گھمنڈی CCPO لاہور محکمہ پولیس کے ماتھے کا داغ بن گیا


سی سی پی او لاہور کا چارج سنبھالتے ہی آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا سر لے جانے والے گھمنڈی عمر شیخ موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم کو پکڑنے میں مکمل ناکامی کے باوجود اپنے عہدے پر قائم دائم ہیں حالانکہ پورا پاکستان ان کی برطرفی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
دوسری طرف سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے داغدار کیریئر کا حامل افسر قرار دیے جانے والے عمر شیخ کی رعونت اور پاڈا گیری میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ انہیں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے ملنے والی مکمل سپورٹ اور تعاون ہے۔ آئی جی پنجاب کو کھا کر ڈکار نہ مارنے والے سی سی پی او لاہور کی رعونت اور خودسری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ موٹروے ریپ کیس میں طلبی کے نوٹس ملنے کے باوجود نہ تو لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ہیں اور نہ ہی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے جانے کی زحمت کی ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے موٹروے ریپ کیس میں طلب کیے جانے کے باوجود عمر شیخ کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سمن جاری کرنے اور عدم پیشی پرتحریک استحقاق جمع کروانے کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ 9 ستمبر کو موٹروے پر گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کو عمر شیخ کی طرف سے مورد الزام ٹھہرانے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے انھیں طلبی کا نوٹس بھیجا لیکن نہ تو وہ قائمہ کمیٹی میں پیش ہوئے اور نہ ہی کسی کو پنجاب پولیس کی نمائندگی کیلئے بھیجا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آئی جی موٹر وے کلیم امام پیش ہوئے جس پر کمیٹی کے سربراہ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اگر آئی جی رینک کا افسر پارلیمان کے بلانے پر اجلاس میں شریک ہوسکتا ہے تو پھر ڈی آئی جی کیوں نہیں آ سکتا اور کیا سی سی پی او لاہور ’آسمان سے اترے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ کمیٹی نے گینگ ریپ واقعہ پر سی سی پی او لاہور کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لیے کہا تھا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گینگ ریپ کی تحقیقات سے متعلق عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی تو سی سی پی او لاہور عمر شیخ عدالت میں بھی پیش نہیں ہوئے تھے۔
سینٹ قائمہ کمیٹی کے سربراہ مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی عمر شیخ کی غیر حاضری کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے جبکہ کمیٹی میں شامل دیگر ارکان نے کہا کہ اتنے حساس معاملے پر تمام پارلیمان کے لوگ سخت غصے میں ہیں اور اس کیس کے بارے معلومات حاصل کرنے کے لیے ہی سی سی پی او لاہور کو بلایا گیا تھا، لیکن انھوں نے کسی کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے سی سی پی او کو دوبارہ طلب کرنے کے سمن جاری کرتے ہوئےعمر شیخ کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کی رات کو موٹروے پر گینگ ریپ کے واقعے کے بعد جہاں ایک طرف عوام میں شدید غم و غصہ تھا وہی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے ایک متنازع بیان نے اس میں مزید شدت پیدا کردی تھی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے عمر شیخ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سی سی پی او لاہور نے بونگی مسرتے ہعئے یہ کہا تھا کہ اس خاتون نے رات کے وقت اپنے چھوٹے بچوں کے ہمراہ موٹر وے پر سفر کرنے کا فیصلہ کیوں کیا حالانکہ وہ جی ٹی روڈ کا راستہ بھی اپنا سکتی تھیں۔ بعد ازاں عمر شیخ نے خاتون کے حوالے سے اپنے متنازع بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے عوام کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی خاتون رات کے وقت اکیلے موٹروے پر سفر کرے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او نے کہا کہ خاتون کے شوہر اور اہلخانہ فرانس میں ہیں اور ان کے ذہن میں فرانس کا ماحول تھا جس کی وجہ سے وہ رات میں گھر سے باہر نکلیں، وہ سمجھ رہی تھیں کہ ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح محفوظ ہے جیسا کی فرانس میں ہے۔
سی سی پی او کے ان واحیات بیانات نے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر پھیلا دی تھی اور سیاستدانوں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں کی جانب سے عمر شئخ کو ہٹانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔بعد ازاں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا تھا کہ آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی نے عمر شیخ کو غیر ذمہ دارانہ ریمارکس پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ساتھ ہی عثمان بزدار نے سی سی پی او کے بیان کو ‘غیر ضروری’ قرار دیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا تھا کہ ان کے بیان پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جواب جمع کروانے کے بعد سی سی پی او کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے ریپ کیس بارے مقدمے کی سماعت کے دوران سی سی پی اوکے بیان پر پوری کابینہ کو معافی مانگنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن عمر شیخ کی برطرفی کے عوامی مطالبے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ لاہور کے دوران نہ صرف یہ مطالبہ مسترد کیا ہے بلکہ آئی جی پنجاب کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ عمر شیخ کو بھرپور سپورٹ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button