھی سوچا کہ کوئی قانونی نوعیت کا اقدام کیا جائے تاکہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر مؤقف بین الاقوامی سطح پر اُجاگر ہو۔ خیال رہے کہ پانچ اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر کے اس مرکز کا حصہ بنا لیا تھا۔ احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ مجوزہ آرڈیننس میں قانونی نکات کا بہتر استعمال کر کے پاکستان کشمیر پر اپنا دیرینہ مؤقف برقرار رکھ سکتا ہے۔ تاہم ان کے بقول اس کے لیے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں تبدیلی پر بحث اور سیاسی اتفاق رائے کے تحت اقدامات کیے جائیں۔احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ اگر مسئلہ کشمیر کو ایک طرف بھی رکھیں تو گلگت بلتستان پر پاکستان اپنی حاکمیت کا اختیار بلا روک ٹوک استعمال کرتا آیا ہے جس پر ماضی میں بھارت نے بھی کبھی اعتراض نہیں اٹھایا ماسوائے حالیہ عرصے کے جب یہ علاقہ چین، پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بنا۔ احمر بلال صوفی کے بقول سپریم کورٹ آف پاکستان بھی اپنے فیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ حکومتِ پاکستان گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دے لہٰذا اس پس منظر میں بھی اس قسم کی قانون سازی کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کشمیر کا تصفیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں ہونا چاہیے اور اس دیرینہ مسئلے کے حل کا دوسرا راستہ شملہ معاہدہ ہے جس کے تحت پاکستان اور بھارت باہمی سطح پر مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کر سکتے ہیں۔
لیکن بعض قانونی ماہرین گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت میں تبدیلی کے ممکنہ اقدام کو بھارت کے پانچ اگست 2019 کے فیصلے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ سابق وزیرِ قانون بیرسٹر ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ بین الاقوامی قراردادوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ مؤقف اور بھارت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد کے لیے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینا مشکل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا درجہ دینا پاکستان کے آئین کے مطابق بھی یک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی بنا پر گلگت کو وفاق میں نمائندگی نہیں دی جا سکتی ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کے اختیارات اس علاقے میں لاگو کیے جا سکتے ہیں۔ سابق وزیرِ قانون کہتے ہیں کہ گزشتہ وفاقی کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی نے بھی اس پر اتفاق کیا تھا کہ گلگت بلتستان کو مکمل صوبے کا درجہ دینا اور وفاق میں اس کی نمائندگی ہماری عالمی پوزیشن کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اگر پاکستان گلگت کو اپنا صوبہ بناتا ہے تو اس کو بھارت کے پانچ اگست کے اقدام کی مثال کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ظفر اللہ خان نے کہا کہ اگر یہی کرنا تھا تو اس کی پیشکش تو بھارتی وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو نے پاکستان کو 1950 میں کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر سے منسلک ہے اور ایسے کسی اقدام سے نہ صرف کشمیری ناراض ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہمارا مؤقف بھی کمزور ہو گا۔
تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا جو 1948 میں مقامی لوگوں کی مدد سے پاکستان کے زیرِ انتظام آ گیا تھا۔ تقریباً 15 لاکھ آبادی کا یہ خطہ اپنے دیو مالائی حسن، برف پوش پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اور پھلوں سے لدے باغات کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ لیکن اس علاقے کی جعرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔گلگت بلتستان کو 1947 میں ایک انتظامی ڈویژن کی حیثیت حاصل تھی جس کے لیے مختلف ادوار میں بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات ہوتے رہتے تھے۔ تاہم 2009 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اس علاقے کو خود مختاری دی تھی۔ نومبر 2009 میں پہلی بار گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ سال 2015 میں دوسرے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نومبر 2020 میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
