حمزہ عباسی شوبز انڈسٹری میں واپسی بارے کنفیوژڈ کیوں؟

شوبز انڈسٹری کے جانے پہچانے نام حمزہ علی عباسی کی شوبز میں واپسی کے متعلق ایک مرتبہ پھر خبریں گرم ہیں۔ دین اسلام کی تبلیغ کی خاطر شوبز دنیا چھوڑنے والے حمزہ عباسی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مبہم انداز میں بتایا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ اب دوبارہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ بن سکیں گے لیکن ابھی وہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے اور کنفیوژڈ ہیں۔ ایک
حالیہ انٹرویو میں انھوں نے فنون لطیفہ، ازدواجی زندگی اور مذہب پر گفتگو کی۔ انہوں نے سماجی مسائل اور بے راہ روی جیسے موضوعات پر بھی کھل کر بات کی۔ تاہم وہ خود یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ شوبز انڈسٹری میں واپس آئیں گے یا نہیں۔اس سےپہلے ستمبر 2020 میں حمزہ علی عباسی نے شوبز میں واپسی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دو مختلف منصوبوں کی تیاری میں مصروف ہیں تاہم انہوں نے مذکورہ منصوبوں سے متعلق کوئی وضاحت نہیں دی تھی۔حمزہ علی عباسی نے نومبر 2019 میں تبلیغ اسلام کی خاطر شوبز سے کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا۔ تب سے اب تک حمزہ علی عباسی کو کسی بھی ڈرامے ، گانے ، فلم یا شو میں اداکاری یا میزبانی کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا البتہ وہ ٹی وی پر انٹرویو دیتے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے غیر واضح انداز میں کہا کہ انہیں مستقبل کے منصوبوں سے متعلق کوئی علم نہیں تاہم وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ وہ شوبز میں مشکل ہی واپسی کریں۔حمزہ علی عباسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر مرد فحاشی اور بدکاری میں ملوث ہیں اور وہ اس کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مذہب سے لگائو کے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ میں حادثاتی طور پر مذہب اسلام سے نہیں جڑا بلکہ شروع دن سے ان میں یہی سوچ موجود تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر شکر ادا کیا کہ ان کی بہن ، والدہ اور اہلیہ بھی انہیں دین اسلام پر چلنے کی ہدایات کرنے سمیت ان کا ساتھ دیتی رہتی ہیں۔انہوں نے اپنی کتاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کتاب کا پہلا مسودہ لکھ لیا ہے اور دوسرے پر کام جاری ہے ،جلد ہی شائقین ان کی کتاب کو پڑھ سکیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے عمران خان کی تعریف کی اور کہا کہ اگرچہ وہ وزیراعظم سے زیادہ متاثر نہیں ہیں تاہم وہ انہیں اچھے اور مذہبی سیاستدان لگتے ہیں کیوںکہ وہ اعلیٰ عہدے پر رہتے ہوئے مذہب اسلام کی بات کرتے ہیں تاہم وہ ان کی کچھ باتوں سے اختلاف بھی کرتے ہیں۔
شادی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر حمزہ علی عباسی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی شادی سے خوش ہیں۔ حمزہ نے کہا کہ مذہب اسلام میں 4 شادیوں کی اجازت دی گئی ہے تاہم ساتھ ہی سختی سے بیویوں میں عدل و انصاف کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد بیویوں میں عدل و انصاف نہیں کر سکتا تو بہتر یہی ہے کہ وہ ایک ہی شادی کرے۔ حمزہ علی عباسی کی بیویوں میں عدل و انصاف اور چار شادیوں کی بات پر سوشل میڈیا میں بھی نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ حمزہ علی عباسی نے کیریئر کا آغاز 2006 میں تھیٹر سے کیا تھا بعد ازاں انہوں نے ‘مڈ ہاؤس اینڈ دی گولڈن ڈول’ نامی فیچر فلم کی ہدایات بھی دیں۔وہ فلم ‘وار’ ، ’’میں ہوں شاہد آفریدی‘‘، ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘اور ’’پرواز ہے جنون‘‘ جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں ۔اداکار کا پہلا ڈرامہ ‘میرے درد کو جو زبان ملے’ 2012 میں ریلیز ہوا، اس کے بعد انہوں نے ‘پیارے افضل’ اور ‘من مائل’ جیسے کامیاب ڈراموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔
انہوں نے اگست 2019 میں اداکارہ نیمل خاور سے شادی کی تھی جس کے بعد سے دونوں میاں بیوی نے شوبز سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے ، دونوں کے ہاں اگست 2020 میں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔
