عورت مخالف خلیل قمر نے فیمنزم کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے

فیمنزم کو یورپی اور غیر ملکی ایجنڈا قرار دینے اور فیمینسٹوں کیخلاف ٹی وی سکرین پر بحث و تکرار کرنے والی شخصیت خلیل الرحمٰن قمر نے حیرت انگیز طور پر پہلی مرتبہ فیمنزم اور فیمنسٹ کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں نہ صرف درست قرار دے دیا ہے بلکہ یہ بھی تسلیم کیا کہ ہمارے ہاں عورت کی عزت و حرمت محفوظ نہیں۔
حال ہی میں لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکر لڑکی پر سینکڑوں افراد کے حملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ ’فیمنسٹ‘ درست کہتی ہیں کہ پاکستان میں عورتیں محفوظ نہیں ۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان کے قریب ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کو مجمع کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ڈرامہ نگار کا کہنا تھا کہ انہیں جب سے مذکورہ واقعے کا علم ہوا ہے وہ تب سے یہی سوچ رہے ہیں کہ وہ اس پر کیسے اور کیا بات کریں؟ انہوں نے خاتون پر حملہ کرنے والے افراد کو ’غنڈے‘ کہتے ہوئے واقعے کو ملک کی بدنامی کا باعث قرار دیا اور کہا کہ مذکورہ سانحے کے بعد کوئی کیسے عالمی میڈیا کا سامنا کرے گا اور کیسے اس بات کا دفاع کرے گا کہ اسلامی ملک میں ایک خاتون پر 400 مرد حضرات نے حملہ نہیں کیا؟
ڈرامہ نگار کا کہنا تھا کہ عالمی میڈیا اور لوگ سوال کریں گے کہ یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی وہیں پر ایک نہتی خاتون پر حملہ کیا گیا؟ خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے عاری ہیں کہ متاثرہ خاتون وہاں اکیلی تھیں، وہاں تو لوگوں کا جم غفیر تھا اور افسوس کی بات ہے کہ وہاں کوئی بھی غیرت مند شخص نہیں تھا جس نے اپنی جان پر کھیل کر اس خاتون کی عزت نہیں بچائی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈرامہ نگار نے کہا کہ مذکورہ واقعہ تاخیر سے رپورٹ ہوا جبکہ پولیس اطلاع ملنے کے باوجود کئی گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی اور اس دوران درندے نہتی خاتون کو مسلسل نوچتے رہے۔انہوں نے واقعے میں ملوث افراد کی ذہنی صحت اور تربیت پر سوال اٹھاتے ہوئے والدین، معاشرے، فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا کو بھی قصور وار قرار دیا اور کہا کہ ضرور انہوں نے کہیں نہ کہیں سے ایسی چیزیں سیکھی ہوں گی۔ خلیل الرحمن قمر نے ان افراد پر تنقید کی جو اس واقعے کے بعد کہتے سنائی دیئے کہ ٹک ٹاکر خاتون کو اکیلے مینار پاکستان جانے کی کیا ضرورت تھی؟ خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’فیمنسٹ‘ صحیح کہتی ہیں کہ ملک میں خواتین محفوظ نہیں۔انھوں نے کہا انہیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ ملک میں عورت کی عزت، حرمت اور آبرو محفوظ نہیں ہے اور ایسا کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں ہو رہا بلکہ اب تو مجمع کی صورت میں بدمست لوگ خواتین پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ٹک ٹاکر خاتون کو مینار پاکستان کے قریب یوم آزادی کے موقع پر سیکڑوں افراد نے ہراساں کیا تھا جس کے بعد مذکورہ واقعے کی 17 اگست کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ درج کی گئی تھی۔ لاہور میں لاری اڈہ تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ نے موقف اختیار کیا کہ وہ یوم آزادی کے موقع پر 6 ساتھیوں کے ہمراہ مینار پاکستان کے قریب ویڈیو بنا رہی تھیں کہ 300 سے 400 لوگوں نے ان سب پر حملہ کر دیا۔
ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354 اے ، 382 ، 147 اور 149 کے تحت درج کی گئی تھی۔مذکورہ واقعے کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ شوبز شخصیات سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی واقعہ پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
