ہماری درسی کتابوں میں ڈکٹیٹرز کو ہیرو کون بناتا ہے؟


پاکستانی درسی کتب میں گذشتہ کئی عشروں سے پڑھائی جانے والی مسخ اور ادھوری تاریخ کی وجہ سے پاکستانی قوم اپنی آزادی کے 73 برس بعد بھی منزل کی بجائے راستے کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ ظلم تو یہ یے کہ ہماری درسی کتب میں جمہوریت کی بجائے آمریت کو اور سیاستدانوں کی بجائے فوجی آمروں کو نجات دہندہ بتایا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ہمارے نوجوانوں کو امن و آشتی سکھانے کی بجائے ہاری ہوئی جنگوں کے جھوٹے قصے پڑھا کر متشدد اور جنگجو بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کی معروف تاریخ دان پروفیسر خورشید کمال عزیز عرف کے کے عزیز مرحوم اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی طلبہ کے لیے درسی کتب تصنیف کرنے والے حاکم وقت کے ساتھ ساتھ حاضر سروس جنرل کو بھی خراج تحسین پیش کرنا خود پر فرض کر چکے ہیں۔ کسی بھی کتاب میں ایسی چیز پڑھنا قطعاً خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔ درسی کتب میں ان کی موجودگی نوجوانوں کی ذہنی کوفت کا باعث بنتی ہے۔ تابعدار اور فرمانبردار قسم کے پروفیسروں کا درباری خوشامدیوں کا سا کردار ادا کرنا بہت تکلیف دہ لگتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں طلباء کو بتایا گیا کہ جنرل صاحب نیک اور پرہیزگار تھے۔ لوگ ان سے محبت کرتے تھے چنانچہ انہوں نے ایوب خان کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز کیا اور اظہار تشکر کے طور پر انہیں دوبارہ صدر منتخب کیا۔
کے کے عزیز کے مطارق جنرل ضیاء الحق کے دور میں سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو باور کرایا گیا کہ جنرل ضیاء نیک اور خدا ترس انسان ہیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ اس ملک میں دین اسلام نافذ کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کے قوم سے کیے گئے وعدے کو پورا کر دیا۔ صرف یہی نہیں انہوں نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنا دیا۔ یہاں تک لکھا گیا کہ اللہ رب العزت نے جنرل ضیاء الحق کا اس مقصد کے لیے خود انتخاب کیا تھا۔ یہ اور بات کے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں تختہ دار پر لٹکانے والے نیک اور پرہیز گار آمر مطلق جنرل ضیاء الحق کا عبرتناک انجام ہوا اور وہ ایک جہاز کے حادثے میں کوئلہ بن کر جہنم رسید ہوا۔
ہماری درسی کتب کے دیگر کئی ایک اسباق یہی طرزِ فکر ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی قیادت ملک پر حکومت کرنے کے لیے اناڑی ناموزوں اور نالائق ہے اور ناکام سیاستدانوں کو منتخب کرنے والے لوگ جمہوریت کے لئے غیر موزوں ہیں۔ یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ ہمارا موجودہ جمہوری نظام بذات خود مغرب سے درآمد کیا گیا ایک ایسا نظام ہے جس کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں۔ خیال رہے کہ درسی کتب میں اس نظام کا کوئی متبادل بھی پیش نہیں کیا جاتا اور یوں بیچارہ طالبعلم چکرا جاتا ہے۔ درسی کتب میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر مسلح افواج دیکھیں کہ سویلین حکومت اطمینان بخش کارکردگی نہیں دکھا رہی تو فوج اس کا تختہ الٹنے کا ماورائےآئین اختیار رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ ہر مرتبہ عدلیہ بھی نظریہ ضرورت سے کشیدہ بنیاد پر فوجی جرنیل کے قبضہ کرنے کا جواز پیش کر دیتی ہے۔ تاہم کچے ذہن والے معصوم طلباء اس عمل اور اس کے لوازمات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ درسی کتب میں طلبہ کو یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ فوج کے پاس برسہا برس تک حکومت کرنے کا حق ہے کیونکہ روایتی طور پر ہمارے بدعنوان سیاستدان ملک تباہ کر دیں گے۔ اسی فارمولے کے تحت پاکستان میں اب جمہوریت کی بجائے ایک ہائبرڈ نظام حکومت قائم کر دیا گیا ہے جس میں فوج اپنے سلیکٹڈ وزیر اعظم کے ذریعے بیک سیٹ ڈرائیونگ کر رہی ہے۔
