ہائیکورٹ نے سینیٹ میں شکست کے بعد حفیظ شیخ کی کابینہ میں حیثیت پر سوال اٹھادیا

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے سینیٹ انتخاب ہارنے کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو کابینہ کے غیر منتخب رکن کی حیثیت سے رکھنے پر سوال اٹھایا۔
چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ حقیقی جمہوری ممالک میں لوگ عوامی دفاتر سے (اگر وہ) منتخب نہیں ہوتے تو رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بہتری کےلیے عمل ضروری ہے صرف الفاظ نہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے کہ حفیظ شیخ اپنا بستہ تھامے رہیں گے اور کام ختم ہونے کے بعد ہی وہاں سے جائیں گے۔ چیف جسٹس وزیر اعظم عمران خان کے تمام مشیروں اور معاونین خصوصی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کررہے تھے۔ انہوں نے وفاقی وزیر قانون کے ایک افسر کو وزیر کی جانب سے ادا کیے جانے والے ٹیکس اور پراپرٹیز کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کو ملک میں ایک قابل شخص (کام کےلیے) نہیں مل سکا۔ سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔ ابتدا میں حفیظ شیخ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ کے عہدے سے ڈی فیکٹو وزیر خزانہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ بعدازاں وزیر اعظم نے آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کیے اور حفیظ شیخ کو 6 ماہ کی مدت کےلیے باقاعدہ وزیر مقرر کیا۔ آئین کسی وزیر اعظم کو قومی اسمبلی کی پانچ سالہ میعاد کے دوران کسی بھی غیر منتخب شخص کو 6 ماہ کےلیے ایک بار وفاقی وزیر کے طور پر مقرر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایک وکیل ندیم سرور نے گزشتہ سال یہ درخواست دائر کی تھی جس میں تمام مشیروں اور معاونین خصوصی کو اس میں فریق بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جواب دہندگان قومی اسمبلی کے ممبر نہ ہونے کے سبب وفاقی حکومت کے اختیار اور طاقت کا استعمال نہیں کرسکتے جو عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوہری شہریت والوں کی خصوصی معاونین کی تقرری بھی پاکستان کے قومی مفاد اور دفاع کے منافی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button