گوادر: چینی شہریوں کی گاڑی پر خودکش حملہ، دو بچے ہلاک
گوادر میں حکام کے مطابق ایک خودکش دھماکے میں دو بچے ہلاک اور ایک چینی ورکر سمیت تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق جمعے کی شام جس جگہ دھماکہ ہوا اس سی علاقے میں ایک سٹرک کی تعمیر کی جارہی تھی۔ اس منصوبے پر کام کرنے والوں میں چینی باشندے بھی شامل ہیں۔
پولیس نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں جمعے کو چینی شہریوں کو لے جانے والی ایک گاڑی پر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں دو بچے ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے تصدیق کی کہ ’حملے میں دو بچے ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔‘پولیس کے مطابق دھماکا شام سات بجے کے قریب گوادر کے ایسٹ بے روڈ پر ہوا، جس میں چینی شہری معمولی زخمی ہوئے۔
دھماکے کی اطلاعات ملتے ہی سیکورٹی فورسز اور ریسکیو کارکن جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جبکہ ایف سی اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔
Strongly condemn suicide attack on Chinese nationals Vehicle in #Gwadar.
2 children died who were playing nearby & one Chinese sustained minor injuries.
3 persons injured including driver
Police & CTD teams are on the crime scene.
Investiga launched.Innocent Children,Afsos
— Liaquat Shahwani (@LiaquatShahwani) August 20, 2021
چین گوادر سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت مختلف پروجیکٹس پر کام کر رہا ہے۔
گذشتہ ماہ 14 جولائی کی صبح برسین کے مقام پر ہونے والے اس دھماکے میں نو چینی شہریوں اور دو ایف سی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک جبکہ 26 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
رواں ماہ بلوچستان میں ہونے والا یہ دوسرا دھماکہ ہے۔ اس سے قبل آٹھ اگست کو سرینا ہوٹل کے قریب ہالی چوک پر ہونے والے دھماکے میں دو پولیس اہلکار چل بسے تھے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ 15 اگست کو بلوچستان کے ضلع لورالائی کے قریب فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک جوان شہید اور میجر سمیت 2 زخمی ہوگئے تھے۔
اس سے قبل 8 اگست کو کوئٹہ میں جناح روڈ کے قریب تنظیم چوک پر سرینا ہوٹل کے سامنے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 8 اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے دھماکے میں پولیس اہلکار کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم چوک پر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، جہاں 2 اہلکار جاں بحق اور 8 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، دہشت گرد بلوچستان کے امن خراب کرنا چاہتے ہیں اور خوف و ہراس بھیلانا چاہتے ہیں۔لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ حکومت پرامن بلوچستان کے حالات خراب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو بھی کوئٹہ کے زرغون روڈ پر سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکا ہوا اور اس کے نتیجے میں 4افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے تھے۔
بلوچستان پولیس کے انسپکٹرجنرل (آئی جی) طاہر رائے نے ڈان ڈاٹ کام کو سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ہوٹل کے اطراف کو گھیرے میں لیا گیا ہے اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو واقعے کی تفتیش کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ دھماکا گاڑی میں نصب مواد سے ہوا اور ہمارے سی ٹی ڈی کے عہدیدار اندر موجود ہے۔بعد ازاں 24 مئی کو قمبرانی روڈ پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک بچے اور سیکیورٹی اہلکار سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے تھے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) سریاب روڈ نے بتایا تھا کہ دھماکا خیز مواد سڑک کے کنارے نصب تھا جس کے پھٹنے سے ایک سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا۔
رواں برس فروری میں کوئٹہ میں ڈی سی آفس کے قریب انسکومب روڑ پر بم دھماکے سے 2 افراد جاں بحق اور 5 شہری زخمی ہوگئے تھے۔پاک فوج اور ایف سی سمیت سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
