گیلانی کے بیٹے کی جیت شاہ محمود کے لیے بڑا سیاسی دھچکا

16 اکتوبر کے ضمنی الیکشن میں ملتان کے حلقہ 157 سے پیرشاہ محمود قریشی کی صاحبزادی کی یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کے ہاتھوں 25000 سے زائد ووٹوں سے شکست کو ملتان کے گدی نشین کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سیٹ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کے استعفے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، اس انتخاب میں شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی کے مد مقابل امیدوار علی موسیٰ گیلانی تھے، جنہوں نے مہر بانو قریشی کو لمبے مارجن سے ہرایا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہ محمود کی بیٹی کو شکست دے کر یوسف رضا گیلانی نے ماضی میں اپنی شکست کا بدلہ بھی لے لیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سہروردی نہ تو اپنے خاندان کے پہلے ’شاہ محمود‘ ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان میں اعلیٰ عہدے پر متمکن ہونے والے پہلے فرد ہیں۔ شیخ بہاؤالدین زکریا قریشی ملتانی اور ان کے پوتے شاہ رکن عالم کی اولاد میں سے کئی نامی گرامی اور صاحبانِ اقتدار گزرے ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی کے وقت اس خاندان کے سربراہ کا نام بھی شاہ محمود قریشی تھا جس نے سکھوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا۔ معروف حریت پسند احمد خان کھرل کی گرفتاری اور اس کی بغاوت کو کچلنے میں بھی تب کے شاہ محمود نے اہم کردار ادا کیا اور اسکے عوض انعام اور جاگیریں حاصل کیں۔ ملتان میں گوروں کے خلاف بغاوت کے موقع پر بھی مخدوم شاہ محمود نے معہ اپنے مریدوں کے کمشنر بہادر کا ساتھ دیا۔انگریز سرکار کے لیے ان بیش قدر خدمات کے صلے میں مخدوم شاہ محمود کو تین ہزار روپیہ نقد انعام ملا اور ماہانہ وظیفہ بھی مقرر پایا۔ اسکے علاوہ انہیں 1780 روپے مالیت کی ایک اراضی جاگیر بھی آٹھ کنوئوں کے ساتھ عطا پائی۔ پھر 1860 میں وائسرائے بہادر کی لاہور تشریف آوری کے موقع پر مخدوم کی ذات خاص کے لیے ایک باغ 150روپیہ سالانہ آمدنی کا عطا ہوا جو بھنگی والا باغ کے نام سے مشہور ہوا۔
تاہم ملتان کے حالیہ ضمنی الیکشن میں یہ تمام جاگیریں اور باغات دھرے کے دھرے رہ گئے جب یوسف رضا گیلانی کے بیٹے نے شاہ محمود قریشی کی بیٹی کو شکست فاش دے دی۔ قومی اسمبلی کی 8 نشستوں پر ہونے والے الیکشن میں باقی نتائج تو توقع کے مطابق رہے لیکن ملتان کی وہ نشست جس پر پورے ملک کی نظریں لگی ہوئی تھیں، خاصے اپ سیٹ نتیجہ کا باعث بنی، یہاں دو روایتی خاندانوں کے درمیان مقابلہ تھا، گیلانی اور قریشی خاندان کی نئی نسل آمنے سامنے تھی۔
ایک عام خیال یہ تھا کہ جو لہر تحریک انصاف کے حق میں عمران خان کی مہم کی وجہ سے پیدا ہو چکی ہے، اس کا فائدہ تحریک انصاف کی امیدوار اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی کو بھی ہوگا اور وہ یہ انتخاب آسانی کے ساتھ جیت جائیں گی ، مگر جن سیاسی مبصرین کی اس حلقہ کی صورتحال پر گہری نظر تھی، وہ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ شاہ محمود قریشی کا مہربانو قریشی کو اس حلقہ میں امیدوار بنانا، ان کا ایک بہت بڑا جوا ہے، اس کی کئی وجوہات تھیں، سب سے بڑی وجہ تو یہ تھی کہ خود تحریک انصاف کے اندر اس فیصلے کے لئے حمایت موجود نہیں تھی۔ تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے کھل کر یہ بات کی کہ عمران کا بیانیہ چونکہ موروثی سیاست کے خلاف ہے، اسلئے شاہ محمود کی بیٹی کو ٹکٹ دینا، اس بیانیہ کی نفی ہو گا، پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ مہربانو قریشی کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں تھا ،وہ اچانک اس ضمنی انتخاب کے لئے نمودار ہوئیں اور انہیں امیدوار بنادیا گیا۔ دوسری طرف گیلانی خاندان کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی تھے جو ملتان کے حلقوں کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں ،وہ پہلے بھی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں ان کا عوام کے ساتھ رابطہ بھی رہتا ہے اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم بھی ضمنی انتخاب کے اعلان سے پہلے ہی شروع کر رکھی تھی۔ شاہ محمود قریشی چونکہ یہ سمجھتے تھے کہ حلقہ 157 ان کا آبائی حلقہ ہے، جہاں سے وہ اور ان کے بیٹے کئی انتخابات جیت چکے ہیں، اس لئے انہوں نے پارٹی مفاد میں فیصلہ کرنے کی بجائے ذاتی مفاد میں فیصلہ کرتے ہوئے اپنی اس بیٹی کو امیدوار بنادیا جو سیاسی حلقوں میں ایک غیر معروف اور اجنبی شخصیت کے طور پر سامنے آ ئیں ، شاہ محمود قریشی نے مہر بانو قریشی کو امیدوار تو بنا دیا، مگر انہیں اتنی اجازت نہیں دی کہ وہ ان کے ساتھ انتخابی مہم چلا سکیں، انہیں خواتین کے جلسوں اور کارنر میٹنگز تک محدود رکھا اور خود اپنے بیٹے زین قریشی کے ساتھ مل کر انتخابی مہم چلاتے رہے۔اس کا ووٹرز پر انتہائی منفی اثر ہوا۔
دوسری جانب یوسف رضا گیلانی نے اس بات کو بھی بڑی مہارت سے اجاگر کیا کہ تحریک انصاف تو قومی اسمبلی میں موجود ہی نہیں ہے، مہربانو قریشی بھی اگر منتخب ہوئیں ،تو وہ رکنیت سے استعفیٰ دے دیں گی ، جس سے ایک بار پھر یہ حلقہ عوامی نمائندگی سے محروم رہ جائے گا، دوسری طرف یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دور اقتدار میں ملتان کے لیے کچھ نہیں کیا، کوئی ایک میگا پراجیکٹ بھی وہ اپنے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں ملتان کو نہیں دلوا سکے، خود ان کے حلقے میں یہ تاثر موجود رہا کہ وہ خاص لوگوں کو نوازتے ہیں اور تحریک انصاف کے دیرینہ کارکنوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ جبکہ سید یوسف رضا گیلانی کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ انہوں نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں ملتان کو بے شمار فنڈز دئیے، کئی میگا پراجیکٹ بنے، کئی میگا پراجیکٹس پر کام شروع ہوا اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گیلانی ہاؤس کے دروازے کارکنوں پر ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، لیکن شاہ محمود قریشی نے خود کو ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر کارکنوں سے دور کر رکھا ہے، جو عظمت کے خبط میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس میں بو ہڑ جاتی ہے، علی موسیٰ گیلانی کی جیت سے جہاں گیلانی خاندان کی سیاست کو ایک نئی زندگی ملی ہے، وہاں شاہ محمود قریشی کے لئے یہ شکست مستقبل میں ان کی ناکامیوں کا ایک بڑا سبب بن سکتی ہے، سید یوسف رضا گیلانی کی سیاسی بصیرت نے پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کو اس ضمنی انتخاب کے لیے متحرک کیے رکھا۔ خاص طور پر مسلم لیگ ن جس کا اس حلقہ میں بڑا سیاسی اثر رسوخ ہے، اس کے رہنما پوری شدومد کے ساتھ علی موسیٰ گیلانی کی انتخابی مہم میں شامل رہے ، اس کامیاب انتخابی مہم کے نتیجہ میں نہ صرف مسلم لیگ ن کا ووٹر متحرک ہوا، بلکہ خود پیپلز پارٹی کے ووٹرز میں بھی ایک واضح تحرک نظر آیا، یہ واحد حلقہ ہے، جہاں ضمنی انتخاب میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بہت اچھا رہا، عام انتخابات میں سید علی موسیٰ گیلانی نے یہاں سے 70 ہزار ووٹ لئے تھے اور دوسرے نمبر پر رہے تھے، جبکہ اس بار انہیں ایک لاکھ سات ہزار سے زائد ووٹ ملے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کی امیدوار مہربانو قریشی 82 ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر سکیں ، سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹر گھروں سے کیوں نہیں نکلا اور سیاسی حلقوں کا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹر نے جانتے بوجھتے اپنی پارٹی میں موروثی سیاست کو دفن کر دیا ہے۔