مذید افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری درسی کتب میں طلبہ کو یہ اسباق بھی پڑھائے جاتے ہیں کہ حکام بالا کا بلا چون و چرا حکم ماننا اچھی عادت ہے۔ کسی بھی صورتحال میں سوال کی جسارت کرنا قابل تعریف نہیں۔ پاکستان کے لیے بطور نظام حکومت فوجی آمریت ہی سازگار ہے اور اس کی وجہ سے سے ملک میں استحکام اور خوشحالی آتی ہے۔ یہ بھی پڑھایا جاتا یے کہ شہریوں کو اپنے حقوق اور اپنی خواہشات ایک شخص کی خوشنودی کے تابع کرنے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس نے شہریوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار بزور بازو حاصل کیا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہماری مسخ شدہ درسی کتب طلبہ کو جمہوریت مخالف بناتی ہیں۔ یہ کتب طلبہ کو عوام کی عوام پر عوام کے لئے حکومت کے بارے میں یا ووٹ دینے کے جواز بارے کچھ نہیں بتاتیں۔ نہ ہی یہ کتابیں انہیں اچھے شہری بننے کی راہ دکھاتی ہیں۔ پاکستان میں دوران تعلیم اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ نوجوان نسل سے مستقبل کی سیاسی قیادت ہرگز نہ ابھرنے پائے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ تعلیمی نظام کے ذریعے لاکھوں تعلیم یافتہ غلام پیدا کیے جا رہے ہیں نہ کہ ذمہ دار شہری۔
اسکے علاوہ ہماری درسی کتب میں جنگوں کی عظمت بھی جابجا ملتی ہے۔ پروفیسر خورشید کمال عزیز کے مطابق جب درسی کتابیں حکومت کے ترجمان بن جائیں اور حکومت اکثر فوج کی ہو تو پھر ناممکن ہے کہ درسی کتب میں جنگ کے ذکر کو نمایاں مقام نہ دیا جائے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ عسکری ذہنیت رکھنے والی قوم عالمی امن کی داعی نہیں ہوسکتی۔ لڑی گئی جنگوں کا سرسری سا ذکر کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی بجائے مصنفین ایک چھوٹی سی کتاب کے کئی کئی صفحات بلکہ بعض اوقات پورے کا پورا باب مختلف محاذوں پر لڑی گئی جنگوں کی تفصیل کی نذر کر دیتے ہیں اور ہاری ہوئی جنگوں کو جیتی ہوئی جنگیں بتا دیتے ہیں۔ ہماری درسی کتب لکھنے والے جاھلوں کے خیال میں طلبہ کے لیے ملکی معیشت، سماجی حالات اور انتظامی امور سمجھنے کی بجائے جنگ و جدل کا بیان زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ بھارت کے ساتھ لڑی گئی 1948 کی کشمیر جنگ کام مشکل ہی کہیں ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ یہ جنگ اس وقت ہوئی جب ایک سویلین حکومت اقتدار میں تھی۔ انڈیا کے ساتھ 1965 کی جنگ کا بھرپور انداز میں تذکرہ کیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت جنرل ایوب خان ملک کے حکمران تھے۔ تاریخ مسخ کرنے والوں نے درسی کتب میں 1965 کی جنگ میں پاکستان کو فاتح قرار دیا ہے حالانکہ صورتحال اس کے برعکس تھی۔ اسی طرح 1971 کی جنگ کو بھی پاکستان کی عسکری فتح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا تھا۔
مجموعی طور پر درسی کتب میں طلبہ کو ملک کے آئین، سیاست اور معیشت کی بجائے انڈیا کے ساتھ جنگوں کے بارے میں زیادہ بتایا جاتا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق جنگوں پر خصوصی توجہ کے بہت سے مضمرات ہیں۔ درسی کتب میں میں جنگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلح افواج اور طالع آزما جرنیلوں کو بے پناہ خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے جس سے فوجی حکومت کے تصور کو تقویت ملتی ہے اور سویلین حکومت کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ جنگوں پر زور دینے سے طلبہ کی دلچسپی اور ان کی توجہ کا ارتکاز سیاسی معاملات کی بجائے عالمی سکیورٹی کی طرف ہو جاتا ہے۔ بین السطور دیا جانے والا پیغام یہ ہے کہ صرف مسلح افواج ہی عوام کی نجات دہندہ ہو سکتی ہے اور سیاستدان بیکار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ تدبیر طلبہ کے ذہن پر درسی کتب کے مصنفین کی سوچ سے کہیں گہرے اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ وہ پہلا اثر یہ لیتے ہیں کہ عالمی مسائل حل کرنے کا واحد طریقہ تشدد اور طاقت کا استعمال ہے۔ درسی کتب سفارتکاری، مذاکرات اور قیام امن کیلئے مشکل ہی بات کرتی ہے۔ جنگوں کی اہمیت بیان کرنے سے مسلح افواج میں نئی بھرتی میں مدد ملتی یے۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ پاکستان کے آئین کو چار مرتبہ اپنے بوٹوں تلے روندنے والے اقتدار کے بھوکے جرنیلوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ پاکستانیوں کے اصل ولن یہی لوگ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button