خیبرپختونخوا میں گورنر راج کےلیے مشاورت ہوئی ہے : گورنر فیصل کریم کنڈی

 

 

 

 

 

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے،تاہم فی الحال اس کا وقت نہیں آیا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھاکہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے،تاہم جب اس کی ضرورت یا وقت آیا تو اس بارے میں بات ہوگی۔میڈیا میں گزشتہ 2 برس کے دوران کئی مرتبہ گورنر راج، کابینہ اور گورنرز تبدیل کیےجانے کی خبریں سامنے آچکی ہیں،اس لیے جب عملی طور پر کوئی معاملہ ہوگا تو اسی وقت بات کی جائے گی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال، دہشت گردی اور دیگر مسائل سب کے سامنے ہیں،ایسے میں حکومت کو صوبے کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔پی ٹی آئی اسلام آباد میں احتجاج اور بدامنی کی باتیں کررہی ہے،جب کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ذمہ داری بھی اسی حکومت پر ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ سب سے کم تنخواہ خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکاروں کی ہے،آپ پولیس کو مراعات نہیں دےسکتے اور اپنا تابع بنانا چاہتے ہیں،پرانے وزیراعلیٰ نے بھی یہی کرنے کی کوشش کی تھی۔صوبائی حکومت پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتی ہے،آپ چاہتے ہیں کہ آئی جی،ڈی آئی جیز اور ڈی پی او کی تقرریاں یہ خود کریں،اس قسم کے ایکٹ کےخلاف ہم دیوار بنیں گے۔

لانگ مارچ کے خلاف بھر پور ریاستی طاقت آزمانے کا فیصلہ

گورنر کاکہنا تھا کہ کیا لانگ مارچ ایسے ہوتےہیں،پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اسلام آباد میں گپیں ماررہے ہیں،لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں ہے، تحریک انصاف کے لوگ اب راہ فرار اختیار کررہے ہیں،پی ٹی آئی کے لوگ خود گرفتاریاں دےرہے ہیں،مجھے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی آج یا کل لانگ مارچ ختم کرنےکا اعلان کردے گی۔

 

 

Back to top button